کورونا وائرس…… احتیاط اشد ضروری ہے!

کورونا وائرس…… احتیاط اشد ضروری ہے!

  

چین کا شہر ووہان جہاں سے کورونا وائرس نے دُنیا بھر میں اپنی ہلاکت خیزیوں کا آغاز کیا تھا، آج اس مرض نے نجات پانے کے بعد روشنیوں سے جگمگا اٹھا ہے۔ رب الرحیم سے دُعا ہے کہ دُنیا کے سبھی شہر جو اِس موذی مرض کی لپیٹ میں ہیں جلد اس سے چھٹکارا پائیں اور اس روشنی میں نہائیں جو زندگی، صحت اور تازگی سے پھوٹتی ہے۔

ہمارے وطن ِ عزیز میں کورونا کی بڑھتی ہوئی یلغار کے باوجود لوگ ناخواندگی، کم علمی اور روایتی ہٹ دھرمی کے پیش نظر اسے سنجیدہ نہیں لے رہے اور اُس عذاب کو دعوت دے رہے ہیں، جو لوگوں کی بے احتیاطیوں کے سبب ان کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ادھر الیکٹرانک اور سوشل میڈیا نے الگ ایک طوفانِ بدتمیزی اُٹھا رکھا ہے۔ وسوسوں اور مخمصوں کی ایک ایسی فضا مسلط کر دی ہے کہ صحیح اور غلط بات کی پہچان مٹتی جا رہی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ایک لگے بندھے منصوبے کے تحت معاشی اور معاشرتی ابتری کو دعوت دی جا رہی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کے تجزیہ و تبصرہ نگاروں نے سب سے زیادہ اودھم مچا رکھا ہے۔

کورونا وائرس کا تریاق ابھی دریافت نہیں ہوا۔ کہتے ہیں ترقی یافتہ ممالک کی سائنسی تجربہ گاہیں اس ضمن میں سر توڑ کوششوں میں مصروف ہیں۔ البتہ ان ممالک میں جہاں روایتی جڑی بوٹیوں کا استعمال معمول کی بات ہے،لوگ مقامی اور دیسی طریقہ علاج سے استفادہ کر رہے ہیں اور اپنے یقین اور بھروسے کی مضبوطی سے شفایاب بھی ہو رہے ہیں۔البتہ احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے اور روایتی طریقہ علاج کے استعمال کے ساتھ ساتھ خوراک پر خاص طور پر توجہ دی جائے۔ایس غذا پر زور دیا جائے تو قوتِ مدافعت میں اضافہ کرے اور بدن کو بیرونی امراض سے محفوظ رکھنے میں ممدو معاون ثابت ہو۔خواتین سے بالخصوص التماس ہے کہ وہ بچوں کو جنک فوڈ سے دور رکھیں اور ایسی غذا پر انہیں مائل کریں جو ان کی صحت و تندرستی کی ضامن ہو۔

تاہم احتیاطی تدابیر ہر حال میں ضروری ہیں جن کے بارے میں ساری دُنیا کے طبی ماہرین متفق ہیں اور لوگوں کو ان پر عمل پیرا ہونے کی نصیحت کرتے ہیں اِس لئے کہ اس جان لیوا مرض کے تریاق کی عدم دستیابی کی صورت میں صرف احتیاطی تدابیر ہیں کہ جن پر عمل پیرا ہو کر ہی اس مرض سے بچا جا سکتا ہے۔حکومتوں کی جانب سے نافذ کیا جانے والا لاک ڈاؤن اس ضمن میں ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ عوام الناس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس پر کما حقہ، عمل کریں،لیکن صد افسوس کہ لوگوں نے اسے ایک زحمت سمجھتے ہوئے مذاق بنا لیا ہے۔

کورونا وائرس ایک سنگین حقیقت ہے اور اسے سنجیدگی سے لینا چاہئے۔ یہ مرض لوگوں پر بلا تخصیص حملہ آور ہو رہا ہے۔ امارت، غربت، اقتدار اور مفلسی کسی کو بھی خاطر میں نہیں لا رہا۔اُن ممالک میں جو ترقی یافتہ کہلاتے ہیں اور جہاں کے معیارِ زندگی پر رشک کیا جاتا ہے وہاں لاشیں سنبھالنا ایک مسئلہ بن رہا ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ وہ ملک اس مہلک وائرس کی زد میں زیادہ آئے ہیں جہاں مذہب خاصی اہمیت رکھتا ہے۔اٹلی اور سپین کی مثال آپ کے سامنے ہے۔

افسوس ہے کہ میرے پیار ے وطن کے لوگوں کی طبیعت میں عجلت اور بے صبری وافر پائی جاتی ہے۔ لاک ڈاؤن ان کی بہتری اور مفاد میں ہے،لیکن لوگ جلد سے جلد اس سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں۔ ہمارے لوگ مسئلے کی گھمبیرتا سے پوری طرح آگاہ نہیں ہیں۔خدانخواستہ کورونا وائرس تیزی پکڑ لے تو پھر اس کا سنبھالنا مشکل ہو جائے گا یہاں تک کہ احتیاطی تدابیر بھی کچھ نہ کر سکیں گی۔ حکومت اپنی ذمہ داریاں حتی الامکان پوری طرح ادا کر رہی ہے، لیکن اُن لوگوں کا کیا کِیا جائے کہ جن کی زبانیں گز بھر لمبی ہیں اور جو اپنی نام نہاد فہم و فراست کے زعم میں تنقید سے باز نہیں آتے۔

بہرحال یہ عالمی وبا اپنی قوت منوا رہی ہے، بتا رہی ہے کہ ایک نادیدہ وائرس کس طرح تہذیب و ترقی، علم و حکمت اور جاہ وجلال کے دعویداروں کو دھول چٹا سکتا ہے۔یہ مرض انسان کی بے ثباتی کو عیاں کر رہا ہے اور اس ذاتِ بے تمہا کی طرف اشارہ کر رہا ہے جو زندہ اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔ یہ مرض اُسی ذات کے اِذن سے رونما ہوا ہے اور اُسی ذات کے حکم سے واپس ہو گا۔پس ہم پر لازم ہے کہ ہم رب ذوالجلال کے حضور سر بسجود ہوں اور اُس سے اس کی رحمت، کرم اور فضل مانگیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -