قیام پاکستان کے پہلے پانچ ماہ

  قیام پاکستان کے پہلے پانچ ماہ
  قیام پاکستان کے پہلے پانچ ماہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 آج کے کالم میں ذکر ہو گا ایک قدرے انوکھے موضوع کا، پاکستان وجود میں آئے ہوئے 75 سال ہو گئے ہیں پون صدی کے سفر میں  ہم نے بحیثیت قوم بڑی قلابازیاں کھائی ہیں، کن اُمیدوں اور وعدوں کے ساتھ یہ سفر شروع ہوا تھا اور اب ہم کہاں آ پہنچے ہیں۔ آزادی کے سفر کا آغاز واقعی بڑے نازک حالات میں ہوا تھا لیکن بدقسمتی سے آج بھی جب کوئی قلمکار پاکستان کی سیاست اور معیشت پر قلم اُٹھاتا ہے تو یہی کہتا ہے کہ ملک بڑے نازک دور سے گزر رہا تھا اور اُس وقت ہم نے کن اُمنگوں سے یہ سفر شروع کیا تھا، اِس کے لئے ہمیں تاریخ میں جھانکنا پڑے گا پھر ہمیں کچھ اندازہ ہو گا کہ ہم اُن راہوں سے کیسے بھٹکے اور کیوں؟ ایک سابق بیورو کریٹ محمد سعید صاحب نے ”پاکستان۔ یکم اگست تا31 دسمبر 1947ء“ کے عنوان سے ایک کتاب لکھی ہے۔ محمد سعید صاحب کا تعلق سی ایس ایس میں فرسٹ Common  بیچ سے تھا۔ اُنہوں نے دوران سروس اور ریٹائرمنٹ کے بعد بھی بہت سی اہم پوسٹوں پر کام کیا لیکن اُن کا ٹیلنٹ سروس میں ایگزاسٹ نہیں ہوا بلکہ اُنہوں نے لکھنے پڑھنے کا شغل اختیار کر لیا۔ تازہ تصنیف 564 صفحات پر مشتمل ہے اور موضوع کا انتخاب بھی قدرے انوکھا اور محنت طلب ہے۔
پاکستان کے وجود میں آنے کے پہلے پانچ مہینوں میں پاکستانی اخبارات میں جو کچھ قابلِ ذکر چھپا اِس کا انہوں نے احاطہ کیا ہے۔ یہ خبریں حیرت انگیز بھی ہیں اور چونکا دینے والی بھی، کچھ خبریں تو صرف معلومات کی حد تک مفید اور دلچسپ ہیں لیکن بعض خبریں ہماری قومی سوچ کی مظہر ہیں لیکن 75سال کے سفر میں ہم اُس سوچ سے کتنا دور ہو گئے ہیں یہ غور طلب ہے۔
پاکستان ٹائمز، ڈان، سول اینڈ ملٹری گزٹ اور ڈیلی گزٹ اُس وقت کے نمایاں اخبارات تھے۔ اِن اخبارات کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ برصغیر کی تقسیم جیسے بڑے واقعے کے بعد مجموعی ماحول کیسا تھا دونوں اطراف کے لیڈروں کی سوچ کیا تھی کون سے موضوعات خبروں میں نمایاں تھے اور اُس وقت معاشرتی خدوخال کیا تھے یہ ایک دلچسپ موضوع ہے۔
 مختلف موضوعات پر چند خبریں۔ پاکستان کی پہلی کابینہ کا افتتاحی اجلاس 21 اگست کو کراچی میں ہوا، وزیراعظم لیاقت علی نے صدارت کی، وزراء کی تعداد 6 تھی۔ آج ہم نے اِس سلسلے میں کتنی ترقی کی ہے یہ آپ کے علم میں ہے 10 دسمبر کے ڈیلی ڈان میں ایک خبر کے مطابق بلوچستان مسلم لیگ کے صدر قاضی محمد عیسیٰ نے صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ ایوب کھوڑو کی اِس تجویز کی حمایت کی کہ بلوچستان کو سندھ کے ساتھ ملا دیا جائے تاکہ دونوں ریاستیں اِس فیصلے سے اقتصادی بہتری کے فوائد سمیٹ سکیں۔ انڈیا کی CP اینڈ Barar اسمبلی کے رکن مسٹر جی ایس گپتا نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر پاکستان ایک مذہبی ریاست بن گیا تو ڈر ہے کہ ہندوستان بھی ویسا ہی ملک بن جائے گا۔ 19 دسمبر کے پاکستان ٹائمز نے خبر دی کہ ویسٹ پنجاب (پاکستان) حکومت نے کرپشن کے خلاف مہم چلانے کا اعلان کیا ہے اور آغاز سپلائز ڈیپارٹمنٹ سے کیا جائے گا۔

اُن دنوں اِن اخبارات کے مطالعے سے ایک بات واضح ہوئی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات خاصے دوستانہ تھے۔ پاکستان 19 اگست کو اقوام متحدہ کا رکن بنا اور یہ رکنیت روایتی پروسیجر کو نظرانداز کرکے دی گئی، اِس موقع پر بھارت کے نمائندے نے خوشی کا اظہار کیا۔ 7 اکتوبر کے پاکستان ٹائمز میں ایک خبر کے مطابق انڈین فوجی 2 لاکھ مسلمان مہاجرین کو بحفاظت پاکستان لے کر آئے۔ 28 اکتوبر کے پاکستان ٹائمز نے خبر دی کہ کراچی میں عیدالاضحیٰ پٍُرامن طریقے سے منائی گئی۔ عیداور دسہرہ پر اپنے ہندو بھائیوں کے احترام میں کراچی میں گائے کی قربانی نہیں کی گئی اور بعد میں دو لاریوں اور 4 کاروں پر مشتمل ایک جلوس نے جن پر لاؤڈ سپیکر لگے ہوئے تھے کراچی میں مارچ کیا اور یہ نعرے لگائے ہندو مسلم ایک ہیں ہندو مسلم بھائی بھائی۔
13 دسمبر کے ڈیلی ڈان کے مطابق انڈیا اور پاکستان کے درمیان تمام مسائل پر سمجھوتہ ہو گیا اور انڈیا 400 کروڑ روپوں کے بیلنس سے 75 کروڑ پاکستان کو ادا کرے گا جبکہ ملٹری سٹورز کا تیسرا حصہ پاکستان کے حوالے کرے گا۔اِکادُکا انتقالِ آبادی اور کہیں کہیں قتل و غارت سے متعلق خبریں نظر آتی ہیں۔ یکم اکتوبر کے ڈان میں خبر تھی کہ انڈین وزیراعظم پنڈت نہرو نے اعلان کیا ہے کہ جب تک وہ وزیراعظم ہیں ہندوستان کبھی ہندو سٹیٹ نہیں بن سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ دلی میں ہوا ہے وہ اُس پر دنیا کے سامنے سر اُٹھانے کے قابل نہیں رہے انڈیا کا نام خاک میں ملا دیا گیا۔
پاکستان ٹائمز میں 18 ستمبر کو ایک خبر کے مطابق 20 لاکھ روٹیاں لے کر تیس ٹرک لاہور سے امرتسر گئے جہاں دو لاکھ مسلمان پاکستان آنے کے لئے بے چین ہیں اور گزشتہ دو دنوں سے اُن کے پاس کھانے کو کچھ نہیں۔
23 اگست کے ڈیلی ڈان کے مطابق پاکستان کالونی کراچی کی ایک مسجد میں نماز جمعہ کے خطبہ میں قائداعظم کا امیرالمملکت کے نام سے خطبہ پڑھایا گیا جو پیرالٰہی بخش (سندھ کے وزیرتعلیم) نے پڑھا۔ پیر صاحب نے یہاں بیان جاری کیا کہ روایت یہی ہے کہ خطبے میں خلیفہ اور بادشاہ کا نام لیا جائے، چنانچہ اِس روایت کی پیروی کرتے ہوئے میں نے ایسا کیا ہے۔ انہوں نے تمام علماء سے اپیل کی کہ وہ نماز جمعہ کے خطبے میں قائداعظم کا نام لیا کریں۔

مزید :

رائے -کالم -