اقبال کا شاہین اور آج کا نوجوان

اقبال کا شاہین اور آج کا نوجوان
اقبال کا شاہین اور آج کا نوجوان

  

پاکستان کی آباری 66 فیصد نوجوان طبقے پر مشتمل ہے لیکن یہ آبادی مایوسی کی فضا میں سانس لے رہی ہے ان میں یقین اعتماد کی بہت زیادہ کمی ہے۔ اگر یہ نوجوان طبقہ اگر علامہ اقبال کی فکر اور فلسفے سے راہنمائی حاصل کرے تو پوری دنیا میں بحثیت قوم اور انفرادی طور پر اک عمدہ مثال بن کر ابھر سکتا ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ علامہ اقبال کے پیغام میں آفاقیت پائی جاتی ہے۔ وہ جمور اور تقلید کے فلسفے کے برعکس تبدیلی کے خواہاں تھے۔ وہ نوجوانوں میں شاہین کی خصوصیات کے پیدا ہونے کے خواہشمند تھے۔ کیونکہ ان کے نزدیک شاہین ایک ایسا پرندہ ہے جو خود داراور غیرت مند ہے دوسروں کا مارا ہوا شکار نہیں کھاتا۔وہ علم کے ساتھ ساتھ عمل پر بھی معمور ہے۔ جستجو اُس کے رَگ و پے میں ہے۔ خودی پر بھروسہ رکھنا اسکا کمال ہے اور اپنے کردار کو اسلام کے عناصر کی روشنی میں ڈھالنے اور مثال قائم کرنے والا ہے۔

مگر عصر حاضر کا نوجوان علم تو زوق و شوق سے حاصل کرتا ہے مگر عمل سے ہچکچاتا ہے۔ وہ زمانے کے دوہرے معیار میں بٹ چُکا ہے اور اپنا اصل مقام کھو چُکا ہے۔ اقبال فرماتے ہیں کہ اگر یہ نوجوان مغرب کی اندھی تقلید میں محوَ رہا تو صرف پستی پائے اور اپنی ہستی کو کھو دے گا۔ آپ نوجوانوں سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں

تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا

تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں

نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر

تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر

پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں

شاہیں کا جہاں اور ہے کرگس کا جہاں اور

علامہ اقبال نے نوجوانوں کو خودی کے تصور سے آشناس کروایا۔ کہ خود شناسی ہی خدا شناسی ہے۔فلسفے کے طالبعلم کی حیثیت سے میرے نزدیک علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی تحریر جس کا مطالعہ نسلِ نو کی تربیت میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، وہ ’خطاب بہ جاوید‘ ہے یعنی نئی نسل سے کچھ باتیں۔. نوجوانوں کے لیے یہ پورا ضابطہ حیات ہے۔ وہ آج کے نوجوان کو رزقِ حلال اور صدقِ مقال شرم و حیا ذکر اور فکر کی نصیحت کرتے ہیں۔آپ کے درد و سوز کا عالم یہ تھا کہ جب اس نظم کو ختم کرتے ہیں توآپ فرماتے ہیں

اے نوجواں مسلم! میں نے زندگی بھر یہ کیا کہ تمہیں یہ سمجھا سکوں کہ دین کا مطلب کیا ہے؟ اور تیرے ساتھ میری محبت کا عالم یہ ہے کہ میں قبر میں جا کر بھی تیرے لیے دعائیں کرتا رہوں گا۔

’خطاب بہ جاوید‘ میں علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ تقویٰ کو سمجھنانے کے لیے ایک مثال دیتے ہیں کہ سلطان محمود بیگڑہ ہندوستان کی ایک ریاست کا حکمران تھا۔ جیسا کہ ہر بڑے راجے، مہاراجے اور شہزادے کا ایک شوق ہوتا ہے، اس کا شوق یہ تھا کہ وہ گھوڑے پالتا تھا اور اس کے پاس بڑے اعلیٰ نسل کے گھوڑے تھے۔ اس کا ایک گھوڑا بیمار ہوگیا۔ اس نے اس گھوڑے کا بڑا ہی علاج کروایا لیکن وہ ٹھیک نہیں ہوا۔ بالآخر ایک ایسا طبیب آیا جس نے چند دنوں میں گھوڑے کو صحت مند کردیا۔ سلطان محمود کی خدمت میں وہ گھوڑا پیش کیا گیا کہ یہ ٹھیک ہوگیا ہے تو وہ بڑا خوش ہوا اور اس نے پوچھا کہ یہ گھوڑا ٹھیک کیسے ہوا؟ ہم نے تو بڑے بڑے طبیب اور بڑی بڑی دوائیں آزمائیں، سب بے اثر رہیں؟ طبیب نے کہا کہ میں نے اس کو ایک ایسی دوائی دی ہے جس میں شراب بھی تھی۔ سلطان نے جب یہ سنا کہ اِسے شراب سے تیار کردہ دوائی دی گئی ہے تو اس نے حکم دیا:اب اس گھوڑے کو میرے اصطبل سے نکال دو۔ میں زندگی بھر اس گھوڑے پر نہیں بیٹھوں گا۔

آپ مزید فرماتے ہیں کہ

’’پیرِ حرم کے پاس لا اِلٰہ ہے لیکن اس کے پاس وہ نگاہ نہیں ہے جو فولاد پر بھی پڑے تو فولاد پگھل جائے۔‘‘

علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے خطبات اور شاعری میں نوجوان نسل کے لیے تعلیمی نظام کو سدھارنے اور تعلیمی نظام کو بہتر کرنے کے سارے پہلوئوں کا احاطہ ملتا ہے۔ آپ مروّجہ تعلیمی نظام کی خرابی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ موجودہ تعلیم معبودِ حاضر کی پوجا کی بات کرتی ہے اور جو معبودِ غائب یعنی ذاتِ حق ہے اور جو نظام وحی ہے، مجھے اس سے دور کرتی اور محسوسات میں قید کرتی ہے۔ یعنی یہ تعلیمی نظام تو میں نے اپنالیا اور اپنی مشکلات کو حل کرنے کے لیے تھوڑی دیر رک گیا کہ اپنے پائوں سے کانٹا نکال لوں۔ کانٹا پتہ نہیں نکلا کہ نہیں نکلا، لیکن جب میں نے سر اٹھایا تو دیکھا کہ وہ قافلہ بہت دور جاچکا تھا جس کا میں حصہ تھا، اب شاید اس کی گرد بھی مجھے نظر نہیں آرہی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام نے ہماری زندگیوں کو ہماری بنیادی منزل اور بنیادی مقصد سے دور کردیا۔ میرے نزدیک جب تک ہمارے نوجوانوں کر کردار میں اندر فکر اقبال نہیں آئے گی، اس وقت تک نوجوان مقصد آشنا نہیں ہوسکتے۔ علامہ اقبال ایک مثالی نوجوان کا نقشہ کھینچتے ہیں کہ ایک مثالی نوجوان جس کے اندر خدا کا تصور موجود ہو مگر وہ نوجوان اور ظاہری اور باطنی طہارت سے خالی نہ ہو۔ اسی طرح آپ فرماتے ہیں کہ جب سچائی گفتگو میں ہو تو صدقِ مقال ہے اور جب سچائی عمل میں آئے تو رزقِ حلال ہے۔ رزقِ حلال اور صدقِ مقال سے بندۂ مومن کی جلوت و خلوت میں جان اور حق گوئی آتی ہے۔ میرے نزدیک ہمیں علامہ محمد اقبال کی منتخب تحریروں کو نوجوانوں سے روشناس کروانا چاہیے ۔ ہمارے پاس تعمیرِ زندگی، حالات کو سمجھنے اور بطورِ تہذیب اپنے آپ کو آگے لے کر چلنے کی فکرِ اقبال کے علاوہ کوئی ایسی سبیل موجود نہیں ہے جہاں ہمیں ہمارے سوالات کا جواب ملتا ہو اور مسائل کا ایک قابلِ فہم حل میسر آسکے۔

.

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -