اپنے عمل اور گفتگو میں پیشہ وارانہ انداز اپنائیے، اکثر ادارے پیشہ ور افراد کی قیادت سے محروم ہیں، تعلیمی اسناد کی بجائے روئیے سے سوچ کا اظہار ہوتا ہے

اپنے عمل اور گفتگو میں پیشہ وارانہ انداز اپنائیے، اکثر ادارے پیشہ ور افراد ...
اپنے عمل اور گفتگو میں پیشہ وارانہ انداز اپنائیے، اکثر ادارے پیشہ ور افراد کی قیادت سے محروم ہیں، تعلیمی اسناد کی بجائے روئیے سے سوچ کا اظہار ہوتا ہے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ڈاکٹر ڈیوڈ جوزف شیوارڈز
ترجمہ:ریاض محمود انجم
 قسط:65
6:اپنے عمل، سوچ اور گفتگو میں ہمیشہ پیشہ وارانہ انداز اپنائیے:
میں نے اپنے مشاہدے کی بنیاد پر محسوس کیا ہے کہ اکثر مختلف قسم کے ادارے پیشہ ور افراد کی قیادت سے محروم ہیں، یعنی ان اداروں میں غیر پیشہ ور اور نا تجربہ کار افراد، سربراہ کے عہد ے پر فائز ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں کامیابی کے متلاشی افراد کو یہ فرق ضرور معلوم ہونا چاہیے۔ ایک پیشہ ور فرد اپنے کام کے ضمن میں تربیت یافتہ ہوتا ہے اور اپنے ہر کام کو خصوصی مہارت اور اہلیت کے ساتھ انجام دیتا ہے۔ پیشہ ور، یعنی تربیت یافتہ اور تجربے کار فرد کے سامنے جو بھی معاملہ یا مسئلہ درپیش ہوتا ہے، وہ اسے حل کرنے کے لیے اپنی بھر پور صلاحیت اور مہارت استعمال کرتا ہے، جبکہ ایک ناتجربہ کار فرد۔ در پیش مسئلے یا معاملے کو حل کرنے کے لیے ایسا طرز عمل اختیار کرتا ہے جیسے وہ کسی کھیل تماشے اور مشغلے میں مصروف ہو۔ ایک ناتجربے کار اور غیر تربیت یافتہ شخص اپنے کام کو انجام دینے کے ضمن میں سطحی، غیر محتاط اور نااہلیت پر مبنی رویہ اختیار کرتا ہے۔بہرحال یاد رکھیئے کہ طبی، قانونی، تعلیمی اور دیگر میدان جہاں کئی سالوں پر مشتمل مستقل اور مسلسل تربیت اور تجربہ درکار ہوتا ہے، وہاں حقیقتاً ناتجربہ کار اور غیر تربیت یافتہ افراد ان میدانوں میں سربراہی اور راہنمائی کے فرائص سر انجام دیتے ہیں۔ تعلیمی اسناد کی بجائے روئیے کے ذریعے پیشہ وارانہ سوچ اور انداز فکر کا اظہار ہوتا ہے۔
جو ادارے عام طور پر کامیاب کہلاتے ہیں، حقیقی اور اصلی پیشہ ور افراد کی زیر قیادت اپنی کاروباری و دیگر سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔ حال ہی میں ایک انجینئرنگ کمپنی کے سربراہ سے اس کے مخصوص میدان کے حوالے سے ”پیشہ وارانہ انداز اور سوچ“ کے موضوع پر بات چیت ہوئی۔ اس ضمن میں اس کا تبصرہ یوں تھا:”ہم ہر معاملے میں ”پیشہ وارانہ انداز اور سوچ“ پر توجہ دیتے ہیں۔ ہم اپنے عملے سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنے فعل، سوچ اور رویے میں پیشہ وارانہ انداز اختیار کریں، یعنی ہمارا مطلب یہ ہے کہ ادارے میں موجود ہر شخص پیشہ وارانہ انداز اور سوچ اپناتا ہے۔ جو لوگ ہمارے ادارے میں غیر پیشہ وارانہ رویہ اختیار کرتے ہیں، وہ ہمارے ادارے کا وقار اور اہمیت نہایت تیزی سے تباہ کرنے پر تلے ہوتے ہیں۔“
اپنے آپ سے پوچھئے، کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا علاج کوئی مکمل طور پر غیر تربیت یافتہ اور ناتجربے کار ڈاکٹر کے ذریعے ہو؟ اور یا پھر کوئی غیر تربیت یافہ اور ناتجربے کار وکیل آپ کی وکالت کرے؟ کامیاب اور ذہین لوگ، اپنے ہر کام کے سلسلے میں پیشہ وارانہ افراد کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔
یہاں پر قابل غور اور یاد رکھنے کے قابل نکتہ یہ ہے کہ اگر آپ کسی ادارے یا شعبے کی قیات سنبھالناچاہتے ہیں تو آپ کو اپنے فعل، اپنی سوچ اور اپنی گفتگو میں پیشہ وارانہ انداز اور سوچ اپنانی ہوگی۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -