کرونا کی اب مقامی طور پر منتقلی روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، معید یوسف

کرونا کی اب مقامی طور پر منتقلی روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، معید یوسف

  

اسلام آباد (این این آئی)مشیر قومی سلامتی م معید یوسف نے کیا ہے کہ ہماری پہلی کوشش تھی باہرسے آنیوالی وبا کو روکا جائے،اب ہم لوکل ٹرانسمیشن کوروکنے کی کوشش کررہے ہیں،پاکستان میں کوروناسے اموات کی شرح1.9فیصدہے، اللہ کا شکر ہے ہمارے ہاں اموات کی شرح کم ہے،وائرس سے اب تک جا ں بحق ہونے والے 80 فیصد افراد مکمل طور پر صحت یاب نہیں تھے، دیگر بیماریوں کا بھی شکار تھے،پاکستان میں کوروناٹیسٹنگ میں اضافہ کیاجارہاہے،رواں ماہ کے اختتام تک روزانہ 20ہزارکوروناٹیسٹ کیے جائیں گے،دنیابھرمیں پھنسے پاکستانیوں کومرحلہ وارلایاجارہاہے جن ممالک میں پی آئی اے کی رسائی نہیں وہاں دوسری پروازوں کواجازت دیں گے۔ اتوار کو یہاں میڈیابریفنگ کے دوران مشیر قومی سلامتی نے کہا کہ پاکستان میں 7993کوروناکیسزہیں اور کورونا کے 5ہزار 966 مریض زیرعلاج ہیں، گزشتہ24گھنٹے میں 514کیسزکااضافہ ہواہے۔معیدیوسف نے بتایا کہ سندھ میں 24گھنٹوں میں 138افرادمیں کوروناکی تصدیق ہوئی، پنجاب میں 258افرادمیں کورونا کی تصدیق ہوئی۔مشیر قومی سلامتی کے مطابق کورونا کے اب تک ملک بھر میں 1868افرادصحتیاب ہوچکے ہیں اور 159اموات ہوچکی ہیں، 47مریضوں کی حالت تشویشناک ہے،بدقسمتی سے 159 کا نمبر مزید بڑھ سکتا ہے۔پاکستان میں گزشتہ 24گھنٹے میں 16اموات ہوئی ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں کوروناسے اموات کی شرح1.9فیصدہے جب کہ دنیامیں کوروناسے اموات کی شرح 6.9فیصدہے، اللہ کاشکرہے پاکستان میں کوروناسے اموات کی شرح کم ہے۔مشیر قومی سلامتی نے کہا کہ پاکستان میں کوروناٹیسٹنگ میں اضافہ کیاجارہاہے اور گزشتہ 24گھنٹے میں 7ہزار 847 کورونا ٹیسٹ کیے،کوشش ہے،رواں ماہ کے اختتام تک روزانہ 20ہزارکوروناٹیسٹ کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری پہلی کوشش تھی باہرسے آنیوالی وباکوروکاجائے اب ہم لوکل ٹرانسمیشن کوروکنے کی کوشش کررہے ہیں جہاں وباکاپھیلاؤہے اس علاقے کوبندکیاجائے نہ پورے ملک کو،تاجراورصنعت کارسماجی فاصلے کی پابندی میں پرعمل کریں۔معیدیوسف کا کہنا تھا کہ دنیابھرمیں پھنسے پاکستانیوں کومرحلہ وارلایاجارہاہے جن ممالک میں پی آئی اے کی رسائی نہیں وہاں دوسری پروازوں کواجازت دیں گے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ کورونا وبا سے چل بسے ہیں ان میں سے 80 فیصد کسی اور بیماری میں بھی مبتلا تھے اورمکمل طور پر صحت مند نہیں تھے تاہم صرف 20 فیصد ایسے تھے جنہیں کوئی اور بیماری لاحق نہیں تھی۔

معیدیوسف

مزید :

صفحہ اول -