میٹھا سکینڈل، کڑوا گھونٹ

میٹھا سکینڈل، کڑوا گھونٹ
میٹھا سکینڈل، کڑوا گھونٹ

  

کورونا وائرس کے خوف نے تمام کاروبار زندگی مفلوج کرکے رکھ دیا ہے۔ اگر گلیاں بازار سنسان ہیں تو سیاست کی منڈی بھی ٹھنڈی ہے۔ یار لوگ کبھی کبھی سیاسی خارش کو مدھم کرنے کے لئے اکا دکا بیان داغ کر گرما گرمی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حکومت کے اس لحاظ سے سب مزے ہیں کہ ایک دھڑکا جو ہر آن لگا رہتا تھا کہ سرکار ہاتھ سے اب سرکی کہ اب سرکی،،، تو ایسا فی الحال کچھ ہونے کو نہیں، تمام سیاسی جنتریاں بھی کورونا کے آگے بے بس ہوگئیں یا یوں کہیں کہ ان پیشن گوئیوں نے بھی منہ پر نقاب چڑھا لئے ہیں جو کہتی تھیں کہ حکومت 2020 کا سورج نہیں دیکھے گی یا پھر کہا جاتا تھا کہ مارچ میں کوئیک مارچ ہوگا۔ سب کچھ کورونا کے نیچے دب گیا۔ کبھی کبھار جو تبدیلیوں کی گرد اڑائی جاتی ہے وہ فقط لہو گرم رکھنے کا اک بہانہ۔۔۔ اور بس۔ لاک ڈاون اور سماجی فاصلوں کے دور میں کون عوامی تحریک چلائے گا اور کون اسمبلیوں کے اندر توڑ پھوڑ کے کھیل رچائے گا۔ اب اپوزیشن ویڈیولنک پر تو حکومت کے خلاف ٹھاٹھیں مارتا عوامی سمندر اکٹھا کرنے سے رہی۔ نہ ہی ٹیلی فونک عدم اعتماد کا اہتمام کیا جاسکتا ہے۔ سوحکومت کو تو کورونا راس آگیا۔

اس سارے غیر سیاسی ماحول میں چینی، آ ٹا سکینڈل نے کچھ کھڑاک کیا تھا۔ لیکن واضح رہے کہ اس میں بھی اپوزیشن کا کوئی کردار نہ تھا بلکہ یہ خود ”خان اعظم“ کا اپنے ہی کیمپ پر بھاری توپخانے سے حملہ تھا جس کا مقصد چند ایسے ناپسندیدہ کرداروں سے جان چھڑانا تھا جن کا ان کے نزدیک اب کوئی مصرف نہیں رہا تھا۔ سو وہ کام انہوں نے کر لیا۔ ساتھ ہی ساتھ اپنے کارکنوں کا گرتا ہوا مورال بلند کرنے کے لئے چند بڑھکیں بھی لگا دیں کہ ”کسی کو نہیں چھوڑوں گا“۔ لیکن عملاً اب تک کیا ہوا کہ جہانگیر ترین کا ایوان وزیراعظم میں آنا جانا ختم ہوگیا جبکہ باقی کھیل میں چینی سکینڈل کے فرانزک آڈٹ کی حتمی رپورٹ تک وقفہ کے لیا گیا۔ اب وزیراعظم کہتے ہیں کہ حتمی رپورٹ آنے کے بعد چینی کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والے تمام عناصر کے خلاف کارروائی کریں گے لیکن دوسری طرف اقتدار کے ایوانوں سے آنے والی خبریں کچھ اور ہی پتہ دیتی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اہم حلقے اس معاملے میں کود پڑے ہیں۔ آخر کو جہانگیرترین بھی ہمارا ایک اہم سیاسی اثاثہ ہیں۔ اس لئے ان کی حد سے زیادہ بے توقیری قابل قبول نہیں۔ یہ بات ایسی مشکل نہیں جو سمجھ میں نا آسکے۔ جہانگیرترین کی کئی اہم سیاسی مرحلوں پر گراں قدر خدمات رہی ہیں۔ الیکشن 2018 کو ہی لے لیں الیکشن کے بعد جب "ترین طیارہ" آزاد ارکان کو اٹھا اٹھا کر بنی گالہ لاتا تھا تو کیا اس کی یہ اڑانیں فقط عشق عمرانی میں تھیں؟؟؟۔۔۔ جی نہیں۔۔۔ قطعا نہیں۔۔۔ میراخیال ہے بس اتنا کہنا ہی کافی ہے۔۔۔۔۔ فیصل آباد سے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی راجہ ریاض جس کھلیانداز میں جہانگیر ترین کے حق میں میدان میں آئے وہ بھی غیرمعمولی تھا۔ حالانکہ راجہ ریاض نے جہانگیر ترین کے کٹرمخالف مخدوم شاہ محمود قریشی کے توسط سے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی۔ انہیں پارٹی کے اندر شاہ محمود قریشی گروپ خیال کیا جاتا تھا

لیکن جب گورنر پنجاب چوہدری سرور نے فیصل آباد کی سیاست میں مداخلت کرتے ہوئے راجہ ریاض کے مخالف گروپ کا ساتھ دیتے ہوئے ڈاکٹراسد معظم کو ڈی جی ایف ڈی اے لگوایا تو راجہ ریاض شاہ محمود قریشی گروپ چھوڑ کر جہانگیر ترین گروپ میں چلے گئے۔ راجہ ریاض کی جہانگیر ترین کے حق میں اس قدر بولڈ پریس کانفرنس کو بھی سیاسی حلقے اسی تناظر میں دیکھتے ہیں کہ اس سے وزیراعظم اور ان کے ان ساتھیوں کو ایک جھلک دکھائی گئی ہے کہ وہ جہانگیر ترین کے خلاف اپنی پیش قدمی روک دیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان واقعات کے بعد تحریک انصاف کی دوسرے تیسرے درجے کی قیادت کو پیغام دے دیا گیا کہ جہانگیر ترین کے خلاف مزید کوئی بیان بازی نہیں ہوگی۔ یہی وجہ ہے گورنر پنجاب جنہوں نے ایک دو مواقع پر جہانگیر ترین کے بارے میں دلچسپ انداز میں فقرے جمائے تھے وہ بھی اب پریس کانفرنسوں میں اس حوالے سے سوالات کو ٹال جاتے ہیں۔ بہرحال تحریک انصاف میں بعض حلقوں کا تو کہنا ہے کہ 25 اپریل کے بعد بھی اب مزید کچھ نہیں ہوگا۔ اس دوران تمام اڑی ہوئی گرد کو بٹھانے کے لئے کورونا بہترین وائرس ہے۔ یہ تو وہ سرگوشیاں ہیں جو سیاسی حلقوں میں گردش کررہی ہیں۔ لیکن دوسری طرف وزیراعظم عمران خان اب بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ کورونا سے لے کرآٹا چینی مافیا تک، کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔ دیکھتے ہیں خان اعظم اپنے عزم کی تکمیل کرتے ہیں یا سیاسی مجبوریوں کے ہاتھوں اس "میٹھے سکینڈل" کا "کڑوا گھونٹ" پیتے ہیں۔

کچھ بات ہوجائے مسلم لیگ نون کی۔۔۔ تو گذشتہ دنوں خواجہ برادران کی چوہدری پرویز الہی سے ہونے والی ملاقات کا بڑا چرچا رہا، اس ملاقات میں سے مستقبل میں پنجاب میں سیاسی تبدیلی کا خاکہ برآمد کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ملاقات دونوں اطراف سے محض ایک باڈی لینگوئج تھی۔ جس میں مسلم لیگ نون نے اپنے ووٹر کو مطمن کرنے کی کوشش کی جبکہ چوہدری پرویز الہیٰ نے وزیراعظم عمران خان کو اپنے کارڈز کی ہلکی سی جھلک کروائی۔ خواجہ برادران کی ملاقات ایک روز قبل مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف کی ان سے ہونے والی ملاقات کا بظاہرتسلسل ہی سمجھی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ خواجہ سعد رفیق نے شہبازشریف کا خیرسگالی کا پیغام چوہدری پرویزالٰہی تک پہنچایا۔ خود میاں شہباز شریف نے سہیل وڑائچ صاحب کے ساتھ ملاقات میں بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اب ان کی چوہدری برادران کے ساتھ سابقہ تلخیاں نہیں رہیں اور تعلقات نیوٹرل ہوچکے ہیں۔ اس بات میں حکومت کے لئے پیغام ہے کہ ہم کسی بھی وقت اکٹھے ہوسکتے ہیں لیکن اس تمام کہانی میں سب سے اہم اور فیصلہ کن کردار ہزاروں میل دور بیٹھے میاں نوازشریف کا ہے۔ جو موجودہ سیٹ اپ کے اندر رہتے ہوئے کسی ان ہاؤس تبدیلی کے حق میں نہیں۔۔۔

سو قارئین! کورونا کے ہوتے ہوئے اس وقت مزید کسی ہنگامہ خیز سیاست کے امکانات کم ہی نظر آتے ہیں اس لئے بس ایک بات یاد رکھیں کہ۔۔۔۔ کورونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -