ڈیڑھ ماہ سے صرف فلاحی اور امدادی کام ہورہا ہے، مصطفی کمال

ڈیڑھ ماہ سے صرف فلاحی اور امدادی کام ہورہا ہے، مصطفی کمال

  

کراچی(سٹاف رپورٹر)پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ پاکستان بھر میں پی ایس پی کے تمام دفاتر میں پچھلے ڈیڑھ ماہ سے صرف فلاحی اور امدادی کام ہورہا ہے۔ موجودہ لاک ڈاؤن کے دوران جہاں عام انسان بری طرح متاثر ہوئے ہیں وہاں متاثرین میں ایسے لوگوں کی بڑی تعداد شامل ہے جو تھیلیسیمیا کے موذی مرض میں مبتلا ہیں، اسوقت بھی پاکستان میں ایک لاکھ بچے تھیلیسیمیا میں مبتلا ہیں، تھیلسیمیا میں مبتلا افراد کی زندگی بچانے کے لیے ہر ہفتے خون لگنا لازمی ہے یعنی ہر مہینے میں دو لاکھ خون کی بوتلوں کی ضرورت ہے، لاک ڈاؤن کی وجہ سے تھیلیسیمیا میں مبتلا افراد کو خون نہیں مل رہا، اس لیے آج پی ایس پی کی جانب سے خون کے عطیات جمع کرنے کی لیے کیمپ لگایا گیا ہے اور پی ایس پی فانڈیشن کی جانب خون کے عطیات دیے جارہے ہیں۔ چئیر مین پاک سر زمین پارٹی سید مصطفی کمال، صدر انیس قائم خانی، پی ایس پی کے عہدے داران سمیت ہزاروں کارکنان دوپہر سے ہی لائنوں میں لگ خون کے عطیات دیے، یہ سلسلہ رات گئے تک جاری رہا۔ مصطفی کمال نے کہا کہ حکومت لاک ڈان کے اعلانات کے ساتھ غریبوں کا خیال بھی لازمی رکھے، لاک ڈان ضرور کیا جائے لیکن غریبوں کو پیکج بھی دیا جائے، ہم وفاقی و صوبائی حکومتوں کے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ اصل معلومات صرف حکومتِ وقت کے پاس ہے۔ حکومت کراچی کو صرف ایک شہر نہ سمجھے، یہ کراچی پورے ملک کو لیکر چل رہا ہے، وزیر اعظم کے ٹائیگر فورس کے اعلان کو بھی کافی وقت گزر گیا لیکن ٹائیگر فورس ہمیں کسی بھی جگہ نظر نہیں آئی۔ میں ایک بار پھر گزارش کرتا ہوں ملک بھر میں ڈیڑھ لاکھ بلدیاتی نمائندوں کو ایک صدارتی آرڈیننس کے زریعے فعال کیا جائے، اس صورتحال میں ملک بھر کے ڈیڑھ لاکھ بلدیاتی نمائندگان موجودہ صورتحال میں اہم کردار ادا کرسکتے۔ وقت کی ضرورت ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلا سے نمنٹے کیلئے سب کو ساتھ بیٹھ کر ایک قومی پالیسی بنانا ہوگی، سندھ کی صوبائی حکومت کہہ رہی ہے اربوں روپے کی امداد تقسیم کردی گئی ہے تو بتایا جائے کہ کہاں امداد دی گئی؟ کس کو دی گئی؟ ہمیں تو سندھ بھر سے مستحق لوگ بتا رہے ہیں انہیں کوئی سرکاری امداد نہیں ملی، موجودہ حالات میں وفاقی حکومت کی کارکردگی دیکھ کر سندھ حکومت کے کرونا سے متعلق اقدامات کی تعریف کرنا پڑ رہی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان ہاس میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صدر انیس قائم خانی سمیت دیگر مرکزی زمہداران و کارکنان کے علاوہ اداکار مانی اور حرا سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی موجود تھے۔ مصطفی کمال نے مزید کہا کہ کرونا وائرس کی وبا کے سبب بیرون ملک مقیم سینکڑوں پاکستانیوں کی شہادت پر بہت دکھ ہے، بیرون ملک پاکستانی پاکستان کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے فارن ایکسچینج سے ملک کی معیشت چلتی ہے، بیرون ملک مقیم پاکستانی ہر مرحلے پر پاکستان کے کام آئے ہیں، یہ بات وزیراعظم عمران خان سے زیادہ کون جانتا ہے کہ انکی سیاسی جماعت کی سب سے بڑی فنڈنگ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے آتی ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی آج بہت پریشان ہیں، ہزاروں کی تعداد میں بیرون ملک مقیم پاکستانی بے روزگار ہورہے ہیں، حکومت تمام سفارت خانوں کو ہدایت جاری کرئے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی فلاح کا نظام جاری کرئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کون سا کام دیکھ کر کہا جائے کہ یہ ملک ایک فلاحی ریاست ہے، ریاست جس کے پاس ہزاروں ارب روپے ہیں وہ ایک بھی ایسا نظام نہیں بنا رہی جس سے لوگوں کی فلاح ممکن ہوسکے، حکومت کے پاس کوئی مربوط و منظم نظام نہیں کہ موجود صورتحال میں کسی کو خوراک اور راشن کی پریشانی نہ ہو۔ پاک سر زمین پارٹی کورونا وائرس کے پھیلا کے باعث لاک ڈان کے دوران اپنی بساط کے تحت پچھلے ڈیڑھ ماہ سے پی ایس پی فانڈیشن کے زریعے امدادی کام کررہی ہے، کارکنان مستحق افراد کے گھروں پر رات کی تاریکی میں راشن اور اشیائے ضرورت پہنچا رہے ہیں، مصطفی کمال نے مزید کہا کہ جانور بھی ہماری طرح اللہ کی مخلوق ہیں، ہم نے جانوروں کو چڑیا گھروں میں قید کر رکھا ہے اور اللہ نے ہمیں گھروں میں قید کردیا ہے۔ ہم اپنے بچوں کی تفریح کا کوئی اور بندوبست کرلیں گے, میں وفاقی و صوبائی حکومتوں سے درخواست کرتا ہوں کہ پاکستان کے تمام چڑیا گھروں میں قید تمام پرندوں اور جانوروں کو آزاد کیا جائے۔ عین ممکن ہے کہ اللہ ہمارا قرنطینہ مراکز بھی ختم کردے۔ کراچی میں تو چڑیا گھر کے شیر کو فراہم ہونے والے گوشت کے پیسے بھی میئر کھا جاتا ہے اور شیر بھوک سے مر جاتے ہیں۔ انہوں نے تھیلسیمیا سینٹر کے کاشف اقبال، اداکار مانی اور حرا سمیت تمام آئے لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر تھیلسیمیا سینٹر کاشف اقبال نے عوام سے درخواست کہ کہ سب لوگ خون دیں تاکہ تھیلسمیاں کے بچوں کی زندگی بچائی جاسکے۔انہو ں نے کہا کہ میرا بچہ تھیلسمیا کی بیماری کے سبب زندگی کی بازی ہار گیا تھا اور میں نے اپنے بیٹے کی بہت تکلیف دے موت دیکھی ہے،اس لیئے میں چاہتا ہوں کوئی اور والدین اس کرب سے نہ گزریں۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -