پاکستان ساختہ طبی آلاتِ علاج و معالجہ

پاکستان ساختہ طبی آلاتِ علاج و معالجہ
 پاکستان ساختہ طبی آلاتِ علاج و معالجہ

  

میڈیکل شعبے سے متعلق آلاتِ جراحی تو ایک عرصے سے پاکستان میں بنائے جا رہے ہیں۔ سیالکوٹ کے علاوہ کراچی اور دوسرے شہروں میں بھی سرجری سے متعلق ساز و سامان نہ صرف تیار کیا جا رہا ہے بلکہ اس کو برآمد بھی کیا جا رہا ہے۔ لیکن یورپ اور امریکہ کے جن کارخانوں میں یہ آلات تیار کئے جاتے ہیں، ان سے مقابلہ کیا جائے تو ہمارے آلاتِ جراحی ان کی برابری نہیں کرتے…… اس کی دو وجوہات ہیں …… ایک یہ ہے کہ ہمارے ہاں آلات سازی کی جن فیکٹریوں میں یہ سامان تیار کیا جاتا ہے ان میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ (R&D) کا شعبہ اول تو سرے سے ناپید ہے اور اگر کہیں ہے بھی تو بس برائے نام ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ سرجری میں جو آلات کام آتے ہیں ان کی پروڈکشن کا حجم اور ان کی شکل و صورت وہی ہے جو آج سے دس بیس برس پہلے تھی۔ مثال کے طور پر وزیرآباد اور سیالکوٹ میں کٹلری (چاقو چھریاں) بنانے کے جو کارخانے ہیں ان کی پروڈکشن آج بھی ویسی کی ویسی ہے جو کئی برس پہلے تھی۔ ہمارے کارخانہ دار شائد جدت کو بدعت سمجھتے ہیں اور ایک ہی طرح کا ساز و سامان تیار کئے جا رہے ہیں جبکہ فطرتِ انسانی بہتر سے بہترین کی طلبگار ہے لیکن ہم قدامت پرستی کو ترجیح دیتے ہیں۔

مثال کے طور پر گجرات میں بجلی کا پنکھا جو آج سے 50برس پہلے تیار کیا جاتا تھا، وہ کم و بیش آج بھی وہی ہے۔ اگر کوئی تبدیلی کی بھی گئی ہے تو بس برائے نام ہے۔ 1970ء کے عشرے میں میری پوسٹنگ کھاریاں میں تھی۔ ایک روز میں گجرات میں پاک فین بنانے والی فیکٹری میں جا نکلا۔ وردی میں تھا اس لئے فیکٹری کا مالک مجھے جیپ سے باہر نکلتا دیکھ کر بڑی مشکل سے اپنے آرام دہ دفتر سے باہر نکلا، میرا استقبال کیا اور اپنے منیجر کو بلا کر کہا: ”میجر صاحب کو ذرا فیکٹری دکھاؤ“…… انہوں نے مجھے فیکٹری کے مختلف حصے دکھائے اور بریفنگ دی۔ لیکن میں نے جب یہ پوچھا کہ آپ کے ہاں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کا کوئی سیکشن / شعبہ بھی ہے تو وہ کہنے لگے کہ اس کی ہمیں ضرورت ہی نہیں۔ ہم خود باہر سے درآمد شدہ پنکھوں کو دیکھ کر اپنے پنکھوں میں تبدیلیاں کرتے رہتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ہماری برآمدات کا سکیل سال بہ سال بڑھتا جا رہا ہے۔ میں نے پوچھا کن ممالک کو آپ کا سامان جا رہا ہے تو انہوں نے بعض عرب ممالک کا نام لیا اور کئی افریقی ملکوں میں بھی اپنے پنکھوں کی مانگ کا ذکر کیا۔ میں نے کہا کہ آپ کی برآمدات میں اضافے کی وجہ کیا ہے تو کہا کہ ہمارے پنکھے غیر ملکوں کے پنکھوں سے قیمت میں سستے ہوتے ہیں ……!

ہم باتیں کرتے کرتے فیکٹری مالک کے دفتر میں چلے گئےّ ان سے گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ ان کو اپنی پروڈکشن کے معیار سے کوئی علاقہ نہ تھا۔ وہ صرف یہ دیکھ کر مطمئن تھے کہ ان کے ”پاک فین“ کی مانگ اندرونِ ملک بھی کم نہیں ہوئی اور بیرونی ممالک سے بھی ہر سال زیادہ آرڈرز آ جاتے ہیں …… اسی طرح گوجرانوالہ اور سیالکوٹ کی کئی فیکٹریوں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ ان سب کا یہی حال تھا۔ کس کس کا ذکر کیا جائے۔……اب البتہ برف پگھل رہی ہے…… ایشیائی اور افریقی ممالک کہ جن کو ہمارے کارخانے اپنی مصنوعات فروخت کیا کرتے تھے، انہوں نے اب چین کا رخ کر لیا ہے۔ چین نے آکر سب کو مات دے دی۔ کیا مشرق اور کیا مغرب، ہر طرف چینی درآمدات کے انبار نظر آتے ہیں۔ پچھلے دنوں نیلا گنبد لاہور میں جانے کا اتفاق ہوا۔ اپنے نواسے کی ایک سائیکل خریدنی تھی۔ وہاں جا کر دیکھا تو چین سے درآمد شدہ سائیکلوں کے رنگ و روپ اور ان کی شکل و صورت ایک دوسرے سے اتنی مختلف اور دیدہ زیب تھی کہ ہمارے لئے یہ مشکل ہو گیا کہ کون سا ماڈل خریدا جائے…… چین نے آکر سہراب، ایگل اور ریلے وغیرہ کو دیس نکالا دے کر ساری سائیکل مارکیٹ پر قبضہ کر لیا تھا……

آپ پاکستان کے علاوہ کسی بھی مشرقی یا مغربی ملک میں چلے جائیں، روزمرہ استعمال کی تمام اشیاء آپ کا دامن توجہ کھینچنے کے لئے موجود ہوں گی اور سب ”چینی ساختہ“ ہوں گی…… یورپ اور امریکہ نے اب چین کا مقابلہ کرنے کے لئے بھاری مشینری کی پروڈکشن پر زور دیا ہے اور بالخصوص دفاعی اسلحہ جات اور ساز و سامان (Equipment) پر بھرپور توجہ دی ہے۔ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے بجٹ کو دگنا تگنا کر دیا ہے جس سے پیداواری لاگت تو بڑھ گئی ہے اس لئے اس حساب سے قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ چین اس شعبے میں ابھی بہت پیچھے ہے۔ پاکستان میں بھی اب اس پہلو پر توجہ دی جا رہی ہے۔ ملک کے کارخانہ دار اور فیکٹری مالکان اپنے بچوں کو اعلیٰ پیشہ ورانہ تعلیم کے لئے باہر کے ملکوں میں بھیج رہے ہیں جس کے سبب اب پاکستانی مصنوعات میں بھی جدت، ندرت، دلکشی اور پائیداری دیکھنے میں آ رہی ہے۔

میں اگلے روز کسی ٹی وی چینل پر وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی کی گفتگو سن رہا تھا۔ کرونا وائرس کے سلسلے میں مختلف طبی آلات و ادویات اور سازوسامان کی بات ہو رہی تھی۔ فواد چودھری کہہ رہے تھے کہ جب یہ وائرس ہمارے ہاں پھیلنا شروع ہوا تو تین چار چیزوں کی اشد اور فوری ضرورت تھی۔ ان میں سب سے پہلے ماسک اور سیناٹائزر، پھر ٹیسٹنگ کِٹ اور پھر وینٹی لیٹر شامل تھے…… یہ تینوں چیزیں پاکستان میں دستیاب نہ تھیں۔ ہم صرف ماسک بنا رہے تھے جو سموگ کے موسم میں استعمال کئے جاتے تھے اور اتنے سستے تھے کہ ایک ماسک صرف 5روپے میں مل جاتا تھا۔ جہاں تک سیناٹائزر کا تعلق ہے تو میں نے اول اول جب اس وائرس کی ہلاکت انگیزی کا شہرہ سنا تو بازار سے سیناٹائزر منگوایا۔

ایک دو بوتلیں اب بھی گاڑی میں پڑی ہوئی ہیں اور باقی استعمال ہو گئی ہیں۔ اس سفید پلاسٹک کی بوتل میں سفید رنگ کا محلول سا ہے جس کا وزن 100 ایم ایل (ملی لیٹرز) ہے۔ اس کا نام Vivant ہے اور نیچے لکھا ہوا ہے کھیرے کا ہینڈ سینی ٹائزر (Cucumber Hand Sanitizer) …… ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ یہ 99.99 فیصد جراثیم کش ہے اور اس میں وٹامن E بھی شامل ہے۔ یہ استنبول (ترکی) کا بنا ہوا ہے اور اس بوتل کی اس وقت قیمت 400 روپے تھی (جو بعد میں بڑھ کر 1000 روپے تک چلی گئی)…… ظاہر ہے جس پارٹی نے بھی اس کو امپوٹ کیا اس نے خوب مال بنایا اور پاکستانیوں کو لوٹا۔اب یہی Sanitizer پاکستان میں بنایا جا رہا ہے اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے معیار کے مطابق ہے اور پاکستان اس کو بیرونی ممالک کو برآمد بھی کر رہا ہے۔

ماسک اور سیناٹائزر کے بعد تیسری چیز جو کرونا وائرس کے اس دورِ پُرآشوب میں استعمال کی جا رہی ہے، وہ ٹیسٹنگ کِٹ ہے۔ اس کی ایک بڑی کھیپ چین سے درآمد کی گئی تھی۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ چند روز پہلے PIA کے طیارے دھڑا دھڑ ان آلاتِ علاج و معالجہ کو چین سے لا کر پاکستان میں لینڈ کر رہے تھے۔ چین نے نہ صرف ٹیسٹنگ کِٹیں فراہم کیں بلکہ خواتین اور مرد ڈاکٹروں کو بھی بھیجا جنہوں نے پاکستانی ڈاکٹروں کے ساتھ مل کر کرونا مریضوں کے علاج میں ہماری مدد کی…… ہم چین کے شکر گزار ہیں …… لیکن اب یہ ٹیسٹنگ کِٹس (Testing Kits) پاکستان میں تیار ہو رہی ہیں۔ ہماری نیشنل یونیورسٹی آف سائنس و ٹیکنالوجی (NUST) میں بنائی گئی یہ کِٹس، چین کی کِٹس سے بہتر پائی گئی ہیں اور بین الاقوامی ٹیسٹنگ اداروں نے ان کو (Made in China) سے زیادہ کارگر اور بہتر قرار دیا ہے…… آخر میں وینٹی لیٹروں کی بات کریں تو یہ بہت نازک، ٹیکنیکل اور پیچیدہ آلات سے لیس ایک مشین ہے جو ایسے مریضوں کو مصنوعی سانس لینے کے لئے لگائی جاتی ہے جن کو سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔

کرونا وائرس کا حملہ جب شدید ہوتا ہے اور مریض قریب المرگ (Critical) ہو جاتا ہے تو اس کو وینٹی لیٹر پر ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ گویا علاج کی آخری منزل اور مرحلہ ہے جس کے بعد مریض یا تو سنبھلنا شروع ہو جاتا ہے یا انتقال کر جاتا ہے…… یہ کافی مہنگی مشین ہے اور جیسا کہ آپ ہر روز ٹیلی ویژن چینلوں پر دیکھتے اور سنتے رہتے ہیں پہلے پہل ان کی بہت کم تعداد ہمارے ہسپتالوں میں موجود تھی اور جو تھی بھی تو ان میں 15،20 فیصد وینٹی لیٹر خراب ہو چکے تھے اور چونکہ ان کو مرمت اور چالو کرنے کا کوئی کاریگر ہمارے ہاں نہیں تھا اس لئے وہ ناکارہ سمجھ کر سٹوروں میں رکھ دیئے گئے تھے۔ اب پاکستانی ڈاکٹروں اور انجینئروں نے مل کر ان کو مرمت کر دیا ہے اور وہ سارے چالو (ورکنگ) حالت میں آ چکے ہیں۔

پاکستان کی آبادی 22کروڑ ہے۔ ہمارے ہاں اول اول ان چاروں آلات (ماسک، سیناٹائزرز، ٹیسٹنگ کِٹس اور وینٹی لیٹرز) کی سخت کمی تھی۔ جس شدت اور سرعت سے کرونا پھیل رہا تھا اس کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمارے پاس ٹیسٹنگ کِٹس، وینٹی لیٹرز، آئسولیشن وارڈز / ہسپتال، قرنطینہ ہسپتال، میڈیکل عملے اور نیز انجینئرنگ عملے کی شدید قلت تھی…… لیکن جس تیزی سے پاکستان نے اس بیماری سے لڑنے کے لئے مختلف محاذوں پر پیشرفت کی ہے، وہ قابلِ صد ستائش ہے۔

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے اپنی گفتگو میں ایک اور شکوہ بھی کیا جو یہ تھا کہ حکومت اس محکمے (سائنس و ٹیکنالوجی) کو اتنے فنڈز مہیا نہیں کرتی جن کی ضرورت ہے۔ اور یہ وہی بات ہے جو میں نے اس کالم کی ابتداء میں کہی تھی کہ ہمارے ہاں مختلف آلات و اوزار و ادویات بنانے کے لئے نہ تو ریسرچ اینڈ ڈویلپ کے شعبے کی طرف کوئی دھیان دیا جاتا ہے اور نہ ضروری مین پاور بیرون ملک بھیج کر اس کو متعلقہ شعبوں کی تربیت دی جاتی ہے…… امید کی جانی چاہیے کہ حکومت وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کو پہلے سے زیادہ بجٹ فراہم کرے گی، یہ مسئلہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔

مزید :

رائے -کالم -