بنگلہ دیش کرونالاک ڈاؤن،مذہبی رہنما کے جنازہ میں ایک لاکھ افراد کی شرکت

بنگلہ دیش کرونالاک ڈاؤن،مذہبی رہنما کے جنازہ میں ایک لاکھ افراد کی شرکت

  

ڈھاکہ (مانیٹرنگ ڈیسک)کرونا وائرس کے باعث اجتماع پر پابندی اور جزوی لاک ڈاؤن کے باوجود بنگلہ دیش میں ایک مذہبی رہنما کے نماز جنازہ میں ایک لاکھ افراد کی شرکت سے پولیس اور حکومتی عہدیدار بھی حیران رہ گئے۔بنگلہ دیش میں بھی دیگر ممالک کی طرح کرونا کے پھیلاؤ سے بچنے کیلئے گزشتہ ماہ مارچ کے وسط سے جزوی لاک ڈاؤن نافذ ہے،پبلک ٹرانسپورٹ بند اور مجمع پر بھی پابندی ہے۔ترک میڈیا کے مطابق بنگلہ دیش کی مذہبی جماعت خلافت مجلس کے نائب سربراہ زبیر احمد انصاری کی نماز جنازہ میں کم از کم ایک لاکھ افراد کی شرکت پر خود پولیس اور مقامی انتظامیہ بھی حیران رہ گئی۔ بتایاگیاہے کہ چٹاگانگ ڈویژن کے ضلع برہمنباریا کے ایک مدرسے میں زبیر احمد انصاری کے نماز جنازہ کا اہتمام کیا گیا، جہاں پر دیکھتے ہی دیکھتے ایک لاکھ کے قریب لوگ جمع ہوگئے۔مقامی پولیس افسر شہادت حسین ٹیپو نے بتایا کہ زبیر احمد انصاری 16 اور 17 اپریل کی درمیان شب کو فوت ہوگئے تھے اور ان کی نماز جنازہ 17 اپریل کو نماز جمعہ کے درمیان رکھی گئی تھی۔پولیس افسر کے مطابق وہ عالم دین کے اہل خانہ سے رابطے میں تھے، جنہیں زیادہ سے زیادہ 50 افراد کو جنازے میں آنے کیلئے راضی کیا گیا تھا مگر دیکھتے ہی دیکھتے نماز جنازہ کے مقام پر بہت بڑی تعداد میں لوگ جمع ہونا شروع ہوگئے۔ چند درجن اہلکار ہزاروں افراد کے آگے بے بس تھے، اس لیے وہ کچھ نہیں کر سکے اور وہ وہاں پر ایک لاکھ افراد کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔مجمع پر پابندی کے باوجود ایک لاکھ افراد کے جمع ہونے پر دیگر مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں بھی حیران ہیں۔ تاہم انہوں نے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے جمع ہونے کو حکومت و انتظامیہ کی نااہلی قرار دیا ہے۔مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پولیس و مقامی انتظامیہ کو علم تھا کہ عالم دین زبیر احمد انصاری معروف شخصیت ہیں اور ان کے چاہنے والے پورے بنگلہ دیش میں ہیں اور وہ ان کی نماز جنازہ میں شرکت کی کوشش ضرور کریں گے مگر انتظامیہ نے اس حساب سے انتظامات نہیں کیے۔

بنگلہ دیش جنازہ

مزید :

صفحہ آخر -