دوائیوں کے خرچے کیسے کم کریں ؟

دوائیوں کے خرچے کیسے کم کریں ؟
دوائیوں کے خرچے کیسے کم کریں ؟

  

دوائیوں کےاستعمال کے سلسلے میں دو تلخ حقائق ہمیشہ ہمارے پیش نظر ہونے چاہیں ایک تو ہم ہرمسئلے کا حل دوائی میں ڈھونڈتے ہیں اور دوسرا المیہ کہ ہم سیلف میڈیکیشن ( یعنی خود سے اپنا علاج ) کرنے پر یقین رکھتے ہیں ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ صرف پاکستان نہیں بلکہ دنیا بھر میں ادویات کے سلسلے میں یہ دونوں المیے موجود ہیں ۔۔آپ مانیں نہ مانیں ان دو وجوہات نے بھی ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کے رحجان کو جنم دیا ہے ۔

حیرت انگیز تو یہ ہے کہ چاہتے نہ چاہتے ہوئے بھی ہمارے ہاں جعلی ادویات کا کاروبار بھی اپنے عروج پر ہے اور دوسری جانب ادویات کی قیمتیں بڑھا کرعوام کے غم و غصے میں اضافہ کیا جا رہا ہے ۔ ایک عام آدمی کے پاس رونے کے لئے یہی بات تو کافی ہے کہ حکومتی سطح پر کوئی واضح چیک اینڈ بیلنس ( حدود و توازن )نظر نہیں آتا ۔۔ان کے پاس اچھی خوراک کھانا تو الگ رہا جان بچانے کے لئے دوائیاں بھی میسر نہیں ہوتیں کیونکہ اتنا پیسہ ہی نہیں ہوتا ۔

آپ کتنے بھی امیر کیوں نہ ہوں ، زندگی میں سستی اور بیماری کا علم نہیں ہوتا ۔ اسلئے اچھا اور سمجھدار شخص وہی ہوتا ہے کہ جو دور اندیش بھی ہو اور اسے یہ ادراک بھی ہو کہ صحت کو کس طرح باقی تمام چیزوں پر ترجیح دینی ہے ۔

اس حوالے سے کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کو اگر ذہن میں رکھا جائے اور پھر چند اقدامات کئے جائیں تو میڈیکل بل کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے ۔

لہذا کچھ طریقے ایسے ہیں کہ جن پر عمل پیرا ہوکر آپ اپنے طبی اخراجات کو کم کر سکتے ہیں ۔اس حقیقت کو مدنظر رکھیں کہ میڈیکل اخراجات اتنے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں کہ وہ ہارٹ اٹیک بھی کروا سکتے ہیں لہذا ابتدا میں ہی بہتر اقدامات کرنا ضروری ہیں ۔

میڈیکل بل ہمیشہ بروقت ادا کریں ۔

طبی مسئلہ خواہ کوئی بھی ہو اسی دن اسی وقت اور بروقت بل ادا کریں ۔۔ اس بات کے دو فائدے ہوتے ہیں ۔ ایک تو یہ ہوتا ہے کہ ہسپتال والوں کا اعتماد بڑھ جاتا ہے کہ اس شخص نے بروقت بل ادا کیا اور آپ بھی مطمئن رہتے ہیں ۔ یہاں پر یہ بات ضروری ہے کہ بل کریڈٹ کارڈ اور کیش کی صورت میں ادا کریں اور اس وقت ڈسکائونٹ کے لئے بات کریں۔یقین مانیں کہ ہستپال کی انتظامیہ آپکی باتوں کو ضرورسنے گی ۔

اپنی آمدنی سے متعلق ہسپتال والوں کو آگاہ کریں ۔

اگرچہ کہ کسی کو اپنی تنخواہ بتانا مناسب نہیں لیکن جس طبی عملے کی خدمات آپ لے رہے ہیں انھیں اپنی آمدنی سے متعلق آگاہ کر کے انھیں یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ آُپ کس حد تک خرچ برداشت کر سکتے ہیں ۔۔انھیں یہ بھی بتایا جا سکتا ہے کہ ہم یہاں سے مستقل علاج معالجہ کرواتے ہیں لہذا ہسپتال کی انتظامیہ کو آپ کے بارے میں سوچنا چاہیے ۔کیونکہ اگر آپکی آمدن ۵۰ ہزار ہے اور آپ کا بل۷۰ہزار بنتا ہے تو براہ مہربانی اس سلسلے میں بات کرنا ضروری ہوتا ہے کیونکہ آپ افورڈ نہیں کر سکتے ۔

ڈاکٹر کے ساتھ آپ کا مثبت رویہ اور اسکے طریقہ علاج کی تعریف

یہ بات ذہن نشین رہے کہ ڈاکٹر اپنی تعریف اور مہارت کے بارے میں سن کر بہت خوش ہوتے ہیں ۔ اپنی بیماری سے متعلق ان کی تشخیص اور اپنی ریکوری سے متعلق ڈاکٹروں کو فیڈ بیک دیں ۔۔ ان کے اچھے اور ہمدردانہ رویے کی تعریف کریں ۔۔ حوصلہ افزائی سے سب چیزیں بہتر ہو جاتی ہیں ۔۔ اس سے ڈاکٹر آپ کی فیس یا تو کم کر سکتا ہے یا بالکل معاف بھی کر سکتا ہے ۔ فائدہ دونوں صورتوں میں آپ ہی کا ہے ۔

کسی بھی پروفیشنل کو ہائر کریں کہ وہ آپ کو بہتر طبی سہولیات فراہم کر سکیں ۔

کئی دفعہ ہمیں بالکل علم نہیں ہوتا کہ کس بیماری کے لئے کون سا ڈاکٹر بہتر رہے گا پھر لیب اور کئی دیگر طبی عملہ ایک دوسرے کے ساتھ کمیشن کی بنیاد پر کام کرتا ہے ۔ کوئی بھی مسئلہ ہو گا ہر کسی کی کوشش ہو گی ہم اپنی پسند کا ڈاکٹر اور لیب بتائیں اور اپنی جیبیں بھریں ۔۔ سو آپ اس مسئلے سے نکلنے کے لئے کسی پروفیشنل بندے کو تلاش کریں تاکہ وہ آْپ کی بہترین ڈاکٹر اور طبی عملے کی جانب راہنمائی کر سکے ، ایک تو آپ کو اچھا ڈاکٹر ملے گا اور دوسرا ڈاکٹر کی نظر میں آپ کی قدر بھی ہو گی کہ آپ کسی پروفیشنل شخص کے توسط سے آئے ہیں ۔

دوسرے مریضوں کو وہاں ریفر کریں ۔

اپنی روزمرہ کی زندگی گذارنے کے لئے پیسے کسے درکار نہیں ؟ ڈاکٹر اور نرسیں بھی اس سے مستسثنی نہیں ۔۔ سواچھے ڈاکٹرز کے پاس اپنے دوستوں اور کولیگز کو ریفرر کر کے ایک تو آُپ خدمت خلق کریں گے دوسرا ڈاکٹر بھی اپنے مریضوں کی تعدادمیں اضافہ دیکھ کر آپ کی فیس میں کمی کر سکتا ہے ۔۔انشورنس پالیسی اور دیگر میڈٰیکل الائونس کو بہتر انداز سے استعمال کرنے کی اہلیت بھی پیدا کرنے کی کوشش کریں ۔

آخر میں سب سے اہم دیسی ٹوٹکا جس کے بغیر گذارا نہیں وہ یہ کہ خود سے دوائیاں کھانے سے اجتناب کریں ، صحت مند رہیں اور متوازن غذا کھائیں ۔۔تاکہ آپ کو ڈاکٹر کے پاس جانے کی زیادہ ضرورت پیش نہ آئے ۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -