آن لائن تعلیم نے لیپ ٹاپ مہنگے کردیئے

آن لائن تعلیم نے لیپ ٹاپ مہنگے کردیئے
آن لائن تعلیم نے لیپ ٹاپ مہنگے کردیئے

  

کورونا کی وبا نے عالمی سطح پر صحت، معیشت اور تعلیم کاجو بحران پیدا کردیا ہے اس کو ختم کرنے کے لئے ایک لمبا عرصہ درکار ہوگا۔اگرچہ دنیا کے تمام ممالک کورونا سے پیدا شدہ بحرانوں پر قابو پانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کررہے ہیں لیکن کورونا کی وجہ سے تعلیم کا ایسابحران پیدا ہوا ہے جوختم ہونے کی بجائے مزیدشدت اختیار کرتا جارہا ہے جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ کورونا کی وبا سے طلباء کو محفوظ رکھنے کے لئے پاکستان سمیت دنیا کے تقریبا 188  ممالک کو اپنے تعلیمی ادارے بند کرکے ایک نئے چیلنج کا سامناکرنا پڑا۔ترقی یافتہ ممالک نے اپنی تعلیم کو کسی نہ کسی طرح سہارا دے دیا کیونکہ وہاں آن لائن تعلیم کا نظام اوررحجان پہلے ہی موجود تھا اس لئے ان ممالک کے طلباء نے آن لائن تعلیم کا سلسلہ باآسانی جاری رکھا جبکہ پاکستان سمیت دیگر ترقی پذیر ممالک نے آن لائن تعلیم کا سلسلہ شروع توکر لیا لیکن اسے جاری رکھنے میں بہت سی مشکلات کا سامناکرناپڑاکیونکہ ان ترقی پذیر ممالک میں آن لائن تعلیم کا نہ توکوئی موثر نظام پہلے سے موجود تھا اور نہ ہی طلباء اور اساتذہ کواس حوالے سے کوئی تربیت تھی۔آن لائن تعلیم کو بھی اتنی اہمیت حاصل نہیں تھی لیکن جب کورونا نے سب کو ان کے گھروں تک محدود کردیا تو پھرطلباء اور تعلیم کے درمیان رابطے کا واحد ذریعہ آن لائن تعلیم ہی تھا۔

استاد اور طالب علم کے درمیان رابطے کے لئے سب سے پہلے ضروری ہے کہ دونوں کے پاس ایک اچھی سپیڈ کے ساتھ چلنے والا انٹرنیٹ کنکشن موجودہو،انٹرنیٹ کنکشن کے بعددونوں کے پاس سمارٹ فون،کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کا ہونا ضروری ہے تاکہ طلباء مختلف ایپلی کیشنزواٹس ایپ،زوم وغیرہ کے ذریعے کنیکٹ ہوسکیں اوراپنے اساتذہ کے لیکچر براہ راست سن اور دیکھ سکیں لیکن بدقسمتی سے یہ بنیادی سہولتیں ہر طالب علم یا استادکو میسر نہیں مثلاکچھ طالب علم یا اساتذہ ایسے پسماندہ علاقوں میں رہتے ہیں جہاں انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہیں جبکہ بہت سے سٹوڈنٹس اورٹیچرز مالی طور پر اس قابل نہیں کہ وہ سمارٹ فون یا لیپ ٹاپ خرید سکیں۔بہت سے والدین کویہ بھی شکوہ ہے کہ وہ پہلے ہی مشکل سے اپنے بچوں کی فیسیں ادا کررہے ہیں اور اب آن لائن تعلیم کے لئے انٹرنیٹ کنکشن اور سمارٹ موبائل وغیرہ کے خرچہ کا بوجھ اُن پراضافی پڑ گیا ہے انہی وجوہات کی بنا پر طلبا و طالبات کی ایک بڑی تعدادآن لائن تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہے۔

حال ہی میں پنجاب حکومت نے صوبے کے پسماندہ علاقوں کے کالجوں میں بائیس سو لیپ ٹاپ دینے کی منظوری  دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پنجاب حکومت کو چاہیئے کہ صوبے کے تمام سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے دیگر سٹوڈنٹس کو سستے داموں لیپ ٹاپ، انٹرنیٹ اور سمارٹ فون فراہم کرنے کے لئے بھی کوئی پالیسی بنائے تاکہ کم آمدنی والے گھرانوں کے طلباء و طالبات بھی آن لائن تعلیم جاری رکھ سکیں۔حکومت کو ان حقائق سے بھی آگاہ ہونا چاہیئے کہ جب سے کورونا وبا کی وجہ سے آن لائن تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا ہے تب سے مارکیٹ میں سمارٹ فونز،لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے داموں فروخت کئے جارہے ہیں۔کورونا اور مہنگائی کی آڑ لے کریوزڈ سمارٹ فونز اور لیپ ٹاپ کی قیمتیں ہر روز بڑھتی جارہی ہیں۔دکانداروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ استعمال شدہ لیپ ٹاپ، ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر کے استعمال شدہ سی پی یو، کمپیوٹر مانیٹر، ا  سکینر، ڈاٹ میٹرکس پرنٹر اور کمپیوٹر سرور پر ڈیوٹی بڑھنے کی وجہ سے درآمد شدہ یوزڈ کمپیوٹرز اور لیپ ٹاپس کی قیمتوں میں چالیس فیصد سے زائد اضافے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -