سابقہ فاٹا میں لاک ڈاﺅن ہو یا آپریشن، آپ انٹرنیٹ بند نہیں کر سکتے ،چیف جسٹس اطہر من اللہ

سابقہ فاٹا میں لاک ڈاﺅن ہو یا آپریشن، آپ انٹرنیٹ بند نہیں کر سکتے ،چیف جسٹس ...
سابقہ فاٹا میں لاک ڈاﺅن ہو یا آپریشن، آپ انٹرنیٹ بند نہیں کر سکتے ،چیف جسٹس اطہر من اللہ

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آبادہائیکورٹ نے قبائلی علاقوں میں آن لائن کلاسز کیلئے تھری اور فور جی سروسز کی فراہمی کے کیس میں سیکرٹری داخلہ سے تحریری جواب طلب کرلیا۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ سابقہ فاٹا میں لاک ڈاﺅن ہو یا آپریشن، آپ انٹرنیٹ بند نہیں کر سکتے ،کسی علاقے میں انٹرنیٹ بند کرنے کاکوئی قانون جواز نہیں ،چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہاکہ پاک فوج کی قربانیوں کی وجہ سے سب کچھ ممکن ہوا،لیکن یہ کوئی ایسا نہیں آپ انٹرنیٹ بند کردیں ۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آبادہائیکورٹ میں قبائلی علاقوں میں آن لائن کلاسز کیلئے تھری اور فور جی سروسز کی فراہمی کے کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی ،نمائندہ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے کہاکہ وزارت داخلہ نے 2016 میں پابندی لگائی اس کا جواب وہی دے سکتے ہیں ، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ سابقہ فاٹا میں لاک ڈاﺅن ہو یا آپریشن،آپ انٹرنیٹ بند نہیں کر سکتے،کسی علاقے میں انٹرنیٹ بند کرنے کاکوئی قانون جواز نہیں ،چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہاکہ پاک فوج کی قربانیوں کی وجہ سے سب کچھ ممکن ہوا،لیکن یہ کوئی ایسا نہیں آپ انٹرنیٹ بند کردیں ،اگر اسلام آباد میں کچھ ایسا ہواتو کیایہاں انٹرنیٹ بند کردیا جائے گا؟۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ سیکرٹری داخلہ کو نوٹس کرکے ان سے جواب طلب کرلیتے ہیں ،عدالت نے حکم دیتے ہوئے کہاکہ سیکرٹری داخلہ 28 اپریل سے قبل تحریری جواب جمع کرائیں ،سیکرٹری داخلہ مجاز افسر مقرر کریں جو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں حاضر ہو۔

عدالت نے کہا کہ پٹیشنراورعلاقے کے دیگر رہائشیوں کو انٹرنیٹ کی سہولت سے کیوں محروم رکھا گیا ؟،عدالت نے چیئرمین پی ٹی اے کو آئندہ سماعت سے قبل جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی اورفریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت28 اپریل تک ملتوی کردی۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -