ڈاکٹروں کا میلہ

ڈاکٹروں کا میلہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پچھلے ہفتے واشنگٹن میں ڈاکٹروں کا میلہ بدھ کے روز شروع ہو کر ہفتے کو ختم ہو گیا۔ہم صرف جمعہ کی سہ پہر دو تین گھنٹے اسے دیکھنے کے سزاوار ہوئے اور ابھی تک پچھتا رہے ہیں کہ وہاں کیوں گئے۔تاہم وہاں جانے کا ایک فائدہ ضرور ہوا، وہ مَیں بعد میں بتاﺅں گا پہلے اپنے دل کا غبار تو نکال لوں۔
دو سبب تھے جن کی بناءپر ہم نے نارتھ امریکہ کے ڈاکٹروں کی تنظیم ”اپنا“ کے سالانہ کنونشن میں شرکت کا سوچا۔پہلا سبب تو یہ تھا کہ ہمارے اندر صحافتی اصول اچانک جاگ اٹھے۔خیال آیا کہ اگر ”اپنا“ والے ہمیں نہیں جانتے یا اس لائق نہیں سمجھتے کہ ہمیں دعوت دی جائے تو کیا ہوا۔اتنا بڑا کنونشن ہو رہا ہے۔اس لئے اس کی کوریج کو صرف اس لئے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔قصور اپنا بھی ہے کہ ہم بڑھ چڑھ کر تعلقات نہیں بناتے۔چلو اپنے آپ کو مدعو کراتے ہیں، یہ کنونشن اٹینڈ کرتے ہیں، تاکہ اس کی مناسب رپورٹ کی جا سکے۔
دوسرا سبب یہ تھا کہ اس میں کچھ پاکستانی صحافی دوست آ رہے تھے ان سے ملنے کا بہت اچھا بہانہ تھا۔ہارون رشید کے آنے پر مَیں سوچ میں پڑ گیا تھا کہ اس سے آمنا سامنا ہوا تو ہم دونوں سردمہری سے ملیں گے تو دل کو ایک بار پھر تکلیف ہوگی۔ بہت بہت سال پہلے ہماری لاہور میں مثالی دوستی تھی۔ہم ہر وقت اکٹھے رہتے ،اکٹھے کھانا کھاتے اور اکھٹے موج میلہ کرتے۔پھر ایک دن اچانک ہارون نے کسی بات کا بُرا منایا اور اس وقت سے تعلقات صرف سلام اور کبھی کبھار ہینڈشیک تک محدود ہوگئے ہیں۔پتہ چلا کہ ہارون نہیں آ رہا تو یہ اطمینان ہوا کہ اب کم از کم وہاں جا کر دل خفا نہیں ہوگا۔

مَیں نے خلاف معمول مجیب لودھی صاحب سے درخواست کی کہ مَیں ”اپنا“ میں کسی کو نہیں جانتا، لیکن کنونشن میں شریک بھی ہونا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ اس کے موجودہ صدر ڈاکٹر آصف رحمان ان کے گہرے دوست ہیں ان کا مجھ سے نمبر لو اور میرے حوالے سے بات کر لو۔مَیں نے فون کیا اور پاکستانی کلچر کے عین مطابق انہوں نے فون اٹینڈ نہیں کیا۔مَیں نے پیغام چھوڑا ۔تھوڑی دیر ٹھہر کر ایک خالد علی نامی صاحب کا فون آ گیا۔وہ کہنے لگے کہ وہ ”اپنا“ کے میڈیا کوارڈینیٹر ہیں۔ڈاکٹر آصف صاحب نے آپ کا معاملہ مجھے ریفر کر دیا ہے۔اتنا شکر ہے وہ مجھے جانتے تھے ۔کہنے لگے کہ ”آپ کا نام کوثر جاوید صاحب سے متعدد بار سن رکھا ہے۔وہ آپ کا نام بہت احترام سے لیتے ہیں۔مجھ سے کوتاہی ہوئی۔ میڈیا لسٹ پہلے بن چکی ہے اس میں نام شامل نہیں کر سکا“۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے مزید بات کرنے سے پہلے کوثر جاوید سے کال ملا کر کانفرنس کال شروع کر دی۔انہوں نے بتایا کہ ”اپنا“ کا میڈیا کو منتخب کرنے کا ایک اپنا معیار اور طریقہ ہے۔ ہم چاہیں تو ”واشنگٹن پوسٹ“ کے نمائندے کو مسترد کردیں، لیکن چونکہ کوثر بھائی کے لئے آپ محترم ہیں تو ہمارے لئے بھی محترم ہیں۔ کنونشن بدھ کو شروع ہوگا، لیکن آپ کی دلچسپی کے پروگرام جمعہ سے شروع ہوں گے۔اس وقت آپ آئیں گے تو مَیں وہاں آپ کو ”میڈیا پاس“ دے دوں گا۔مَیں دل ہی دل میں بہت خوش ہوا کہ مَیں ان خوش نصیبوں میں شامل ہونے جا رہا ہوں، جنہیں میڈیا پاس ملے گا۔جمعرات کی رات مجھے خوشی سے نیند نہیں آئی کہ جمعہ کے روز مَیں کنونشن میں جاﺅں گا تو میرے گلے میں بھی میڈیا پاس لٹکا ہوگا۔
جمعہ کے روز پہنچنے سے پہلے مَیں نے پیغام دیا کہ خالد علی سے ملاقات ہو جائے، انہوں نے ہاں میں جواب دیا۔کنونشن میں پہنچنے کے بعد انہوں نے کال سنی اور نہ ٹیکسٹ کا پیغام دیا۔کوثر جاوید کو تھوڑا سختی سے مداخلت کرنا پڑی۔وہ رجسٹریشن ایریا میں آئے۔ میرے لئے میڈیا پاس بنوا کر کوثر جاوید کے حوالے کر دیا۔مَیں پاس کھڑا تھا، انہوں نے نہ ہی بات کی اور نہ ہی تعارف کرنے کی کوشش کی۔ایک سیمینار اٹینڈ کیا۔اس کے بعد ایک موقع پر مَیں نے خالد علی کو دیکھا۔ان کے پاس جا کر اپنا باقاعدہ تعارف کرایا۔انہوں نے بغیر مسکرائے انتہائی خشک لہجے میں ہاتھ ملانے کی مہربانی کی۔ دوسرے پروگراموں کے بارے میں مَیں نے پوچھا تو بڑے عجیب طریقے سے کہنے لگے، اب تفریحی اور کلچرل پروگرام ہیں، ان میں جا کر آپ کیا کریں گے۔اگر ضروری ہے تو کھڑے کھڑے کوریج کریں اور باہر نکل آئیں۔مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مَیں کھڑے کھڑے کیا کوریج کروں گا۔البتہ مجھے یہ سمجھ آ گئی کہ میرا وہاں کھڑا رہنا مناسب نہیں ہے۔اس لئے سب کچھ ترک کرکے واپس آ گیا۔ہفتے کے روز جانے کا پروگرام تھا، اسے بھی ترک کردیا۔
مجھے صرف یہ تکلیف ہوئی کہ کنونشن میں گیا بھی اور حسن نثار اور سہیل وڑائچ جیسے پرانے دوستوں سے ملاقات نہ کر سکا۔ابھی سردیوں میں لاہور گیا تھا تو مجیب شامی صاحب نے ٹاﺅن شپ میں اپنے گھر میں میرے اعزاز میں دعوت دی تھی، جس میں وزراء،سیاست دان اور بہت سے صحافی دوست آئے تھے۔سہیل وڑائچ سے وہاں ملاقات ہوگئی تھی، لیکن حسن نثار سے ملے ہوئے عرصہ گزر چکا تھا اور ابھی مَیں نے ان سے اپنے مشترکہ دوست مظفر محمد علی کی رحلت پر بھی افسوس نہیں کیا تھا۔چلو ان دونوں دوستوں سے کوثر جاوید کے زیر انتظام فالز چرچ کے ایک ریسٹورنٹ میں ایک عشائیے کی تقریب میں ملاقات ہوگئی۔
میری ”اپنا“ کے کنونشن میں شرکت کی خواہش میں میرا ایک تجسس بھی تھا۔جو مَیں نے سن رکھا تھا، اس کا آنکھوں دیکھا مشاہدہ کرنا چاہتا تھا۔مجھے ہمیشہ یہ بریف کیا جاتا رہا کہ امریکہ میں پاکستانی ڈاکٹرز اور دیگر پروفیشنلز اپنے ہنر اور اس سے کمائے جانے والے سرمائے کے باعث اپنے آپ کو دوسرے پاکستانیوں سے ایک الگ ”مخلوق“ سمجھتے ہیں اور آسانی سے دوسروں میں گھلتے ملتے نہیں ہیں۔اب اس ”ارسٹو کریٹ کلاس“ میں نسبتاً کم پڑھے لکھے دولت مند تاجر بھی شامل ہو گئے ہیں۔
ان ڈاکٹروں کو پیسے کی کمی نہیں ہے، لیکن پبلسٹی کی شدید بھوک ہے۔اس لئے وہ آگے بڑھ چڑھ کر صرف میڈیا کے چیدہ چیدہ افراد کو دعوتیں دیتے ہیں جو اپنی رپورٹوں اور کالموں میں ان کا ذکر کرکے انہیں تسکین پہنچاتے ہیں۔اسی طرح ”اپنا“ کا سالانہ کنونشن دراصل ان کی اجتماعی فیملی پکنک ہے، جسے وہ تفریح سمجھ کر پیسہ لٹا کر چلے جاتے ہیں۔
شروع میں مَیں نے ذکر کیا تھا کہ اس کنونشن میں جانے کا ایک فائدہ ہوا۔ وہ ”مذہبی تعصب“ کے حوالے سے ایک سیمینار میں شرکت کا معاملہ تھا۔اس کے مقررین میں حسین حقانی کے علاوہ اور بھی مقررین تھے، لیکن ان کا کرشمہ اتنا ہے کہ ساری تقریب میں وہی چھائے رہے اور پڑھے لکھے سامعین نے تقریباً تمام سوال انہی سے پوچھے۔وہ تعصبات سے پاک عدم برداشت کا رویہ اپنانے کی تلقین کررہے تھے اور مثالیں دے رہے تھے، انہیں تالیوں سے اتنی داد مل رہی تھی، جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ پڑھے لکھے طبقے میں کتنے مقبول ہیں، بہرحال یہ کہانی ہے ”دیے کی اور طوفان کی“ جو آپ کو سنانی تھی۔

مزید :

کالم -