پولیس کی کارکردگی کیسے بہتر ہوگی؟

پولیس کی کارکردگی کیسے بہتر ہوگی؟

  



 پیپلز پارٹی کے گزشتہ تقریباً ساڑھے چار سالہ دور اقتدار میں جس طرح وفاقی حکومت کے نیگیٹو پوائنٹس میں بجلی وگیس کی انتہائی تکلیف دہ لو ڈشیڈنگ، تیل اور اس کی مصنوعات کی قیمتوں میں ناقابل بر داشت اضافہ اور مہنگائی وبے روزگاری کے نہ رکنے والے طوفان شامل ہیں اسی طرح پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے پلڑے میں بھی ڈاکوﺅں، راہزنوں، چوروں ودیگر جرائم میں ملوث عناصر کی آزادانہ مجر ما نہ سرگرمیاں، پولیس کی من مانیاں، عدم تحفظ، لوگوں کو گھروں کے اندر اور باہر دیدہ دلیر ی کے ساتھ لو ٹ لیا جا نا، بغیر رشوت اور سفارش داد رسی کے لئے تھانوں میں جانے والوں کے ساتھ بد سلو کیا ں اور عدم تعاون، اپنے ذاتی مفادات یا کسی سیاسی یا ”بالائی “حکم پر بے قصو ر لوگوں پر گھروں سے اٹھا کر تشدد یا پولیس مقابلوں کا سامنا، سیاسی سر پر ستوں کی غیر قانونی اور ناجائز خواہشات کی تکمیل، میرٹ کی بجائے بااثر سیاسی حلقوں یا ما لی فوائد کی بنیاد پر تقرریاں و تعیناتیاں، تفتیشوں، انکوائر یوں میں طمع، لالچ، ذاتی، سیاسی وانتقامی بنیادوں پر جانبداریاں، قبضہ مافیا کی سرپر ستی، بڑے پولیس افسروں کی طر ف سے ماتحت افسروں کی غیر قانونی وخلا ف میرٹ غلطیوں وکوتاہیوں پر دانستہ چشم پو شیاں، اختیار ا ت کے ناجائز استعمال کی حوصلہ افزائی، اوپر والوں کی نا راضگیوں یا اپنے ذاتی مفادات کے لئے ڈکیتی کی وارداتوں کو چوریوں میں تبدیل کر نے اور کسی کے خلاف انتقامی کا رروائیوں کی خاطر چوریوں کی وارداتوں کو ڈکیتیوں میں تبدیل کر نے کے واقعات، مقدما ت کے اندرا ج واخرا ج کے لئے رشوت کا حصول،ناکوں پر اور گشت کے دوران اپنی ڈیوٹی کی بجائے لوگوں کو بلیک میل اور تنگ کرکے رشوت لینا،بڑے صنعتکاروں یا بڑے تاجروں سے پولیس افسران کے مراسم کے نتیجے میں قیمتی تحفے تحائف اور دیگر فٹیکس کا حصول اور اس کے بدلے میں افسروں کی ان پر خصوصی نواز شات، جیسے بہت سے نیگیٹو پوائنٹس موجود ہیں۔ جنہوں نے مسلم لیگ(ن) کے پلس پوائنٹس کو بھی زیروکرکے رکھ دیا ہے ۔

 یہ نیگیٹو پوائنٹس تو صر ف پولیس ڈیپارٹمنٹ سے ہی متعلق ہیں،دیگر محکموں میں بھی صورت حال اس سے مختلف نہیں ۔ اربوں روپے کے جدید وسائل کی فراہمی کے باوجود پولیس کی مایوس کن کارکردگی کا اعتراف خود وزیر اعلیٰ پنجاب جنا ب شہبا زشریف کو بھی گزشتہ دنوں اپنے ایک بیان میں کرنا پڑا ۔ماضی میں جب پولیس کی تنخواہیں کم تھیں ضروری مراعات وسہولتوں کا بھی فقدا ن تھا،نہ تو ضرورت کے مطابق ٹرانسپورٹ موجود تھی اور نہ ہی اس کے پا س جدید اسلحہ تھا بہت سے تھانے چوکیاں خستہ حالت میں تھے، تفتیش کے لئے نہ تو مناسب فنڈ ز موجود تھے اورنہ ہی مطلوبہ نفر ی، اس بے سروساما نی کے باوجود جب کوئی سنگین واردات ہوجاتی تھی تو ایس ایچ او کی نیند اڑ جا تی تھی ۔ وہ کھوج لگانے کی کو شش کر تا تھا ۔ مشکو ک افراد پر نظر رکھتا تھا۔ اس وقت کا نمبر داری اور چوکیداری سسٹم اسے دیہی علاقوں کی صورت حال سے آگاہ رکھتا تھا ۔ مگر جب سے پولیس کی تنخواہوں، مراعات، سہولتوں میں اضافہ ہوا ہے وہ ”آرام پسند “ہوگئے ہیں، اب سنگین وارداتوں کا بھی پولیس پر کوئی اثر نہیں ہوتا، اپنے اوپر کے افسروں کی عارضی خفگی کا اثر کچھ دیر تک قائم رہتا ہے ۔ اس دوران کچھ جوش بھی دکھائی دیتا ہے مگر موجودہ سسٹم اور اس کے اثرات اس کے جذبہ فرض شنا سی اور قانونی ذمہ داری کو تھپکیاں دے کر سلا دیتے ہیں ۔

اس کا یہ مطلب یا مفہو م نہیں ہے کہ پولیس کو جدید وسائل فراہم نہیں کرنے چاہئیں، ان کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہونا چاہیے موجودہ دور میں ہونے والے جرائم کی بیخ کنی کے لئے فراہم شد ہ وسائل بھی کم ہیں اور موجودہ مہنگائی کے تناسب سے تنخواہیں بھی کم ہیں ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ سسٹم میں تبدیلی ضروری ہے اورموجود ہ کانسٹیبل سے لے کر آئی جی پولیس تک کے بر ین واش کی ضرورت ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ آئی جی پولیس حاجی حبیب الرحمن بھی اب وقت کے ساتھ ساتھ نافذ العمل پولیس نظام کا حصہ بن چکے ہیں ۔ آج کے آئی جی پنجاب اور بطور اے ایس پی اپنی سروس جوائن کرنے کے کچھ دیر بعد تک کے پولیس افسر کے درمیا ن زمین آسما ن کا فرق پیدا ہوچکا ہے ۔ مجھے اچھی طرح یا د ہے کہ میرا ان کے ساتھ ذاتی تعلق ہمارے ایک مشترکہ دوست کی بدولت قائم ہوا تھا، اُن دنوں وہ فیصل آباد ڈویژن میں بطور اے ایس پی تعینات ہوئے تھے۔ مَیں ان دنوں روزنامہ جنگ کے فیصل آباد میں نمائندہ کی حیثیت سے ڈیوٹی کر رہا تھا ۔ حاجی حبیب الرحمن صاحب کے ذمہ حیدر آباد تھل ضلع جھنگ کے کسی مقدمہ کی تفتیش تھی جس کے لئے وہ حیدر آباد تھل جانا چاہتے تھے ۔ وہ بغیر یونیفار م کے میرے پا س آفس میں آئے اور مجھے حیدر آبا د تھل تک ساتھ چلنے کے لئے کہا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ہم نے کسی سرکاری سواری کی بجائے کسی بس یا ویگن کے ذریعے بڑی راز داری کے ساتھ وہاں جانا ہے اور بالکل میرٹ پر انکوائری کر کے رپورٹ دینی ہے ۔ میں تو اپنی مصروفیت کی وجہ سے ان کے ساتھ نہ جا سکا لیکن بعد میں انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ اپنے ایک دوست رانا افتخار کو ساتھ لے گئے تھے۔

 انہوں نے اس کیس کی انکوائری جس طریقے سے اور جس انداز سے کی وہ پولیس کے موجودہ سسٹم سے مختلف ہے جس کے تحت وہ آج اپنے ماتحت افسروں سے کام لے رہے ہیں ۔ یہ درست ہے کہ ہر کیس کی اُس طریقے سے انکوائری کر نا شاید مشکل ہو مگر اس طریقہ کا ر کو مطلوبہ سسٹم میں کسی حد تک شامل کر کے موجودہ سسٹم میں بہتر ی ضرور لائی جا سکتی ہے موجودہ پولیس کابرین واش کرنے کے لئے پہلے بڑے افسروں اور پھر ماتحت افسروں ودیگر ملازمین میں خوف خدا پیدا کرنے کی ضرورت ہے جس کی بنیا دی شرط پانچ وقت نماز کی پابندی ہونی چاہیے اور نما ز کی پابندی کا اطلا ق ہر تھانہ اور چوکی پر بھی ہوناچاہیے تمام پولیس ملازمین کی ڈیوٹی ہر صورت میں آٹھ آٹھ گھنٹے تک کی جانی چاہیے اور رشوت، نا انصا فی اور دیگر سما جی برائیوں کے حوالے سے ان کی خصوصی تربیت کا اہتمام کرنا چاہیے جس میں ان سے متعلقہ شرعی سزاﺅں کا ذکر خاص طور پر کرنا چاہیے۔ رشوت، ناانصا فی، غلط تفتیش کرنے والوں کے خلاف سخت قوانین بناکر ان پر مکمل عملدرآمد ہونا چاہیے، علاوہ ازیں پولیس کے ٹریننگ سنٹرز میں خاص طور پر عملی دینی تربیت کا اہتمام ہونا چاہیے، اس تربیت کا باضابطہ امتحان لے کر اس میں اچھے نمبروں کے ساتھ پاس ہونا بھی ضروری قرار دیا جائے اس ساری تربیتی مہم جوئی کے علاوہ تمام پولیس افسروں وملازمین اور ان کے خونی رشتہ داروں کی جائیدادوں کا ریکارڈ محفوظ کرنا چاہیے ان کے رہن سہن سماجی تعلقات بچوں اور گھر کے اخراجات کا ریکارڈ بھی رکھنا چاہیے جس کا ہر سال آڈٹ ہونا چاہیے۔

 سیاسی اور سفارشی بنیادوں پر تقرریاں اور تعیناتیاں کروانے والوں کو فوری طور پر برطرف کرنا چاہیے ان کے علاوہ ملک کے دانشور، طبقوں تجربہ کار نیک نام ریٹائرڈ بڑے چھوٹے پولیس افسروں بلکہ پڑھے لکھے ریٹائرڈ ماتحت ملازمین سے ان کے تجر بات کی روشنی میں مجوزہ پولیس سسٹم کے بارے میں تجاویز آراءطلب کرکے بڑے پیمانے پر سیمینارز اور مذاکروں کا اہتمام کرکے بہتر نتائج حاصل کرنے چاہئیں اور انہی نتائج کو مجوزہ سسٹم کا حصہ بنانا چاہیے اس کے بعد جونہی بہتر سفارشات سامنے آئیں ان پر سختی سے عملدرآمد کرانا چاہیے اور ان کا طلاق ہر افسر ملازم پریکساں حیثیت سے ہونا چاہیے جناب شہباز شریف نے خفیہ رپورٹوں کے لئے پولیس کی سپیشل برانچ سے مدد حاصل کرنے کا عندیہ بھی ظاہر کیا ہے مشاہدے میں آیا ہے کہ ڈویژن میں تعینات آر پی او ضلع میں تعینات سی پی او یا ڈی پی او بعض اوقات کسی نہ کسی طرح سپیشل برانچ کی ان خفیہ رپورٹس تک رسائی حاصل کرکے متعلقہ افسروں یا ملازمین کو مرعوب کرلیتے ہیں جو ان کی خفیہ تحقیق کے ذریعے ان کے بارے میں تیار کی جاتی ہیں اس طرح وہ ان کے خلاف کسی قسم کی رپورٹ بھیجتے ہوئے خوفزدہ ہوجاتے ہیں اس کے لئے ضروری ہے کہ ضلعی پولیس کے افسران وملازمین کی تعیناتیاں سپیشل برانچ میں نہ کی جائیں سپیشل برانچ میںتعیناتیاں مستقل بنیادوں اور صرف سپیشل برانچ کی بنیادوں پر کی جانی چاہیں تاکہ کوئی بھی آر پی او، سی پی او، ڈی پی او ان پر اثر انداز نہ ہو سکے ایک ایساواقعہ بھی مشاہدے میںآیا کہ مرید والا تھانہ کے علاقہ میں ڈکیتی کی سنگین واردات ہوئی ایس ایچ او نے مدعی پر پریشر ڈالا کہ ڈکیتی کی بجائے چوری کا پرچہ درج کروالو کیونکہ ڈکیتی کے مقدمے کے اندراج سے پولیس کو محکمانہ سزائیں بھگتنا پڑتی ہیں اور کٹھن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔

ایس ایچ اونے ڈکیتی کا مقدمہ درج نہ کیا مدعی سیدھا سی پی او کے روبرو پیش ہوگیا اور انہیں سارا واقعہ سنایا سی پی او نے مدعی کے سامنے ہی فون پر متعلقہ ایس ایچ او کو سخت برا بھلا کہا اور فوری مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا مدعی پھر ایس ایچ او کے پاس گیا مگر اس نے سی پی او کے حکم کو نظر انداز کرکے چوری کی ایف آئی آر ہی درج کی،کیاوہ سی پی او اور ایس ایچ او کے درمیان نورا کشتی تھی ؟ اس کا اثر یہ ہوا کہ پولیس نے اس مقدمہ میں نقشہ موقعہ بنانے کے سواآج تک کچھ بھی پیش رفت نہیں کی بلکہ مقدمہ کی فائل پر جھوٹی ضمنیاں درج کی جاتی رہیں ۔حالانکہ مدعی نے اپنی کوشش سے ڈاکوﺅں کا سراغ لگالیا اس طرح کی صورت حال میں وزیر اعلیٰ پنجاب اگر مزید کھربوں روپے کے وسائل بھی پولیس کو دے دیں تب بھی انہیں مطلوبہ نتائج نہیں مل سکتے ایک اور واقعہ کی مثال بھی پیش کر رہا ہوں کہ ضلع جھنگ کے تھانہ شورکوٹ میںایس ایچ او نے ایک پویس ٹاﺅٹ کی مدعیت میں چوری کا ایک مقدمہ درج کیا جس میں 7/8 نامعلوم ملزم درج کروائے گئے اس کیس میں تقریبا 80 افراد مختلف اوقات میں پولیس نے پکڑے جن سے نذرانے وصول کیے جاتے رہے مدعی اور پولیس سازباز کے نتیجے میں وہ تمام چھوڑد یئے گئے ۔ پولیس نے اس کیس کوکاروباربنالیا پھر 7/8 کی بجائے 9/10 بے گناہ افراد پکڑلئے ۔ ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا اور اپنی طرف سے مسروقہ اشیاءان پر ڈال کر ان بے گناہوں کو چالان کرکے جوڈیشل لاک اپ میں بھیج دیا گیا تھانے میں پولیس تشدد کرکے اپنا کاروبار چلاتی رہی اور پولیس نے مدعی کے ہاتھوں سے تھانہ کے اندر ایک ملزم پر تشدد بھی کروایا اس کی شکایت آر پی او فیصل آباد کو کی گئی انہوں نے ڈی پی او جھنگ کو کاروائی کا حکم دیا ۔

 ڈی پی او جھنگ نے اس کی انکوائری ایک ڈی ایس پی کے سپرد کردی ان کی فرض شناسی دیکھیئے انہوں نے ملزم فریق کو حکم دیا کہ وہ تھانہ شورکوٹ کینٹ میں ہی تفتیش کے لئے حاضر ہوں۔ درخواست گزار انکوائری میں شامل ہونے جارہے تھے کہ انہیں اطلاع ملی کی ڈی ایس پی اور تھانہ شورکوٹ کینٹ پولیس آپس میں سازباز ہوچکی ہے اور تھانہ میں پہنچتے ہی انہیں حوالات میں بند کردیا جائے گا جس پر وہ خوفزدہ ہوکر تھانہ میں نہ گئے ڈی ایس پی صاحب مقررہ وقت پر تھانہ پہنچے تھانہ میں بند درخواست دہندہ کے بھائی کو باہر نکلوایا جس نے اصل بات بتائی کہ مدعی ٹاﺅٹ ہے بے گناہ لوگوں پر تھانہ میں تشدد کروا کر خود بھی کھارہا ہے اور پولیس کو بھی کھلارہا ہے مگر ڈی ایس پی نے طے شدہ پروگرام کے مطابق اسے یہ کہ کر واپس بھیج دیا کہ تم چور ہو ۔ یہ کیسی انکوائری ہے ۔ یہ کیسا پولیس سسٹم ہے ۔ اب پھر درخواست گزار آر پی او آفس کے چکر لگارہا ہے اور پولیس نے مدعی کی ملی بھگت سے اپنے پاس سے کچھ چیزوں کو برآمدگی بنا کر زیر حراست ملزم پر ڈال دیا کیا وزیراعلیٰ پنجاب موجودہ پولیس نظام کو اربوں کھربوں روپے کے وسائل دے کر مظلوم کو انصاف دلاسکیں گے؟ یہ صرف دوچار مقدما ت کی بات نہیں ہے ۔ جناب شہباز شریف اگر حقائق جاننا چاہتے ہیں تو فیصل آباد ریجن کے کسی ایک کیس کو ٹیسٹ کیس بناکر دیکھ لیں ۔ ایک بھی کیس ایسا نہیں نکلے گا جس میں کسی نہ کسی قسم کی رشوت، سفارش یا اثروسوخ استعمال نہ کیا گیا ہو ۔خود آر پی او آفس میں سائلین کی آر پی او تک براہ راست رسائی بڑے جان جو کھوں کا کا م ہے، درخواست گزار کو آر پی او کے روبر و پیش ہو کر اپنی فریا د سنا نے سے پہلے وہاں ایک الگ کمرے میں بیٹھے آر پی او کے سٹاف ممبرا ن کے سامنے درخواست لے کر پیش ہو نا ضروری ہے جہاں وہ درخواست کو آر پی او صاحب کے سامنے پیش ہونے یا نہ ہونے کا ”میرٹ“بناتے ہیں اور جو ان کے نزدیک میرٹ پر پورا اترے انہیں آر پی او کے سامنے پیش ہونے کی اجا زت دے دی جا تی ہے جبکہ ناپسند ید ہ درخواست گزاروں، بیرونی گیٹ سے باہر بھیج دیا جا تا ہے ۔ کیا یہ داد رسی کے لئے اعلیٰ افسر تک رسائی میں رکاوٹ نہیں ؟جناب شہبا ز شر یف کو ایسی بے شمار مثالوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سلسلے میں ہر پہلو سے جائزہ لے لینا چاہیے اور پولیس سسٹم میں تبدیلی لا کر پولیس کا برین واش کروا کر ڈیوٹی پر بھیجنا چاہیے پھر کہیں مزید وسائل فراہم کرنے چاہئیں بصورت دیگر وہ اربوں روپے کے فنڈ ز بھی عوام کے کسی کام نہ آسکیں گے ۔

مزید : کالم