”گو، گو“ اور ”الوداع، الوداع“ کے شور میں یوم فلسطین

”گو، گو“ اور ”الوداع، الوداع“ کے شور میں یوم فلسطین
”گو، گو“ اور ”الوداع، الوداع“ کے شور میں یوم فلسطین
کیپشن: 1

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی بڑا واقعہ یا بہت اہم خبر، کسی ہنگامہ خیز صورت حال کی وجہ سے دب کر رہ جاتی ہے اور بہت سے لوگوں کو دب کر رہ جانے والے واقعہ اور خبر کی تفصیلات کا علم نہیں ہوتا۔ اسلام آباد کی فضائیں جب ”گو، گو“ اور ”الوداع ، الوداع“ کے نعروں سے گونج رہی تھیں اور عمران خان کی طرف سے سول نافرمانی کی تحریک چلانے کا اعلان کیا جارہا تھا تو کراچی، لاہور اور دیگر شہروں میں ”یوم فلسطین “ کی تقریبات بھی ہوئیں، لیکن وہ نعروں اور اعلانات کے شور میں دب کر رہ گئیں۔ حوصلہ افزا بات ہے کہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے غزہ میں نہتے فلسطینیوں پر مظالم کے پہاڑ توڑنے والے یہودی حکمرانوں اور ان کے سرپرست امریکہ کو منہ توڑ جواب دینے والے کسی صلاح الدین ایوبی یا محمد بن قاسم کی تلاش جاری رکھی ہوئی ہے۔ رمضان المبارک میں جب اسرائیلی طیاروں کی بمباری اور ٹینکوں کی گولہ باری سے بچوں، خواتین اور مردوں کو اقوام متحدہ کے کیمپوں اور ہسپتالوں میں بھی نشانہ بنایا گیا تو سراج الحق نے بوجھل دل اور گلو گیر لہجے میں بتایا تھا کہ انہوں نے ذاتی طورپر مسلمان ملکوں کے سربراہوں کو نہتے اور بے بس فلسطینیوں کی مدد کے لئے خطوط لکھے، مگر ساری دنیا میں ایک بھی صلاح الدین ایوبی یا محمد بن قاسم نہیں مل سکا اور غزہ میں معصوم لوگوں کے قتل عام کو روکنے کے لئے کوئی مضبوط اور مو¿ثر صدائے احتجاج بلند نہیں ہوئی۔

خوشی ہے کہ سراج الحق نے اپنی جماعت کے پلیٹ فارم سے جدوجہد جاری رکھی اور 17اگست کو یوم فلسطین (غزہ میں قتل عام کے حوالے سے ) منانے کا اہتمام کیا، حالانکہ حکومت کی طرف سے انہیں اسلام آباد میں جاری انقلاب مارچ اور آزادی دھرنا کی سنگین صورت حال میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے لئے بھی فعال رکھا۔ سابق وفاقی وزیر اعجاز الحق بڑے یقین سے کہتے ہیں کہ اگر ان کے والد شہید جنرل ضیاءالحق آج زندہ ہوتے تو وہ غزہ میں تباہی وبربادی اور قتل عام کے خلاف سب سے مضبوط آواز بلند کرتے اور بعض مسلم ممالک کے سربراہوں کو بھی اسرائیل کو من مانی کارروائیوں سے روکنے کے لئے تیار کرلیتے۔ بہرحال ، اپنی بساط کے مطابق جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے محترم سراج الحق اور لیاقت بلوچ نے کراچی میں ”غزہ ملین مارچ“ کا اہتمام کیا جبکہ لاہور میں مسجد شہداءکے باہر مال روڈ پر جلسے میں فلسطینی رہنما خالد مشعل کے ٹیلیفونک خطاب کو یقینی بنایا۔ کراچی میں ایمان افروز جھلکیاں قابل ذکر ہیں کہ وہاں بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ بچوں نے اپنے جیب خرچ سے فلسطینی بچوں کی امداد کے لئے ایک کروڑ کا عطیہ سراج الحق کو پیش کیا۔ خواتین نے بھی اس کارخیر میں حسب توفیق حصہ ڈالا۔

اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کے بے پناہ مظالم پر پاکستانی عوام کی سطح پر بچوں اور خواتین میں بھی کس قدر بیداری کی لہر موجود ہے، لیکن بے بسی کے عالم میں جو کچھ ممکن ہے، وہ کیا جارہا ہے۔ دوسرے الفاظ میں کہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے اور مسلم ممالک کے سربراہوں کی غیرت ایمانی اور ملی جوش وجذبے کو جگانے کا کام جاری ہے۔ درست کہا گیا ہے کہ اگر مسلم ممالک اور عالمی ادارے اس معاملے میں بے حسی اور بزدلی سے کام لے رہے ہیں تو واحد راستہ غیرت ایمانی جگانے کا رہ جاتا ہے۔ غیرت ایمانی سے کام لینے پر ہی مسلمانوں کی مدد کے لئے اللہ تعالیٰ کی غیبی مدد میسر ہوگی۔ سراج الحق نے ”غزہ ملین مارچ“ میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد میں شرکت کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے دلوں میں اپنے فلسطینی بھائیوں کے لئے جذبہ موجود ہے، ضرورت کسی صلاح الدین ایوبی یا محمد بن قاسم کی ہے۔ غزہ کے مسلمان اسرائیلی ہٹ دھرمی کی وجہ سے شہید ہورہے ہیں جبکہ عالم اسلام پر قبرستان کی سی خاموشی طاری ہے اور کوئی مسلم حکمران فلسطینی شہادتوں پر رونے کو بھی تیار نہیں۔ حالانکہ مسلم ممالک کے پاس 70لاکھ فوجی ہیں، کاش، جذبہ جہاد اور غیرت ایمانی بھی ہو۔ اسرائیلی وحشیانہ جارحیت کے خلاف سراج الحق اور ان کے ساتھیوں کا یہ نوحہ بار بار بے حسی کے شکار مسلمانوں کی غیرت ایمانی کو جگانے کا کام تو کرتا ہے۔ سراج الحق تو یہ کوشش بھی کررہے ہیں کہ اسلامی سربراہی کانفرنس بلاکر اسرائیلیوں اور ان کے سرپرستوں کو من مانی سے روکنے کے لئے مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جائے۔ اللہ کرے کہ وہ اس کوشش میں بھی کامیاب ہوجائیں۔

مظلوم فلسطینیوں کی حمایت میں جماعت اسلامی کے زیراہتمام لاہور میں بھی ایک جلسے میں یہودی فوجیوں کی درندگی اور وحشیانہ مظالم کی مذمت کی گئی۔ مال روڈ پر واقع تاریخی مسجد شہداءکے سامنے حماس کے سربراہ خالد مشعل کی آواز گونجتی رہی۔ ٹیلیفونک خطاب میں یوم فلسطین کے سلسلے میں تقریبات کے انعقاد پر انہوں نے شکریہ ادا کیا اور اس یقین کا اظہار کیا کہ بالآخر مسلمان اپنے قبلہ ¿ اول کو یہودیوں سے آزاد کروالیں گے اور اسرائیلی فوجیوں کی جارحیت اور مظالم کا سلسلہ بھی اپنے انجام کو پہنچے گا۔ ڈاکٹر فرید پراچہ ، میاں مقصود احمد، عمران نذیر خواجہ، علامہ زبیر احمد ظہیر نے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے دہرے معیار کی مذمت کی اور غزہ میں قتل عام بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس موقع پر یہودیوں اور ان کے سرپرستوں کی مصنوعات کے مکمل بائیکاٹ کی بھی اپیل کی گئی۔
غزہ کے شہداءاور مصائب کا شکار نہتے اور بے بس فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کرنے کی سعادت جمعیت العلمائے اسلام اور دفاع پاکستان کونسل (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے بھی حاصل کی۔ انہوں نے مختلف تقریبات سے خطاب میں امریکہ ، برطانیہ اور دیگر ممالک کی طرف سے اسرائیل کی سرپرستی کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ دوغلی پالیسی اور بے حسی کے سبب فلسطین کا مسئلہ حل طلب چلا آرہا ہے۔ یہ آتش فشاں وقتاً فوقتاً پھٹتا رہتا ہے اور نہتے فلسطینی اس کے لاوے کا شکار ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کو مجرمانہ غفلت سے بیدار ہوکر مظلوم فلسطینیوں کی امداد کرنی چاہئے۔ بلاشبہ ایسی تمام باتیں درست ہیں، ان پر عمل کی ضرورت ہے۔ یقیناًمسلم حکمران بے حسی اور مصلحت کا شکار ہیں۔ اس صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے سراج الحق جیسی سوچ رکھنے والے لوگوں کو مایوسی کا شکار ہوئے بغیر پورے استقلال اور عزم صمیم کے ساتھ جدوجہد جاری رکھنی چاہئے۔
اسلام آباد میں انقلاب مارچ اور آزادی دھرنے کے موقع پر بھی غزہ کے مظلوم لوگوں کے حق میں آواز پورے عزم اور جوش وخروش کے ساتھ بلند ہونی چاہئے تھی۔ سیاست ، اقتدار اور نمبر گیم میں ، مظلوم فلسطینیوں کو یادرکھنا ضروری تھا۔ لیکن بدقسمتی سے وہاں سے کوئی آواز نہیں اٹھی، شاید وہاں فلسطین کا ذکر بھی غیر ضروری سمجھا گیا۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں حکمرانوں سے نجات اور اپنے اپنے سیاسی پروگراموں کی کامیابی پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے۔ کاش، فلسطینی بھائیوں کے دکھ درد کو بھی اہمیت دے کر انہیں تنہا نہ ہونے کا پیغام دیا جائے !یہ دکھ درد امت مسلمہ کا مشترکہ المیہ ہے۔ اس کے خاتمے کے لئے ہراہم موقعہ پر آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید :

کالم -