وزیراعظم‘ وزرا ء کرونا کے بجائے پیپلز پارٹی سے لڑرہے ہیں‘ افتخار خان

  وزیراعظم‘ وزرا ء کرونا کے بجائے پیپلز پارٹی سے لڑرہے ہیں‘ افتخار خان

  

مظفرگڑھ (نامہ نگار)پاکستان پیپلزپارٹی اور وزیراعلیٰ سندھ کو پی ٹی آئی حکومت کی طرف سے بلاجواز تنقید کا نشانہ بنانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے پیپلزپارٹی (بقیہ نمبر35صفحہ7پر)

جنوبی پنجاب کے سیکرٹری انفارمیشن و رکن قومی اسمبلی نوابزادہ افتخار احمد خان نے اپنی رہائش گاہ پر جیالوں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 26 فروری کو سندھ میں کورونا کا پہلا کیس رپورٹ ہوا جس پر وزیراعلیٰ سندھ سید مرداد علی شاہ نے ٹاسک فورس تشکیل دیتے ہوئے بحران سے نمٹنے کیلئے سرکاری ہی نہیں بلکہ ذاتی حیثیت میں بھی متحرک ہو گئے کیونکہ انکے بہنوئی کورونا سے متاثر ہو کر خالق حقیقی سے جا ملے تھے وفاق کے اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ نے لاک ڈاؤن کا مشورہ دیا تو عمران خان نے سیاسی بغض میں مسترد کردیا مراد علی شاہ نے اٹھارویں ترمیم کے اختیارات کے تحت پورے سندھ میں لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا بعدازاں عمران خان کو بھی وزیراعلیٰ سندھ کی نقل کرنی پڑی اور پورے ملک میں لاک ڈاؤن کا اعلان کرنا پڑا،انہوں کہا کہ پیپلزپارٹی سوال کرتی ہے کہ وزیراعظم لاک ڈاؤن پر سندھ حکومت پر تو تنقید کرتے ہیں کیا وہ یہ بتانا پسند کریں گے کہ پنجاب' کے پی کے اور بلوچستان میں جہاں انکی اپنی حکومت ہے وہاں پر بھی لاک ڈاؤن بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے لگایا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے لیڈ کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کو ملک بھر میں آگاہی مہم چلانے کا ٹاسک دیا جبکہ دوسری جانب وزیراعظم اور انکی کابینہ کورونا سے لڑنے کی بجائے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے لڑ رہی ہے خصوصاً 5 وزراء کی ڈیوٹی لگادی گئی ہے جو اپنی کارکردگی دکھانے ' بتانے کی بجائے سندھ حکومت پر الزامات بوچھاڑ کرتے رہتے ہیں انہوں نیکہا کہ کورونا بحران میں بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں وزیراعلیٰ سندھ نے بہترین منتظم ہونے کا لوہا منوایا ہے انہوں نے کہا پیپلزپارٹی وزیراعظم عمران خان سے درخواست کرتی ہے کہ وہ اپنی جھوٹی اناء کے خول سے باہر نکلیں اور پیپلزپارٹی کے ساتھ مل کر پوری قوم کو بحران سے نمٹنے کیلئے تیار کیا جائے۔

افتخار خان

مزید :

ملتان صفحہ آخر -