عمران فاروق قتل کیس ،مجرمان کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت26اپریل تک ملتوی

عمران فاروق قتل کیس ،مجرمان کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت26اپریل تک ملتوی
عمران فاروق قتل کیس ،مجرمان کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت26اپریل تک ملتوی

  

 اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )ہائی کورٹ نے عمران فاروق قتل کیس کے مجرمان کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت26اپریل تک ملتوی کردی۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں ڈاکٹرعمران فاروق قتل کیس میں مجرمان کی سزا کیخلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی۔اپیلوں پرسماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس بابر ستار نے کی۔ آ ج کی سماعت کے دوران مجرم محسن علی کے وکیل نے دلائل مکمل کرلیے ہیںجبکہ معظم علی اور خالد شمیم کے وکلاسے26اپریل کو دلائل طلب کئے گئے ہیں۔ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ تمام مجرمان کے وکلا دلائل دے دیں جس کے بعد جواب دوں گا۔

سماعت کے دوران مجرم محسن علی کے وکیل نے دلائل دئیے کہ محسن پر چاقو خریدنے کا الزام لگایا گیا لیکن کسی سیلزمین کو بطور گواہ نہیں لایا گیا جبکہ عمران فاروق سے منسوب ایک خط کا ترجمہ دکھایا۔ ترجمے کے مطابق عمران فاروق نے خط میں کہا تھا کہ بانی ایم کیوایم سے خطرہ ہے،مسئلہ یہ ہے کہ اس خط کا صرف ترجمہ موجود ہے اوراصل خط دکھایا ہی نہیں گیا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ عمران فاروق نے یہ خط کس کے نام لکھا تھا؟۔ایف آئی اے پراسیکوٹرخواجہ امتیاز نے بتایا کہ یہ خط نہیں تھا بلکہ عمران فاروق کی ڈائری کا ایک صفحہ تھا۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جس چاقو کو آلہ قتل کہا گیا وہ لندن میں کئی سٹورز پر دستیاب ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر یہ چاقو کئی سٹورز پردستیاب ہے تو اس کا کیا مطلب ہوا۔وکیل نے کہا کہ ہم یہ کہتے ہیں کہ وہ آلہ قتل محسن علی نے خریدا ہی نہیں تھا۔عدالت نے کیس کی سماعت26اپریل پیر کے روز تک ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ مجرمان کی جانب سے اے ٹی سی کا 18 جون 2020 کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ مجرمان کی جانب سے پچھلے برس سزا کے خلاف اپیلیں دائر کی گئی تھیں۔

مزید :

قومی -