اجتماعی غفلت اور بچوں کی تعلیم 

اجتماعی غفلت اور بچوں کی تعلیم 
اجتماعی غفلت اور بچوں کی تعلیم 

  

تحریر: حافظہ فرسہ رانا

کورونا کی وبا دسمبر 2019ءمیں پوری دنیا میں پھیلنا شروع ہوئی اور اس کے اثرات پاکستان میں فروری 2020ءمیں آنا شروع ہوئے جبکہ چین میں مقیم پاکستانی طالب علم جنوری 2020ءمیں اس کا شکار ہوئے۔ سونے پہ سہاگا یہاں پر بیرونی ممالک سے آنے والے پاکستانی نژاد بھی اس وائرس کے پھیلنے میں بڑے موثر ثابت ہوئے، ایئرپورٹ پر نااہلی سامنے آئی،  اگر چیکنگ کا نظام بہتر ہوتا تو شاید یہ وائرس اتنی تباہی نہ مچاتا اور عذاب کی طرح ہمارے ملک پر مسلط نہ ہوتا۔ 2019ءسے لے کر اب 2021ءتک یہ وائرس کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا البتہ مریضوں کی تعداد میں اونچ نیچ ہورہی ہے۔ اب تک یہ وائرس مختلف لہروں میں پھیل رہا ہے،  گزشتہ دو لہروں کی نسبت کورونا کی تیسری لہر زیادہ قہر برسارہی ہے۔ 

کورونا کی اس لہر میں عام عوام کے ساتھ ساتھ کئی اہم شخصیات بھی اس کا شکار ہوئیں جن میں وزیراعظم عمران خان، خاتون اول بشریٰ بی بی، صدر پاکستان عارف علوی، وزیر دفاع پرویز خٹک اور کئی اہم شخصیات بھی شامل ہیں۔ عمران خان  اور صدر سمیت کئی پاکستانیوں نے اس وائرس کو شکست دے دی،  دعا ہے کہ باقی لوگ جو اس وائرس سے متاثر ہیں وہ بھی اس کو شکست دے سکیں۔

سربراہ این سی او سی اسد عمر نے بیان دیا کہ ماہرین کے مطابق پاکستان میں آنے والے مہینوں میں یہ وبا اور تیزی سے پھیلے گی۔  پہلی دو لہروں میں پھیلنے والے وائرس کی نسبت اس وائرس میں پہلے وائرس سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والے عناصر شامل ہیں ،  عمررسیدہ اور نوجوان لوگوں کے ساتھ ساتھ اب کم عمر بچے بھی اس وائرس کا شکار بن رہے ہیں۔

ہماری بے  نیاز قوم اس صورتحال کو سنجیدہ لینے کے لیے تیار نہیں ،  کورونا وائرس کے پھیلاﺅ میں حکومت کے ساتھ ساتھ عوام بھی شامل ہیں۔ برطانیہ سمیت کئی دیگر ممالک سے آنے والے لوگ ایئرپورٹ سے بنا سکیننگ سے نکلتے گئے اور اس وائرس کو شہروں اور قصبوں میں پھیلاتے گئے اب یہاں حکومت کے متعلقہ اداروں پر لازم ہے کہ وہ باہر سے آنے والے مسافروں کی سخت چیکنگ کے قابل اعتماد انتظامات بروئے کار لائیں۔ حکومت کے ساتھ ساتھ عوام بھی اس وائرس کے پھیلاﺅ کے ذمہ دار ہیں ۔ وبا کو  سنجیدہ نہیں لیا جاتا بلکہ اسے سیاسی پراپیگنڈہ سمجھتے ہیں،  ہمیں اپنی جانوں کی پرواہ نہیں بلکہ اس میں بھی حکومتی مفادات ڈھونڈنے میں لگےہیں،  پنجاب کا دل شہر لاہور کورونا وائرس سے بہت متاثر ہوا ہے۔

لاہور میں کورونا کی اس تشویشناک صورتحال میں حکومت کو پھر سے پابندیاں لگانا پڑیں، یہاں تک کہ ایس او پیز پر عمل نہ کرنے پر پرچے کٹے، ماسک نہ پہننے پر گرفتاریاں ہوئیں۔ لاہور میں پبلک ٹرانسپورٹ جزوی طور پر بند کردی گئی ہے، ویگنوں اور رکشے والوں نے اس موقع کا فائدہ اٹھا کر اپنی چاندی کرنے مصروف ہیں۔ اگر غفلت کا یہی عالم رہا تو ممکن ہے کہ کورونا سالہا سال چلے گا۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہیں کہ اب ہمیں اس وباءکے ساتھ زندگی گزارنا سیکھنی ہوگی جیسے کہ ڈینگی، ملیریا اور پولیو جیسی وبا کے ساتھ رہنا سیکھا ہے، بالکل ایسے ہی کورونا کے ساتھ بھی زندگی معمول کے مطابق گزارنا سیکھنی ہوگی۔

اس وباءکی وجہ سے ملک سیاسی و معاشی بدحالی کا جہاں شکار رہا، وہیں پر تعلیم کا شعبہ بھی متاثر ہے۔تعلیم کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہوتی ہے لاہور میں 15 مارچ سے تمام تعلیمی سرگرمیاں مکمل طور پر بند ہیں۔ آن لائن کلاسز کے ذریعے تعلیمی سلسلے کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا، پچھلے سال تمام امتحانات ملتوی کر کے طلبا کو اگلی کلاسز میں پروموٹ کردیا گیا لیکن بنا پڑھے ۔۔۔اگر ایسے ہی بچوں کو آگے بڑھنے دیا جائے گا تو تعلیم کا معیار ملک میں کیسا رہے گا؟؟؟

رواں سال سرکاری سکولوں کے تمام فنڈز سست روی کا شکار ہیں، تعلیمی سال ختم ہونے میں تین ماہ رہ گئے ہیں لیکن کوئی بھی منصوبہ مکمل نہ ہوسکا۔ محکمہ تعلیم کے لیے 11کروڑ کے فنڈز جاری کیے گئے لیکن محکمہ ایجوکیشن کی طرف سے صرف ایک کروڑ 28 لاکھ ہی جاری ہوسکے۔ نا مکمل فنڈز کی و جہ سے کئی ہونہار طلبہ وظیفے سے محروم رہے۔

بچے اگر سکول آئیں گے تو پڑھیں گے، اگر حالات ایسے ہی چلتے رہے تو غریب جو کہ پہلے ہی غربت کی چکی میں پس رہا ہے ، پڑھائی بند ہونے سے بچے دیگر مشاغل اپنا چکے ہوں گے اور  عرصہ بعد سکول کھل جانے کی صورت میں بھی یہ بچے مستقبل کے معمار کیسے بنیں گے۔مقام افسوس یہ ہے کہ ہمارے حکمران تعلیم کے شعبے سے بالکل غافل ہیں ، سب کو میٹھی گولی دی جاتی ہے کہ  بچوں کو آن لائن  تعلیم کے ساتھ جڑا رکھا جاسکتا ہے۔ آن لائن کلاسز کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر شاید کسی حد تک کامیاب ہیں لیکن گورنمنٹ سکول کے بچے جنہیں شاید سکول میں بھی تعلیم صحیح طرح سے میسر نہیں، وہ آن لائن کیسے پڑھ سکتے ہیں۔ جو دو وقت کی روٹی کے لیے پیسے کمانے کے لیے سارا دن مزدوری کرتے ہیں وہ مہنگے موبائل اور انٹرنیٹ کی سہولت کیسےمینج کرسکتے ہیں۔ 

کیا ان غریب بچوں کا تعلیم پر کوئی حق نہیں؟ جب غریب کے گھر میں کھانے والے زیادہ اور کمانے والے کم ہوں گے تو سکول بند ہونے کی وجہ سے غریب اپنے بچوں کو مزدوری کی راہ پر لگاد یں گے  ۔ نجانے  کب حالات معمول پر آئیں گے، ایک ڈر بار بار ذہن میں بچھو کی طرح ڈنگ مار رہا ہے کہ اگر حالات معمول پر آنے تک بچے تعلیم سے غافل ہوگئے تو ہم انہیں مستقبل کے معمار کے روپ میں دیکھ سکیں گے یا نہیں؟حکومت وقت سے گزارش ہے کہ تعلیمی نظا م پر  توجہ دے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں ملک و قوم کی عزت کا باعث بن سکیں ۔ 

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.   ‎

مزید :

بلاگ -