اور اب سول نافرمانی

اور اب سول نافرمانی
اور اب سول نافرمانی
کیپشن: 1

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پاکستان کی آزادی والے دِن عمران خان نے لاہور سے اسلام آباد تک لانگ مارچ اور مطالبات کی منظوری تک اسلام آباد میں دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا۔ 14اگست کی صبح زمان پارک میں آزادی مارچ کی روانگی کے لئے تیاریاں مکمل تھیں۔ 13اگست کی رات عمران خان نے اپنے خطاب میں اعلان کیا کہ ایک ملین (دس لاکھ) افراد لاہور سے اسلام آباد کی جانب مارچ کریں گے۔ ان میں ایک لاکھ موٹر سائیکل سوار بھی ہوں گے، لیکن 14 اگست کی دوپہر زمان پارک سے روانہ ہونے والا آزادی مارچ ابتداءمیں ہی مایوسی کی تصویر بن گیا۔ عمران خان پورے زور سے کہہ رہے تھے کہ وہ بادشاہت ختم کرنے جارہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے مارچ نے مال روڈ سے ہوتے ہوئے راوی پل سے جی ٹی روڈ کا روٹ لیا۔ لاہور سے نکلنے میں اسے 10سے 12گھنٹے لگ گئے۔ یہ مارچ فیصل چوک (چیئرنگ کراس) اور حضرت علی ہجویریؒ کے مزار کے قریب کئی گھنٹے رکا رہا، حالانکہ 15مارچ 2009ءکو جناب محمد نوازشریف کی زیرقیادت عدلیہ بحالی لانگ مارچ کو جو اس سے کئی گنا بڑا تھا، 15گھنٹے گجرانوالہ تک جانے میں لگے تھے۔ لاہور سے نکلتے ہی آزادی مارچ کی تعداد مزید کم ہونے لگی اور گجرانوالہ پہنچ کر تو صورتِ حال نہایت مایوس کن ہو گئی تھی۔ وہا ں بھی خان صاحب 9گھنٹے سے زائد رکے رہے ۔ کس کا انتظار تھا عوام کا؟ میڈیا رپورٹس کے مطابق گجرانوالہ تک درجنوں گاڑیاں اور ڈیڑھ سو کے لگ بھگ موٹر سائیکلیں تھیں۔ گجرانوالہ میں ہی مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے کارکنوں میں تصادم بھی ہواجس سے عمران خان کے کنٹینر کو نقصان بھی پہنچا۔ خان صاحب کنٹینر وہیں چھوڑ کر ایلیٹ فورس کے ہمراہ بلٹ پروف لینڈ کروزر میں اسلام آباد روانہ ہوگئے۔


اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے پی ٹی آئی کو کشمیر ہائی وے پر جلسے کی اِجازت مل چکی تھی۔ سٹیج سج چکا تھا۔ کچھ فاصلے پر عمران خان نے شیخ رشید کو اپنی گاڑی سے اُتار دیا اور شیخ صاحب سماءنیوز کی گاڑی میں بیٹھ کر جلسہ گاہ تک آئے۔ عمران خاں کو غصہ تھا کہ شیخ کے دعوے کے برعکس جلسہ گاہ میں حاضری بہت کم تھی۔ لاہور سے چلنے سے پہلے انہوں نے کارکنوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اسلام آباد میں کارکنوں کے ساتھ رہیںگے۔ ان کے ساتھ سڑک پر لیٹیں گے، لیکن یہ دعویٰ بھی ایک ملین کے مارچ اور ایک لاکھ موٹرسائیکل سواروں کے دعویٰ کی طرح کھوکھلا نکلا۔ عمران خان بارش میں اپنے کارکنوں کو بے یارومددگار چھوڑ کر بنی گالہ میں اپنے300 کنال کے محل میں چلے گئے، جس پر پی ٹی آئی کے کارکنوں میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی اور وہ اگلی شام تک مایوسی کی تصویر بنے اپنے لیڈر کی راہ تکتے رہے۔ ہفتے کی شام عمران خان دوبارہ جلسہ گاہ آئے اور یہ کہہ کر کہ وزیراعظم استعفیٰ تیار رکھیں۔ ہفتے کی رات ایک بار پھر عمران خان نے اپنے کارکنوں سے گھر جانے کی اجازت مانگی اس بار کارکنوں نے انکار کر دیا تو کنٹینر پر ہی سو گئے، لیکن اتوار کی صبح 6بجے اُٹھ کر بنی گالہ روانہ ہوگئے ، بیچارے کارکن پھر بے یارومددگار۔۔۔اور خان صاحب بنی گالہ میں سنڈے برنچ انجوائے کرتے رہے۔ اتوار کی شام خان صاحب پھر جلسہ گاہ آگئے۔۔۔ اتوار کی دوپہر تک تو پی ٹی آئی کا جلسہ خالی کرسیوں کا دھرنا لگ رہا تھا۔ اتوار کو مارچ سے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ آج وہ تاریخی خطاب کریں گے، لیکن انہوں نے اپنے خطاب میں جو زبان استعمال کی وہ ان کی سطح کے لیڈر کو زیب نہیں دیتی۔ وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے عمران خان نے حکومت کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک کا بھی اعلان کر دیا اور کہا کہ وہ اِس جعلی حکومت کو نہیں مانتے۔ ویسے ایک بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ جس سسٹم کو عمران خان جعلی قرار دے رہے ہیں اُسی سسٹم کا حصہ خود عمران خان اور ان کے پارٹی رہنما ہیں۔ 30ارکان قومی اسمبلی اب تک ٹی اے ڈی اے ، تنخواہ اور دیگر الاو¿نسز انجوائے کررہے ہیں۔ اسی جعلی سسٹم کا وزیراعلیٰ پرویز خٹک پورے سرکاری پروٹوکول کے ساتھ لانگ مارچ دھرنے میں شامل ہوا۔ پشاور میں 14اگست کی شدید بارشوں کے باعث 15افراد جاں بحق ہوگئے اور صوبے کا چیف منسٹر سٹیج پر ناچتا رہا۔
جس وقت یہ سطور قلم بند کی جارہی ہیں ، عمران خان نے سول نافرمانی کی تحریک کے ساتھ ساتھ حکومت کو دو دِن کا الٹی میٹم بھی دے رکھا ہے۔ سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان بھی اور دودِن کا الٹی میٹم بھی ؟ اپنے اتوار والے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ ابھی تو سونامی کنٹرول میں ہے ،مگر دودن کے بعد کوئی گارنٹی نہیں پھریہ ہجوم جانے اور وزیراعظم جانے۔ یہ کیا رویہ ہے؟ یہ کیا زبان ہے؟ کل کو کوئی اور گروپ کسی اور حکومت کو گرانے کے لئے یلغار کر کے آجائے؟ ہم کہاں جارہے ہیں؟ عمران خان نے پاکستانی سیاست کو ذاتی دشمنی میں بدل دیا ہے، جو انتہائی خطرناک ہے۔ جو لہجہ عمران خان کا پی ایم ایل ن کی لیڈرشپ کے بارے میں ہے، اس پر نون لیگی سپورٹر جو پی ٹی آئی کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں اگر عمران کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے اور عمران خان جیسا لب و لہجہ اختیار کر لیا تو کیا ہوگا؟
ابھی رات کے (اتوار) 2بج رہے ہیں، کیپٹل نیوز کی اینکر پرسن بینش سلیم جلسہ گاہ سے رپورٹ کرتے ہوئے کہہ رہی ہیں کہ عمران کنٹینر پر موجود ہیں، جبکہ جلسہ گاہ میں کارکنوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ لیڈر جلسہ گاہ میں اور کارکن نہ ہونے کے برابر؟
انقلابی لیڈر ہر روز اپنے محل چلا جاتا ہے اور 10گھنٹے آرام اور نہا دھو کر واپس آجاتا ہے۔ یہ کس قسم کا دھرنا ہے؟ اور ہاں میوزیکل شو بھی تو ہے۔ عمران خان کو اپنا غیر جمہوری رویہ ترک کرنا ہوگا۔ اس وقت تمام اپوزیشن پارٹیاں حکومت اور جمہوریت کے ساتھ ہیں۔ عمران خان کے جائز مطالبات حکومت بھی سننے اور ماننے کو تیار ہے، مگر یہ فیصلے پارلیمنٹ میں ہونے چاہیں۔ اب دیکھتے ہیں کہ یہ دودِن کیا نیا رُخ لیتے ہیں۔ عمران خان کی تاریخ ہے کہ وہ یو ٹرن بہت آسانی سے لے لیتے ہیں۔ حکومت نے بھی اپنی طرف سے ایک کمیٹی بنا دی ہے جو پی ٹی آئی کی قیادت سے مذاکرات کرے گی اور اس مسئلے کا سیاسی حل نکالے گی۔ خیابان سہروردی پر دوسرا مارچ ”انقلاب مارچ“ بھی طاہرالقادری کی قیادت میں جاری ہے جس میں شرکاءکی تعداد عمران خان کے شرکاءسے دوگنا ہے اُس پر بات پھر سہی۔ کالم کے اختتام پر رانا ثناءاللہ کابیان پڑھ لیں، انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان اپنے 10لاکھ افراد کے دعویٰ کے مطابق لوگ لے آئیں تو وزیراعظم مستعفی ہوجائیں گے،مگر مزید 9لاکھ 90ہزار لوگ عمران کیسے اکٹھا کریں گے؟

مزید :

کالم -