ووہان کی وہ لیبارٹری جہاں خطرناک ترین وائرسز پر تحقیق جاری تھی، پہلی مرتبہ اس کی اندرونی تصاویر سامنے آ گئیں، دیکھ کر پوری دنیا پریشان ہو گئی

ووہان کی وہ لیبارٹری جہاں خطرناک ترین وائرسز پر تحقیق جاری تھی، پہلی مرتبہ ...
ووہان کی وہ لیبارٹری جہاں خطرناک ترین وائرسز پر تحقیق جاری تھی، پہلی مرتبہ اس کی اندرونی تصاویر سامنے آ گئیں، دیکھ کر پوری دنیا پریشان ہو گئی

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) چین کے شہر ووہان، جہاں سے کورونا وائرس پھیلا، میں ایک ووہان انسٹیٹیوٹ آف ویرالوجی کے نام سے لیبارٹری ہے جس میں کورونا وائرس سمیت دیگر سینکڑوں وائرسز پر تجربات کیے جاتے ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ کی طرف سے مبینہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس اسی لیبارٹری سے کسی طرح لیک ہو کر ووہان شہر میں پھیلا اور وہاں سے پوری دنیا کو اس نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اب اس لیبارٹری کے اندر کی ایک تصویر سامنے آ گئی ہے جس نے پوری دنیا میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق یہ تصویر ابتدائی طور پر گزشتہ ماہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر چائنہ ڈیلی نامی اکاﺅنٹ پر پوسٹ کی گئی۔

اس تصویر میں ووہان انسٹیٹیوٹ آف ویرالوجی کے ایک ریفریجریٹر سے لیبارٹری کے ایک ورکر کو وائرسز کے نمونے نکالتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس میں چشم کشا بات یہ ہے کہ اس ریفریجریٹر کے دروازے کی سیل انتہائی ناقص ہوتی ہے اور ایک جگہ سے ٹوٹی ہوئی بھی ہوتی ہے۔ چائنہ ڈیلی کی طرف سے اس ٹویٹ میں لکھا گیا کہ ”ایشیاءکے سب سے بڑے ’وائرس بینک‘ پر ایک نظر ڈالیں۔ یہ ووہان انسٹیٹیوٹ آف ویرالوجی ہے جو چین کے وسطی صوبے ہیوبی میں واقع ہے اور یہاں 1500مختلف اقسام کے وائرس رکھے گئے ہیں۔“ رپورٹ کے مطابق ان 1500وائرسز میں ایک یہ کورونا وائرس بھی شامل ہے جو اب وباءکی صورت میں دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔ چائنہ ڈیلی کے اکاﺅنٹ سے اب یہ ٹویٹ ڈیلیٹ کی جا چکی ہے تاہم دیگر کئی صارفین نے ڈیلیٹ ہونے سے پہلے ہی تصویر محفوظ کر لی اور اب وہ شیئر کر رہے ہیں اور اس تصویر کی بنیاد پر ایک بار پھر چینی حکومت کو اس لیبارٹری میں مناسب حفاظتی اقدامات نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

مزید :

برطانیہ -