خیبر پی کے میں لاک ڈاؤن سے 13افراد بیروزگار، غربت بڑھے گی: رپورٹ

خیبر پی کے میں لاک ڈاؤن سے 13افراد بیروزگار، غربت بڑھے گی: رپورٹ

  

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)خیبر پختونخوا کے محکمہ ترقیات اور منصوبہ بندی نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اگر لاک ڈاؤن میں 45دن کی توسیع کی گئی تو صوبے میں 13لاکھ افراد اپنی نوکریوں سے محروم اور بیروزگار ہو سکتے ہیں۔اتوار کو جاری رپورٹ میں کرونا وائرس کے معیشت پر ممکنہ طور پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ روزانہ کی بنیاد پر کمانے والے، دیہاڑی دار افراد اور گلی محلوں میں اشیا فروخت کرنے والے افراد کے کرونا وائرس سے زیادہ متاثر ہونے کا اندیشہ ہے اور ساڑھے 4لاکھ سے زائد دیہاڑی دار افراد فوری بیروزگار ہو سکتے ہیں۔ رواں سال وائرس کے سبب خیبر پختونخوا حکومت کی شرح نمو کم ہو کر 2.9فیصد تک آ سکتی ہے جہاں 2019 میں یہ شرح 3.73فیصد تھی۔صوبائی حکومت کی جی ڈی پی بھی 12لاکھ 35ہزار 942ملین روپے سے کم ہو کر 13لاکھ 16ہزار 160ملین روہے ہونے کا اندیشہ ہے۔ 45روزہ لاک ڈاؤن میں 13لاکھ افراد نوکریوں سے محروم وہ سکتے ہیں۔ سب سے زیادہ نقصان ٹرانسپورٹ اور اسٹوریج کے شعبے میں ہونے کا اندیشہ ہے جہاں 3لاکھ 59ہزار 393افراد بے روزگار ہو سکتے ہیں۔ تعمیرات، مینوفیکچرنگ اور ہول سیل کے شعبے بھی انتہائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے جس میں بالترتیب 2لاکھ 95ہزار 594، 2لاکھ 58ہزار 664 اور 2لاکھ 16ہزار 252 افراد کے نوکریوں سے محروم ہونے کا امکان ہے۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ اگر لاک ڈاؤن میں توسیع کی جاتی ہے تو مزید افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ ہے، اگر لاک ڈاؤن میں 6ماہ کی توسیع کی گئی تو 27لاکھ افراد نوکریوں سے محروم ہو سکتے ہیں اور اگر ایک سال تک لاک ڈاؤن برقرار رہا تو 42لاکھ افراد بیروزگار ہو جائیں گے۔البتہ محکمہ ترقی اور منصوبہ بندی نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ زراعت کے شعبے پر اس کے اثرات انتہائی کم مرتب ہوں گے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت کے احساس پروگرام سے صوبے کے 15لاکھ خاندانوں کو فائدہ پہنچے گا جس کی بدولت انہیں ہر ماہ 12ہزار روپے ملیں گے۔تاہم جن افراد کو احساس پروگرام کے تحت رقم نہیں ملے گی وہ زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔اس سلسلے میں تجویز پیش کی گئی کہ صوبائی کونسل کی سطح پر کمیٹی بنائی جائے جو کمزور اور متاثرہ افراد کی نشاندہی کرے جن کو پھر حکومت 6ہزار روپے دے گی۔ حکومت قرض کی ادائیگیوں کے حوالے سے بھی لائحہ عمل مرتب کر رہی ہے جس سے درمیانے اور چھوٹے درجے کے کاروباروں کو فائدہ پہنچے گا اور 31مارچ کو واجب الادا سود کی ادائیگی وہ 15اپریل کے بجائے اب 15جون تک کر سکیں گے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر ضرورت پڑی تو حکومت گریڈ ایک سے 17تک کے ملازمین کو ایڈوانس تنخواہ بھی دے گی جبکہ چھوٹے کاروباروں اور دکانوں کو ریلیف کی فراہمی کے لیے یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی تین ماہ موخر کرنے کی بھی تجویز زیر غور ہے۔

رپورٹ

مزید :

صفحہ آخر -