لاک ڈاؤن، مزدوروں کے گھروں میں فاقے، احساس پروگرام سے بھی امداد نہ ملی

لاک ڈاؤن، مزدوروں کے گھروں میں فاقے، احساس پروگرام سے بھی امداد نہ ملی

  

لاہور(لیاقت کھرل) کرونا کے باعث گھروں میں فاقہ کشی اور غربت کی چکی میں پس کر رہ گئے ہیں۔ کرونا نے بھکاری بنا کر رکھ دیا ہے۔ احساس پروگرام کے لئے چار چار مرتبہ اپلائی کر چکے ہیں، دو تین جگہ سے راشن لینے بھی گئے نہ راشن ملا اور نہ ہی احساس پروگرام کی امدادی رقوم کا ٹیلی فون پر پیغام آیا ہے۔ یہ دُہائی دیہاڑی دار مزدوروں نے ”روزنامہ پاکستان“ کے سروئے میں کیا ہے۔ اس موقع پر محنت کش سرفراز علی نے کہا کہ کرونا کے باعث تقریباً ایک ماہ سے گھروں میں قید ہیں۔ اب تین روز سے مزدوری کے لئے آ رہا ہوں اور تعمیراتی سیکٹر کھلنے کے باوجود مزدوری نہیں مل رہی ہے۔ مزدوراکبر علی نے بتایا کہ کرونا کے باعث گھروں میں فاقہ کشی اور غربت کی چکی میں پس کر رہ گئے ہیں تھوڑی بہت کمائی تھی وہ بھی کرونا کے شروع میں لاک ڈاؤن پر گھروں میں رہنے کے دوران خرچ کر لی ہے اب کئی روز سے گھروں میں راشن نہیں ہے اور مزدوری نہ ملنے پر بھکاری بن کر رہ گئے ہیں۔ کرونا کے باعث لاک ڈاؤن سے مزدوری رُک گئی۔محنت کش وحید اصغر، ابرار شاہ، آصف اور اسامہ نے کہا کہ وہ راجگیروں کے ساتھ مزدوری کرتے ہیں۔ کرائے کے گھر ہیں دو ماہ کا کرایہ اور بجلی اور گیس کے بل جمع ہو گئے ہیں۔ مزدور حاجی شفیع نے کہا کہ حکومت نے تعمیراتی سیکٹر تو کھول دیا ہے لیکن چار روز گزر جانے کے باوجود مزدوری نہیں مل رہی ہے۔ سیمنٹ اور بجری کی دکانیں تاحال نہیں کھلیں۔ مزدور امین نے کہا کہ فیکٹریاں ہی کھل جائیں وہاں ہی دیہاڑی کر لیں لیکن کیا کریں کرونا نے ہر طرف روزی روٹی کے ذرائع کو بند کر رکھ دیا ہے۔ اب تو محلے کا دکاندار اُدھار بھی نہیں دے رہا۔ مزدور نور احمد، نوید نے کہا کہ محلے میں دکانداروں سے اُدھار لیکر گھروں کا سلسلہ چلا رہے ہیں لیکن اس میں بھی مقروض ہو کر رہ گئے ہیں۔ وزیر اعظم کو چاہیے کہ وہ مزدوروں کے اڈے پر بیٹھے مزدوروں کے کوائف لینے کا حکم دیں تاکہ وزیراعظم کے کفالت پروگرام سے مزدور مستفید ہو سکیں۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -