بھارت میں ایک مہینے سے ایک گھر میں چھپے 6سیاح برآمد، اس طرح چھپ کر کیوں بیٹھتے تھے؟ ناقابل یقین کہانی

بھارت میں ایک مہینے سے ایک گھر میں چھپے 6سیاح برآمد، اس طرح چھپ کر کیوں بیٹھتے ...
بھارت میں ایک مہینے سے ایک گھر میں چھپے 6سیاح برآمد، اس طرح چھپ کر کیوں بیٹھتے تھے؟ ناقابل یقین کہانی

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں کچھ غیرملکی سیاح گزشتہ ایک ماہ سے ایک غار میں چھپ کر بیٹھے تھے جنہیں گزشتہ روز پولیس نے وہاں سے برآمد کیا۔ سیاحوں نے اپنے چھپ کر بیٹھنے کی ایسی وجہ بتائی کہ سن کر کوئی یقین ہی نہ کرے۔ میل آن لائن کے مطابق 6 غیرملکی سیاح جن میں چار مرد اور دو خواتین شامل تھیں، بھارتی ریاست اترکھنڈ کے شہر رشی کیش کے قریب ایک غار میں چھپے بیٹھے تھے۔ جب پولیس نے انہیں وہاں سے نکالا اور چھپنے کی وجہ پوچھی تو ان لوگوں نے بتایا کہ لاک ڈاﺅن کی وجہ سے ان کے پاس رقم ختم ہو گئی تھی اور وہ رہائش کا انتظام نہیں کر سکتے تھے۔

سیاحوں نے بتایا کہ اگر وہ شہر میں جاتے تو پولیس ان پر لاک ڈاﺅن کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر انہیں سزائیں دیتی، چنانچہ انہوں نے بہتر سمجھا کہ وہ غار میں ہی لاک ڈاﺅن کے دن گزار لیں۔رپورٹ کے مطابق ان سیاحوں میںامریکہ، فرانس، یوکرین، ترکی اور نیپال کے شہری شامل تھے۔ پولیس نے بتایا کہ یہ لوگ 24مارچ سے اس غار میں رہ رہے تھے۔رشی کیش میں سینکڑوں کی تعداد میں غیرملکی سیاح لاک ڈاﺅن کی وجہ سے پھنسے ہوئے ہیں جہاں اگر کوئی غیرملکی سڑک پر پکڑا جاتا ہے تو پولیس والے اسے وہاں بٹھا کر کاغذ پنسل تھما دیتے ہیں اور سینکڑوں مرتبہ ’آئی ایم سوری‘ لکھواتے ہیں۔ ایک پولیس آفیسر کا کہنا تھا کہ ”یہ 6سیاح اسی خوف سے غار میں چھپ کر رہ رہے تھے کہ پولیس انہیں بھی ایسی سزا نہ دے۔ ان لوگوں نے کچھ رقم محفوظ کر رکھی تھی جس سے وہ کھانے پینے کی اشیاءخرید رہے تھے۔ نیپالی شہری ان لوگوں کو کھانے پینے کی اشیاءخریدنے میں مدد دے رہا تھا۔“

مزید :

بین الاقوامی -