گاؤں جانے سے ایک مہینہ پہلے ہی فون آجاتا کہ 4 دیسی ککڑ ڈھونڈ کر باندھ رکھے ہیں، میری مہمانداری کا انجام مونگ کی پتلی دال سے ہوتا 

 گاؤں جانے سے ایک مہینہ پہلے ہی فون آجاتا کہ 4 دیسی ککڑ ڈھونڈ کر باندھ رکھے ...
 گاؤں جانے سے ایک مہینہ پہلے ہی فون آجاتا کہ 4 دیسی ککڑ ڈھونڈ کر باندھ رکھے ہیں، میری مہمانداری کا انجام مونگ کی پتلی دال سے ہوتا 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:247
 میرے گاؤں جانے سے ایک مہینہ پہلے ہی اس کا فون آجاتا کہ آپ کے لیے 4 دیسی ککڑ ڈھونڈ کر باندھ رکھے ہیں اس لیے جلدی آ جائیں۔ یہ میرا اور اس کا ایک غیر تحریر شدہ معاہدہ ہے جس کے تحت اس نے میری مہمانداری کا آغاز دیسی مرغ سے اور انجام مونگ کی پتلی دال سے کرنا ہوتا ہے، اس کا بس نہیں چلتا ورنہ وہ اور نا جانے کتنی چیزیں جمع کر لیتا۔اس کے پاس جا کر رہنے سے ہم دونوں کو ہی بہت مسرت ہوتی ہے۔
 ان سب بھائیوں کے علاوہ منظور ہے جو ظہور کا چھوٹابھائی ہے، انتہائی کمسن ہونے کی وجہ سے اس کی خدمات سے زیادہ استفادہ نہ کیا جا سکا، اس لیے جب ہم اپنے نام نہاد شکار پر جاتے تو یہ اپنے نیم قدرتی لباس میں گلی کے نکڑ پر کھڑا انگوٹھا چوستا رہتا اورہمیں کھیتوں میں گم ہوتا دیکھتا رہتا۔ 
منظور اب چھوٹا نہیں رہا اور نہ ہی وہ انگوٹھا چوستا ہے۔ اس کے بچے ماشاء اللہ تعلیم کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے بہت تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ خود اس نے اپنے لیے کاشتکاری کا پیشہ چن لیا ہے۔ 
میرے 2بڑے پھوپھی زاد بھائی سلیم اور رشید جن کا ذکر آندھی روکنے کے حوالے سے آ چکا ہے، وہ کچھ جلدی بڑے ہو گئے تھے اس لیے انھوں نے ہمارے گروپ میں شامل ہونے کے بجائے شادیاں کرنے اور بچے پیدا کر کے گاؤں کی آبادی بڑھانے کو ترجیح دی اور اپنے ذاتی گروپ تشکیل دے لیے۔
محمد افضل چوہدری
افضل سے میرے کئی رشتے نکلتے ہیں، ایک تو یہ میری اُسی پھوپھی کا بڑا بیٹا ہے جس سے بچپن میں میرے سفارتی تعلقات ہمیشہ کشیدہ رہتے تھے، پھر یہ بڑا ہوا تو چھوٹی بہن نسرین کو بیاہ کر لے گیا۔ اب اپنا بھائی ہونے کے ناطے تو اس سے ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ چلتی رہتی ہے تاہم بہنوئی ہونے کی وجہ سے بات کو آگے بڑھانے میں کچھ مشکلات حائل رہتی ہیں۔ ویسے بھی اس کے دور رہنے کی وجہ سے ہم اتنے قریب نہیں آ سکے اور اس کی خدمات سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔ پھر عمروں کا بھی واضح فرق ہے، اس لیے میں کھل کر اس سے نبٹ بھی نہ سکا۔ ہاں اس کا جسم قدرے فربہی کی طرف مائل ہونے کی وجہ سے سب لوگ اسے ”افضل موٹا“ کہتے تھے، سو میں نے بھی یہی کہنا شروع کردیا، بلکہ میں نے تو ایک قدم اور آگے بڑھ کر اس کی بیٹی کو بھی یہ سبق رٹا دیا تھا۔ جب لوگ اس سے ابو کا نام پوچھتے تو وہ بڑی معصومیت سے توتلی زبان میں اسے ”افضل موتا“ ہی بتاتی تھی۔ میرے پاس تو اس سے زیادہ کچھ یادیں نہیں ہیں ہاں ہم عمروں کو اس کے کچھ اندرونی رازوں کا علم ہے لیکن چونکہ یہ میرا مسئلہ نہیں ہے اس لیے میں تو خاموش ہی رہوں گا۔ وہ خود ہی اکثر آپس میں ایک دوسرے سے نبٹتے ر ہتے ہیں اور اس دوران کچھ اندرونی راز بھی فاش کر دیتے ہیں۔
ماشاء اللہ وکالت میں کافی نام روشن کر لیا ہے اس لیے نہ صرف بات چیت سے بلکہ شکل و صورت سے بھی ٹھیک ٹھاک وکیل ہی لگتا ہے۔ اس کی آمدنی کو بھی ہم جرائم کے پلڑے میں ڈال کر ناپتے ہیں۔ برخوردار کی یونیورسٹی فیس کے لیے ایک قتل کا کیس اور بیٹیوں کے سوٹ کے لیے جیب تراشی کی ایک معمولی واردات کافی ہوتی ہے۔ معمول کے گھریلو اخراجات تو روز مرہ کی مارکٹائی اور سر پھٹول کے کیسوں سے ہی پورے ہو جاتے ہیں۔
سیاست میں بھی ہاتھ پاؤں مارنے شروع کر دیئے ہیں۔ اور بڑے بڑے لوگوں کے آگے پیچھے منڈلانا شروع کردیا ہے۔ لیکن کامیابی اس لیے مشکوک ہے کہ اپنے تعلقات کا زیادہ ڈھنڈورہ نہیں پیٹتا، اور عام حالات میں پچھلی نشستوں پر اور کھانے کے وقت ہمیشہ اگلی قطاروں میں نظر آتا ہے۔ وکیلوں کا سردارہے، بار کونسل میں تین چارسال سے مسلسل صدارت کی کرسی پر بیٹھا ہوا ہے، ہر بار آرام سے الیکشن جیت جاتا ہے، اس کا خیال ہے کہ اس کی مانگ ہی بڑی ہے جبکہ میری بہن یہ سمجھتی ہے کہ یہ مانگ وانگ کا نہیں ان دیگوں کا کمال ہے جو الیکشن کے دنوں میں گھر کے سامنے والے میدان میں سیاہ کوٹ والوں کی خوشنودگی کے لیے خصوصی طور پر کھڑکائی جاتی ہیں۔  (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -