”سب کھلاڑی ہوشیار رہیں کیونکہ سٹے باز۔۔۔“ آئی سی سی کی ایسی وارننگ کہ پی سی بی نے بھی قومی کرکٹرز کو خط لکھ دیا، آخر وجہ کیا بنی؟ حیران کن تفصیلات سامنے آ گئیں

”سب کھلاڑی ہوشیار رہیں کیونکہ سٹے باز۔۔۔“ آئی سی سی کی ایسی وارننگ کہ پی سی ...
”سب کھلاڑی ہوشیار رہیں کیونکہ سٹے باز۔۔۔“ آئی سی سی کی ایسی وارننگ کہ پی سی بی نے بھی قومی کرکٹرز کو خط لکھ دیا، آخر وجہ کیا بنی؟ حیران کن تفصیلات سامنے آ گئیں

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی وارننگ کے بعد اپنے کھلاڑیوں کو متنبہ کیا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث ملک بھر میں لاک ڈاؤن کے دوران کرپٹ عناصر سے ہوشیار رہیں اور اگر کوئی پیشکش کرتا ہے تو اس حوالے سے پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ کو فوری آگاہ کیا جائے۔ 

تفصیلات کے مطابق پی سی بی نے ایک خط کے ذریعے پاکستانی کھلاڑیوں اورڈومیسٹک کرکٹرز کو متنبہ کیا ہے کہ سٹے باز لاک ڈاؤن کے دوران سوشل میڈیا کے ذریعے کھلاڑیوں سے رابطہ کرسکتے ہیں لہٰذا ان سے بچیں اور اگر کوئی پیشکش کرتا ہے تو اس کی اطلاع پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ کو فوری دیں۔پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سلمان نصیر نے خط کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی سٹے باز کھلاڑی کو یہ پیشکش اور لالچ دے کر گھیر سکتا ہے اور امکان ہے کہ بڑی سپانسر شپ ڈیل کی پیشکش کرسکتا ہے، اس کے علاوہ کسی ملک کے دورے کی دعوت یا کسی اور ذریعے سے اثر انداز ہونے کی کوشش کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اِس وقت تو سب کچھ بند ہے لیکن آئی سی سی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سٹے باز حالات معمول پر آنے کے بعد کھلاڑیوں کو دبئی یا بھارت بلانے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔سلمان نصیر کا کہنا تھا کہ سٹے باز کرکٹرز سے دوستی کریں گے اور انہیں اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش کریں گے کیونکہ لاک ڈاؤن میں کھلاڑی وقت گزارنے کیلئے سوشل میڈیا کا سہارا لے رہے ہیں، اس لئے ہم نے اس ہدایت نامے میں پاکستانی ٹیم اور ڈومیسٹک کھلاڑیوں کو محتاط رہنے اور ان سے بچنے کا مشورہ دیا ہے۔

واضح رہے کہ سلمان نصیر نے پی سی بی کے قانونی مشیر کی حیثیت سے شرجیل خان اور خالد لطیف سمیت سپاٹ فکسنگ کے کئی کیسوں کو حل کرانے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔قبل ازیں اتوار کو آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کے سربراہ ایلکس مارشل نے خبردار کیا تھاکہ لاک ڈاؤن کے باعث کھلاڑی وقت گزارنے کیلئے سوشل میڈیا پر زیادہ مصروف ہیں لہٰذا سوشل میڈیا کے ذریعے کرپٹ افراد کھلاڑیوں کے ساتھ تعلقات قائم کر سکتے ہیں۔

مزید :

کھیل -