پاکستان کے ٹیکس ریونیو میں 895ارب روپے کمی کا خدشہ: آئی ایم ایف

پاکستان کے ٹیکس ریونیو میں 895ارب روپے کمی کا خدشہ: آئی ایم ایف

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا کہنا ہے کہکرونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال سے پاکستان کے ٹیکس ریونیو میں 895 ارب روپے کمی کا خدشہ ہے۔آئی ایم ایف کی طرف سے پاکستانی معیشت کے بارے میں جاری کردہ جامع رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال سے معیشت پر مرتب ہونے والے اثرات کے باعث خسارے میں اضافہ ہوگا اور آمدنی میں کمی واقع ہوگی۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 50 کی دہائی کے بعد پہلی مرتبہ شرح نمو منفی رہنے کے خدشات کا اظہار کیا گیا ہے آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق رواں برس 16 ارب 83 کروڑ ڈالر جبکہ اائندہ مالی سال 13 ارب 86 کروڑ ڈالر کی بیرونی ادائیگیاں شیڈولڈ ہیں، پاکستان کو دوست ممالک کے 7 ارب 90 کروڑ ڈالر واپس کرنے ہیں، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین سے پاکستان کو قرضوں میں ریلیف ملنے کا امکان ہے۔پاکستان نے چین کو 3 ارب 48 کروڑ، سعودی عرب کو ڈھائی ارب ڈالر اور متحدہ عرب امارات کو ایک ارب ڈالر کا قرض واپس کرنا ہے، آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کے بعد پاکستان کے ترقیاتی کاموں کے اخراجات متاثر ہوں گے۔عالمی مالیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن سے متاثرہ طبقوں کے لیے ریلیف احسن اقدام ہے اور کاروباری طبقے کے لیے قرضوں کی واپسی موخر کرنا بھی خوش آئند ہے۔عالمی بینک نے آئندہ ماہ پاکستان کے لیے 50 کروڑ ڈالر کی رقم منظور کرنے کا منصوبہ بنالیا تا کہ انسانی سرمایے کے لیے ضروری نظامِ صحت اور تعلیم میں شہری رجسٹریشن اور اہم اعداد و شمار کو بہتر بنایا جاسکے، قومی سماجی تحفظ کے نیٹ ورک کو محفوظ بنایا جاسکے تا کہ وہ مؤثر انداز میں دھچکوں کا سامنا کرسکے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق سیکیورنگ ہیومن انویسٹمنٹس ٹو فوسٹر ٹرانسفامیشن (شفٹ) نامی منصوبہ شہری رجسٹریشن اور اہم اعداد و شمار کا معیار، پیدائش اور موت کے سرٹیفکیٹس کی شرح بہتر بنائے گا اس کے علاوہ منصوبے سے ملک کو انسانی سرمایے کو اکٹھا کرنے کے لیے بہتر منصوبہ بندی کی صلاحیت حاصل ہوگی۔یہ منصوبہ ملک میں بہت صحت کے لیے عالمگیر صحت سہولت پالیسی پر عملدرآمد، حفاظتی ٹیکوں کی پائیداری میں اضافہ، تعلیم کے بہتر معیار، معاشی سرگرمیوں میں خواتین کی شرکت اور پہچان میں اضافے، سماجی تحفظ کے پروگرام کی تشکیل، تعلیم اور غذائی سرگرمیوں میں توسیع، کمزوروں اور غریبوں کو کورونا وائرس سے ہونے والے مالی اثرات سے نمٹنے کے لیے رقم کی منتقلی شامل ہے۔منصوبے کے لیے تیار کردہ دستاویز کے مطابق پاکستان میں میکرو اکنامک خطرات بہت زیادہ ہیں کیوں کہ کورونا وائرس کے اثرات موجودہ استحکام کی کوششوں اور درمیانی مدت کی اسٹرکچرل اصلاحات کو کمزور کردیں گے اور وبا کے باعث مزید دھچکے پہنچائیں گے۔

آئی ایم ایف

مزید :

صفحہ اول -