ساری مشقت سے یہ نتیجہ نکالا کہ معاشرے میں پھیلی بد عنوانی کو ہم مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتے تاہم اس کو کم کرنے کی طرف توجہ ضرور دینی چاہیے

ساری مشقت سے یہ نتیجہ نکالا کہ معاشرے میں پھیلی بد عنوانی کو ہم مکمل طور پر ...
ساری مشقت سے یہ نتیجہ نکالا کہ معاشرے میں پھیلی بد عنوانی کو ہم مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتے تاہم اس کو کم کرنے کی طرف توجہ ضرور دینی چاہیے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد اسلم مغل 
تزئین و ترتیب: محمد سعید جاوید 
 قسط:78
میں نے یہ حکمت عملی بھی بنائی تھی کہ کسی بھی پارک کی سطح اس کے ساتھ سے گزرتی ہوئی سڑک سے بلند نہیں ہو گی۔ اس کی 2 وجوہات تھیں  ایک تو یہ کہ پارک کی اس جگہ کو بلند کرنے کے لیے مٹی کے بھراؤ کی ضرورت نہیں تھی جس سے نہ صرف محکمے کی کافی رقم بچتی، بلکہ اس دوران ٹھیکیداروں اور محکمے کے ملازمین کی ملی بھگت سے لین دین میں بد عنوانیوں اور مالی بے ضابطگیوں میں بھی کمی آجاتی۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ نشیب میں ہونے کی وجہ سے سڑکوں پر سے بارش کا پانی فوری طور پر بہہ کر اس میں جذب ہو جاتا اور زیر زمین پانی کے ذخیرے میں اضافہ ہوتا جو کہ لاہور میں تیزی سے نیچے جا رہا تھااور مستقبل کے لیے بہت سارے مسائل کی نشاندہی کر رہا تھا۔جس سے سڑک کی طبعی عمر میں بھی اضافہ ہو جاتا جو دوسری صورت میں پانی کھڑا ہونے کی بناپر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی تھی، پارکوں کی کچی جگہ پر پانی زمین میں جذب ہوجاتا جس سے زیر زمین پانی کی سطح بہتر ہو جاتی تھی۔ پھر میں نے یہ بھی طے کیا کہ ایل ڈی اے اپنی نرسریاں خود قائم کرے گی اس سے اس رقم میں کمی آئے گی جو باہر سے پودے خریدنے پر صرف ہوتی تھی،اور یوں ہم نجی نرسریوں کے ساتھ مقابلے کی ایک فضاء بھی قائم کرلیں گے جو بالآخر ان کو بتدریج قیمتیں کم کرنے کی ترغیب دے گی اور شہریوں کے لیے سستے پودے مہیا ہوں گے۔
اس کے علاوہ میں نے کھاد وغیرہ کی خریداری میں بد عنوانی کے عنصر کو کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کئے اور کچھ ایسے اقدام اٹھائے کہ  نظام میں باقاعدگی پیدا ہوئی اور پیسے کے ناجائز استعمال کو روکا گیا۔ دراصل اپنی ڈھیر ساری مصروفیات کے ساتھ ساتھ میں ایک ایسا نظام بنانے کی کوشش بھی کر رہا تھا جس سے مجموعی طور پر کچھ اچھے نتائج برآمد ہوتے۔ میں یہ تو نہیں کہتا کہ میں نے سب کچھ ٹھیک کر دیا تھا خصوصاً  محکمے کو مالیاتی بد عنوانی سے مکمل طور پر پاک کرنا، لیکن  مجھے اطمینان ہے کہ میں نے اس سلسلے میں کچھ نہ کچھ ایسے اقدام ضرو ر اٹھائے تھے جس کے کچھ مثبت نتائج بھی سامنے آئے۔ اس ساری مشقت سے میں نے یہ نتیجہ نکالا کہ معاشرے میں پھیلی ہوئی بد عنوانی کو ہم مکمل طور پر ختم تو نہیں کر سکتے تاہم ہمیں اپنی زیادہ سے زیادہ توجہ اس کو زیادہ سے زیادہ کم کرنے کی طرف دینا چاہیے۔
نیو مسلم ٹاؤن میں مجھے جو پلاٹ الاٹ ہو تھا اور جس پر میں نے اس پر اپنا گھر تعمیر کیا تھا، وہ میں نے فروخت کر دیا۔ یہ بات میاں جی کو پسند نہیں آئی۔ اب اُنھیں کیا علم تھا کہ میں قرضے کا کتنا بڑا بو جھ اپنے کاندھوں پر اُٹھائے پھر رہا تھا۔ میں اس مکان کو بیچ کریک مشت اپنا سارا قرض اتار سکتا تھا اور بقایا رقم سے اپنے لیے ایک مناسب پلاٹ بھی خرید سکتا تھا۔ میں نے اپنے پروگرام کے مطابق نیو گارڈن ٹاؤن لاہور میں 9000 مربع فٹ کا ایک پلاٹ خرید لیا۔ 
میرے بیٹے عمر کی پیدائش کے موقع پر میاں جی نے مجھے اطلاع دی کہ وہ اس کو صحت مند رکھنے کے لیے تازہ دودھ مہیا کرنے کا انتظام کر رہے ہیں اور جلد ہی ایک بھینس میرے گھر میں بھیج دیں گے۔ مجھے ان کو قائل کرنے میں ایک زمانہ لگا کہ میرے لیے اس بھینس کو سنبھالنا بہت مشکل ہو گا لہٰذا وقتی طور پر اس خیال کو دل سے نکال دیں۔ حالانکہ یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں تھی۔ ایل ڈی اے کالونی میں میرے پڑوسی چوہدری منیر نے اپنے گھر میں ایک بھینس پال رکھی تھی۔ 
میں نے  1977 میں خریدے گئے پلاٹ پر گھر کی تعمیر شروع کروا دی۔ میرے وسائل محدود تھے اس لیے میں نے کچھ قرضہ محکمے سے حاصل کیا اور کچھ پیسے دوستوں سے پکڑے اور یوں یہ تعمیراتی کام چل نکلا۔ پھر بھی رقم کی کمی کی وجہ سے کئی دفعہ کام کو بیچ میں ہی روکنا پڑا۔  کام بہرحال آہستہ آہستہ چلتا رہا اور یوں 1980 میں یہ گھر مکمل ہو گیا۔ میں نے اس گھر کی تعمیر کو ایل ڈی اے کے ملازموں اور افسران سے خفیہ رکھا تھا اور کسی کواس کی ہوا تک بھی نہ لگنے دی تھی، حتیٰ کہ میرے پی اے کو بھی اس بارے کچھ علم نہیں تھا۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اگر ان لوگوں کو اس کی خبر ہو جاتی تو وہ میری خوشنودی حاصل کرنے کی خاطرجائز و ناجائز ذرائع سے تعمیراتی سامان یا کچھ اور چیزیں ادھر ادھر سے حاصل کر کے مجھے بھیجنے کی کوشش کرتے، جو مجھے کسی طور بھی گوارا نہیں تھا۔  (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -