سعودی عرب، 3بچے 20سال تک جسے ماں سمجھتے رہے وہ اغوا ء کار نکلی، ڈی این اے میں بھانڈا پھوٹ گیا

سعودی عرب، 3بچے 20سال تک جسے ماں سمجھتے رہے وہ اغوا ء کار نکلی، ڈی این اے میں ...

  

ریاض (نیوز ڈیسک)سعودی عرب کے سرکاری وکلا نے کہا ہے کہ 20 سال قبل مشرقی صوبے سے اغوا کیے گئے بچوں کے کیس کو سلجھا دیا گیا اور عدالت نے ایک خاتون سمیت 5 ملزمان پر زمین پر فساد پھیلانے، سرکاری افسران سے جھوٹ بولنے اور بچوں کو 20 سال تک اغوا کر کے حبس بے جا میں رکھنے جیسے سنگین الزامات کے تحت فرد جرم عائد کردی۔مذکورہ کیس فروری 2020 میں اس وقت سامنے آیا تھا جب دمام کی پولیس نے 50 سالہ ایک خاتون کو گرفتار کیا تھا۔گرفتار کی گئی خاتون نے مسلسل تین بار صرف نوزائیدہ بیٹوں کو ہی اغوا کیا تھا اور انہوں نے پہلے بچے کو 1993، دوسرے کو 1996 اور تیسرے کو 1999 میں اغوا کیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ اغواکار خاتون نے بچوں کو اغوا کے وقت سے لے کر جوان ہونے تک عام لوگوں سے چھپائے رکھا جبکہ اس نے بچوں کو قبول نہ کرنے پر پہلے شوہر سے طلاق بھی لے لی تھی اور اس نے اپنے تمام رشتہ داروں سے بھی تعلق تقریبا ختم کردیا تھا اور ان کے اہل خانہ یہی سمجھتے رہے کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ خوش ہے۔خاتون کو پولیس نے اس وقت گرفتار کیا جب وہ مشرقی صوبے کے شہر دمام کے قریبی پولیس تھانے میں بچوں کے جوان ہونے کے بعد ان کے قانونی دستاویزات حاصل کرنے آئی۔خاتون نے ابتدائی طور پر پولیس کو بتایا کہ یہ تمام بچے ان کے ہی ہیں تاہم جب پولیس نے ڈی این اے ٹیسٹ کیا تو تینوں بیٹوں کے ڈی این اے ان سے میچ نہیں ہوئے جس کے بعد خاتون نے اپنا بیان بدلا اور کہا کہ تینوں بچے انہیں کئی سال قبل لاوارث حالت میں ملے تھے۔بعد ازاں پولیس نے گزشتہ تین دہائیوں سے بچوں کے اغوا سے متعلق کیسز کا جائزہ لیا اور بچوں کی گمشدگی کی شکایات درج کروانے والے اہل خانہ کے ڈی این اے ٹیسٹ کیے تو تمام بچوں کے ڈی این اے مختلف خاندانوں سے میچ ہو گئے اور پولیس نے نوجوان بچے اپنے اصلی والدین کے حوالے کرتے ہوئے خاتون کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی۔ سرکاری وکلا نے بتایا ہے کہ مذکورہ کیس کی قانونی کارروائی مکمل کرکے خاتون سمیت دیگر 5 ملزموں پر فرد جرم عائد کردی گئی ہے۔سعودی اخبار سعودی گزٹ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ عدالت نے سماعتوں کے دوران خاتون کے علاوہ دیگر پانچ ملزمان پر بھی فرد جرم عائد کی اور جن افراد پر فرد جرم عائد کی گئی ان میں سے ایک یمنی شہری ہے جبکہ ایک ملزم سعودی عرب سے باہر ہے جس کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے رابطہ کرلیا گیا ہے۔ عدالت نے اگرچہ تمام ملزمان پر فرد جرم عائد کردی ہے، تاہم تاحال انہیں سزائیں نہیں سنائی گئیں۔ سرکاری وکلا نے عدالت سے اپیل کی ہے کہ کیس کے 5 میں سے 3 ملزمان کو سر قلم کرنے کی سزا سنائی جائے جبکہ باقی ملزمان کو بھی سخت سزا دی جائے تاکہ ملک میں ایسے جرم کرنے والے افراد سبق سیکھیں کیوں کہ ان ملزمان نے زمین پر فساد پھیلانے کے جرم کا ارتکاب کیا۔

تین بچے

مزید :

صفحہ آخر -