غزہ سے بھی ”داعش“ نمودار ہوگی

غزہ سے بھی ”داعش“ نمودار ہوگی
غزہ سے بھی ”داعش“ نمودار ہوگی
کیپشن:   1 سورس:   

  

اسرائیلوں نے حزب اللہ کے خلاف2006ءمیں جنگ شروع کی، جس میں انہیں شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔اب انہوں نے غزہ میں حماس کے خلاف بدترین بربریت کا بازار گرم کررکھا ہے جومحصور و تنہا ہے، لیکن اس کے باوجود،ان کے عزم و استقلال میں کمی نہیں آئی اورتحمل و بردباری سے اسرائیلی مظالم برداشت کررہے ہیں اورفتح تک مزاحمت جاری رکھنے کے لئے پرعزم ہیں جیسا کہ ان کی پارلیمنٹ نے اعلان کیا ہے، جو ان کے قومی عزم و جذبے کا آئینہ دار ہے ۔ بذات خودغزہ کا معنی ہی ”ناقابل تسخیر“ ہے۔اس قسم کے بدترین ظلم و بربریت کے باوجودحماس کا حوصلے اور ہمت سے جنگ جاری رکھنے کا عزم بلاشبہ موجودہ دور میں ایک بڑی اعلی مثال ہے۔

دراصل یہ جنگ اسرائیل کی بقاءکی جنگ ہے۔ حزب اللہ کے خلاف 2006 ءمیں لڑی جانے والی پہلی جنگ تھی جس میںاسرائیل کوشکست کا منہ دیکھنا پڑااور اب حماس کے ہاتھوں اٹھائی جانے والی یہ شکست اسرائیل کی مکمل تباہی کی جانب اشارہ کرتی ہےں۔نوم چومسکی (Noam Chomsky)کا کہنا درست ہے کہ: ” اسرائیل کے لئے اب دنیا کی ہمدردیاں حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں بچا،کیونکہ پہلے اس کی پالیسیاں ایک سہمے ہوئے اور خطرے سے دوچار ملک کی سی تھیں، لیکن اب اس نے جواخلاقیات سے عاری ننگی جارحیت پر مبنی پالیسی اختیار کی ہے وہ اسے تباہی و بربادی کی جانب دھکیل رہی ہے“۔”خود کو تباہ و برباد کرنے کی خاطر“ اس قسم کی بربریت کے پس پردہ اسرائیل کا مقصد ایران ۔شام۔لبنان اور غزہ پر مشتمل چار قومی اتحاد کو کمزور کرنا ہے‘ جسے وہ اپنی سلامتی کے لئے خطرہ سمجھتا ہے۔ اسرائیل نے پہلے حزب اللہ کے خلاف2006ءمیں جارحیت کا ارتکاب کیا، لیکن بُری طرح ناکام ہوا۔ اس کے بعد اس نے اس چار ملکی اتحاد کو سازشوں اور ریشہ دوانیوں کے ذریعے توڑنے کا فیصلہ کیا اورامریکہ کی سرپرستی میں فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دی گئی‘ ایران کو بدنام کیا گیااور سنی اور شیعہ ممالک کے درمیان بدگمانیاں اور دوریاں پیدا کی گئیں۔ اسی سازش کے تحت سعودی عرب اور خلیج تعاون کونسل(GCC) کے سنی ممالک سے 2009ءمیں بحرین میں فوجی مداخلت کرائی گئی۔ انہی سازشوں کا نتیجہ ہے کہ آج شام میںشیعہ اور سنی ممالک باہم دست و گریبان ہیں اور ملک تباہی و بربادی کے دہانے پر کھڑا ہے۔

دشمن کی ان سازشوں ہی کی وجہ سے آج حماس انتہائی خطرناک صورت حال سے دوچار ہے۔اس کے اتحادی شراکت دار وں کے مابین تفریق پیدا ہو چکی ہے، جس کے باعث شیعہ ممالک، سنی حماس کی مدد نہیں کر رہے۔ادھر سیکولر مصر بھی اخوان اور حماس کی باہمی سیاسی ومذہبی ہم آہنگی کے پیش نظر حماس کی مدد کرنے سے انکاری ہے۔سعودی عرب اور خلیج تعاون کونسل کے سنی ممالک چاہتے ہیں کہ حماس کا وجود مٹ جائے اور یہی اسرائیل کا بھی ہدف ہے، کیونکہ وہاں پر سیاسی اسلام کا ظہور پذیر ہونا اسرائیل اور عرب حکمرانوں کے مفادات کے لئے بڑا خطرہ ہے، جیسا کہ مصر اور الجیریا میں ظہور پذیر ہونے والا سیاسی اسلام قابل قبول نہ تھا‘ لہذا ا س نظام کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔اسی طرح اب پاکستان اور ترکی بھی ایسے ہی خطرات کی زد میں ہیں۔ پاکستان میں جاری” موجودہ سیاسی کشمکش کے اغراض و مقاصدایسی ہی تحریک کی نشاندہی کرتے ہےں جسے انقلاب اور نظام کی تبدیلی کا نام دیا گیا ہے۔“

 اسرائیل نے بربریت اور وحشیانہ ہتھکنڈوں سے حماس کا محاصرہ کررکھا ہے اور سازشوں کے ذریعے اسے بے یار و مددگار اورتنہا بھی کر چکا ہے، لیکن حماس کی قومی غیرت ‘ جذبہ حریت اور مزاحمت کے عزم کو توڑنے میں ناکام رہا ہے۔غزہ کی قوم کی طرح افغان قوم بھی ناقابل شکست جذبہ حریت رکھتی ہے۔ افغان قوم کی تحریک آزادی پر ایم جے اکبر کا کہنا ہے کہ: ”افغان جہادی ‘ جو پختہ نظریاتی سوچ رکھتے ہیں‘ان کی کمان میں افغان مزاحمت کار سایوں کی طرح بڑھ کر قابض فوجوں پر حملہ آور ہوئے اور دودہائیوں کی قلیل مدت میں دو عالمی طاقتوں کو شکست سے دوچار کیا۔“اسرائیل اور حماس کے تصادم کی کیفیت غیرمتوازن جنگassymetric war کی ہے۔اسرائیلیوں کے پاس دنیا کی جدید ترین مسلح افوا ج موجود ہیں۔ انہوں نے اس جنگ کے لئے چھ انفنٹری ڈویژن سے زیادہ فوج متحرک کر رکھی ہے جسے نیوی اور ائر فورس کی مدد حاصل ہے، لیکن اس کے باوجود وہ ابھی تک حماس کے پیادہ جانبازوں کی برابری نہیں کر سکے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بزدلانہ اورغیر انسانی ڈاہلیا ڈاکٹرائن(Dahlia Doctrine) کو اپنایا ہے اورانسانیت سوز انداز سے نہتے اور معصوم مردوں‘ عورتوں اور بچوں کا قتل عام کر رہا ہے ۔اس نے اب تک 110سے زائد مساجد کو منہدم کیا ہے، 83 سکولوں، 27ہسپتالوں،3300 رہائشی عمارات، متعدد اندرون ملک مہاجرین کیمپوں(IDP Camps)، جنازوں کے اجتماعات اورپانی و بجلی کے نظام کو نشانہ بنایا ہے۔در حقیقت ڈاہلیا ڈاکٹرائن نے مکمل تباہی (Holocaust) کی سی صورت حال پیدا کر دی ہے، لیکن اس کے باوجود وہ حماس کے جذبہ حریت کو شکست دینے میں ناکام ہے۔

 حماس کی عسکری قوت بہت کم ہے، لیکن وہ اسرائیل کی بڑی فوجی طاقت کامقابلہ صرف الاقصی اور القاسم بریگیڈنامی دو عسکری فارمیشنوں کی مدد سے کر رہا ہے، جن کی تعداد تقریباً سات سے آٹھ ہزار تربیت یافتہ سپاہیوں پر مشتمل ہے،جنہیں دس سے بارہ ہزار نیم فوجی جوانوں کی مدد حاصل ہے۔ انہیں سپیشل آپریشن فورس گروپ کی بھی مدد حاصل ہے، جس نے سرحدوں کے پار متعدد آپریشنز کئے ہیں۔ان کے پاس نہ تو بھاری ہتھیار ہیں اور نہ ہی نیوی اور ائر فورس ہے، البتہ ان کے پاس کندھے سے داغنے والے اینٹی ائر، اینٹی ٹینک میزائل ، اورکم اور درمیانے زمینی فاصلے تک مار کرنے والے راکٹ موجود ہیں، جنہیں انہوں نے موثر طریقے سے استعمال کیا ہے۔ حماس کا دعوی ہے کہ انہوں نے 150 سے زائد اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کیا ہے اور400سے زائد کو زخمی کیا ہے۔

حماس نے لاتعداد راکٹ اسرائیلی علاقوں میں پھینکے ہیں، جن میں سے صرف چند راکٹ ہی اسرائیل کے پیٹریاٹ میزائل تباہ کر سکے ہیں۔ پیٹریاٹ میزائیلوں کی مدد سے اسرائیل کے قومی فضائی دفاع میں ’آہنی ڈوم ‘(Iron Dom)تعمیر کیا گیا ہے، لیکن حماس کے راکٹوںنے اس نظام کو بری طرح ناکام بنا کرآہنی ڈوم کی قلعی کھول دی ہے۔اس کے بعد اسرائیلی پیدل فوج کو مجبورہو کر حماس کے میزائل ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لئے زمینی کارروائیاں کرنا پڑیں، لیکن حماس کے جانبازوں کے ہاتھوں منہ کی کھانی پڑی بالکل اِسی طرح جیسا کہ 2006ءمیں حزب اللہ کے میزائل ٹھکانوں کو تباہ کرنے کی کوشش میںاسرائیلی فوجوں کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تھا اور اسے شکست ہوئی تھی۔

اس قدربہیمانہ جارحیت اور نقصانات اٹھانے کے باوجود حماس جنگ کو منطقی انجام تک جاری رکھنے کے لئے پر عزم ہے، کیونکہ عارضی جنگ بندی کے معنی اسرائیل کی دائمی قید میں رہنا ہے، جس نے ان کی سرزمین پر جبری قبضہ کر رکھا ہے اور حماس کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے درپے ہے، خصوصاً اس وقت جبکہ حماس بے یارومددگار اور تنہاہو چکا ہے۔غزہ کی سرزمین پردو متحارب طاقتوں کے درمیان جاری جنگ خطرناک صورت اختیار کرچکی ہے، لیکن فتح اسی کی ہوگی جو حق وصداقت پر ہو اور جس کا جذبہ اور عزم ناقابل تسخیر ہو۔ حماس کو قدرت کی تائید بھی حاصل ہے، جبکہ اسرائیلی بربریت کی عالمی سطح پروسیع پیمانے پر مذمت کی جارہی ہے ۔معروف اسرائیلی دانشور یوری آئنوری (Uri Avnery)کے بقول:

”ہمیں تسلیم کرنا ہو گا کہ ہمارا موجودہ دشمن بڑی حوصلہ مندی اور جدید اندازسے لڑ رہا ہے۔معجزاتی طور پر ان کے سویلین اور عسکری کمانڈکے ڈھانچے بدستور فعال ہیں۔تمام تر تباہی کے باوجود انہیں سویلین آبادی کی تائید حاصل ہے اور مزید یہ کہ دنیا کی بڑی عسکری طاقت کے ساتھ مسلسل چار ہفتوں کی جنگ کے باوجود ان کے عزم و استقلال میں کمی نہیں آئی ہے“ ۔

اسرائیل کی جنگ کا مقصد ”حماس کے عسکری اور سول ڈھانچے کو تباہ کرکے اس کی عسکری صلاحیت کوختم کرنا تھا“ لیکن اسرائیلی فوجیںتمام تر مظالم کے باوجود اپنے مقصد میں 10 فیصد تک بھی کامیابی حاصل نہ کر سکیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے جنگی مقاصد حاصل نہیں ہو سکے ہیںاورشکست ہوچکی ہے اورحماس فتحیاب ہے، کیونکہ مزاحمت کے پس پردہ کارفرما جذبہ حریت کوکبھی شکست نہیں دی جا سکتی۔

اسرائیلی فوجیں واپس ہونا شروع ہو گئی ہیں اور عنقریب مکمل طور پرپسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہو جائیں گی۔اہلِ غزہ آزاد ہوں گے ۔ اس کے باوجود کہ اسرائیلی بربریت کی وجہ سے غزہ کے لوگ اندر سے ٹوٹ چکے ہیں، لیکن زندگی کا کارواں، رواں دواں رہے گا۔ پال میسن (Paul Mason) لکھتے ہیں کہ :”غزہ کو اس تصادم کے گھٹن زدہ ماحول سے نکالنے اوروہاں پرزندگی بحال کرنے کے صرف دو ہی راستے ہیں۔اسرائیل کی جانب سے راستے کی کوئی اہمیت نہیں ہے، بلکہ غزہ کو اقتصادی لحاظ سے عالمی اقتصادیات سے مربوط کرنے کی کنجی مصر کے پاس ہے، لہٰذا رفاہ کراسنگ کو کھول دینے سے سرنگوں کی ضرورت ختم ہوجائے گی۔حسرت و یاس کی تصویر یہ ستم رسیدہ معاشرہ ساری دنیا کی توجہ کا طالب ہے، لیکن کسی نے اس پر توجہ نہیں دی، لیکن میں نے حماس کوپرعزم پایا ہے“۔

مصر بھی غزہ کے لوگوں کو محصور کرنے کے جرم میں برابر کا شریک ہے، لیکن قدرت نے اسے اپنا کھویا ہوا وقار بحال کرنے کا ایک شاندار موقع دیا ہے اور اگر اس نے اس موقع سے فائدہ نہ اٹھایا تو یہ بذات خود مصر کے لئے ایک بہت بڑا المیہ ہوگا، کیونکہ غزہ کی سرزمین سے بھی ایک اور داعش(ISIS) جیسی تنظیم کو نمودار ہونے سے کوئی روک نہیں سکے گا۔

مزید :

کالم -