نئی قانون سازی، ایل پی جی قیموں کی تعین کا اختیار سی سی سی کو تفویض

نئی قانون سازی، ایل پی جی قیموں کی تعین کا اختیار سی سی سی کو تفویض

  

لاہور(لیاقت کھرل) ایل پی جی کی قیمتوں کا تعین اوگرا کی بجائے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اختیار میں دیدیا گیا جس میں قیمتوں کا ہر 15 روز بعد جائزہ لیا جائے گاجبکہ ایل پی جی کی خود ساختہ قیمتوں کے تعین کو باقاعدہ جرم قرار دے دیا گیا ہے۔ وزارت پیٹرولیم نے نئی قانون سازی سے اوگرا اور متعلقہ اداروں کو آگاہ کر دیا۔ایل پی جی کے حوالے سے قانون سازی کا مسودہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا جس میں منظوری کے بعد ایل پی جی کی پیداوا اور قیمتوں کا نفاذ عمل میں لایا جائے گا۔وزارت پیٹرولیم کے ذرائع نے بتایا ہے کہ وزارت پیٹرولیم نے ایل پی جی کی قیمتوں کے تعین کیلئے نئے سرے سے قانون سازی کر لی ہے جس میں اوگرا کا ایل پی جی کی قیمتوں کے تعین کا اختیار ختم کر دیا گیا ہے۔ اب ایل پی جی کی قیمتوں کا تعین اور کمی و بیشی اقتصادی رابطہ کمیٹی کریگی۔نئی قانون سازی کے بعدایل پی جی کے ناقص سیلنڈروں کی تیاری اور خریدو فروخت سمیت بلیک میں فروخت بھی نہیں ہو سکے گی۔جبکہ سستے داموں ایل پی جی کی فراہمی کو یقینی بناکر بلیک مارکیٹنگ کا خاتمہ کیا جائے گا۔جس کے لیے اوگرا، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور ایل پی جی کی مارکیٹنگ کمپنیوں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ ایل پی جی کے پلانٹس سے گیس لے کر نکلنے والی گاڑیوں کوجاری کردہ گیٹ پاس پر ایکس پلانٹ قیمت درج کی جائے گی۔ تمام ایل پی جی پلانٹس سے ڈسٹری بیوٹرز کے علاوہ سپلائی فوری طور پر بند کی جائے گی۔ایل پی جی پلانٹس میں پٹرول پرچلنے والی گاڑیوں کا داخلہ ممنوع ہوگا۔

ایل پی جی

مزید :

صفحہ اول -