جمہوری جدوجہد اور سول نافرمانی کا اعلان؟

جمہوری جدوجہد اور سول نافرمانی کا اعلان؟
جمہوری جدوجہد اور سول نافرمانی کا اعلان؟
کیپشن: 1

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

عمران خان صاحب نے اپنی سیاسی واحتجاجی تحریک کا آغاز کیا تو حکومت نے بلاوجہ ان کا راستہ روکنے کی کوشش کی۔ سیاسی جماعتوں کی کاوش سے راستے کھلے اور عمران خان نے اعلان کیا نہ تو وہ قانون کو ہاتھ میں لیں گے نہ جمہوریت کی گاڑی کو ڈی ریل کریں گے اور نہ ہی خونریزی کا راستہ اپنائیں گے۔ یہ خوش آئند بات تھی۔ حکومت نے بھی ان کے لئے سہولیات فراہم کیں اور خان صاحب کی ساری مخالفت اور سخت بیانات کے باوجود یہ اچھی روایت قائم کی کہ راستے میں سوائے گوجرانوالہ کے کہیں کوئی نا خوش گوار واقعہ پیش نہ آیا۔ اسلام آباد میں دھرنا شروع ہو گیا، مگر شرکا کی تعداد دعوﺅں کے مقابلے میں کہیں کم رہی۔ خان صاحب اعلان کرتے رہے کہ وہ شرکا کے ساتھ دھرنے میں ہی رہیں گے، مگر اپنی نفی کرتے ہوئے گھر تشریف لے گئے۔ دھواں دھار تقریروں سے کچھ لوگ تو سر دھنتے رہے، مگر اکثریت بددل ہو گئی کہ قول و فعل کا تضاد کیوں؟ استعفا استعفا کی رٹ لگتی رہی، مگر لاحاصل! عمران خان صاحب نے آخر جھنجھلا کر اعلان کر دیا کہ وہ ریڈ زون میں داخل ہو جائیں گے۔
خان صاحب کا یہ نیا موقف ان کے سابقہ اعلانات کی نفی تھی، جس پر ان کی اپنی پارٹی کے کئی قائدین اور اکثر کارکنان کو اختلاف ہے۔ آگے بڑھ کر عمران خان صاحب نے یہ اعلان بھی کردیا کہ ہم سول نافرمانی کا راستہ بھی اپنائیں گے۔ ٹیکس ادا نہ کرنے اور بیرون ملک پاکستانیوں کو بھی یہ مشورہ دینے کا اعلان کہ وہ پاکستان میں اپنی رقوم نہ بھیجیں، عجیب منطق ہے۔ ہم عمران خان صاحب کے لئے ہمیشہ دُعاگو بھی رہے ہیں اور نہ صرف ان سے رابطے رہے، بلکہ ایک اہم صوبے میں ہم حکومت سازی میں بھی ان کے اتحادی ہیں۔ اس کے باوجود موجودہ صورت حال میں عمران خان صاحب کے اس موقف سے ہم کسی صورت مفاہمت نہیں کرسکتے۔ ہم خیرخواہی سے یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اس موقف کے نتیجے میں سیاسی میدان میں ان کے پیشرفت کرنے کے مقابلے میں ان کے زوال پذیر ہونے کے امکانات کہیں زیادہ ہیں۔

عمران خان صاحب غالباً تھک گئے ہیں۔ انہیں اپنی دوائیوں کو بھی چیک کرنا چاہئے کہیں دو نمبر تو نہیں۔ یہ منطق سمجھ سے بالاتر ہے کہ بڑے دعووں کے ساتھ استعفا لینے گئے تھے، اب اُلٹا استعفے دے رہے ہیں۔ نواز شریف کو بادشاہ کہتے تھے تو اس میں کچھ وزن تھا، اب خود بادشاہ بن گئے ہیں۔ ہم نہیں کہتے ،مگر ان کے اپنے کارکنان تبصرہ کررہے ہیں کہ بادشاہ نہیں ”بھولے بادشاہ“ہیں۔ہم تو اب بھی کوشاں ہیںکہ کوئی دستوری راستہ نکلے، دھاندلی والے حلقوں میں دوبارہ کا¶نٹنگ ہو جائے اور اگر دھاندلی ثابت ہو جائے تو ان میں نئے انتخابات کرائے جائیں۔ اگر ایک آدھ حلقے میں بھی ایسا ہوجاتا تو عمران خان اخلاقی اور سیاسی طور پر جیت جاتے۔ حکومت نے کمیشن بنا دیا تھا اور اس بات کا پورا امکان موجود تھا کہ دھاندلی کی مکمل نشاندہی ہو جائے، مگر کپتان صاحب! وکٹ گرانے کی بجائے بال گرا¶نڈ میں پھینک کر پیویلین میں سیٹیاں بجانے سے کیا حاصل ہو گا؟

جہاں تک موجودہ حکمرانوں کا تعلق ہے ان کا ٹریک ریکارڈ بھی کچھ زیادہ اچھا نہیں۔ یہ ملک میں ان کے اقتدار کا تیسرا دور اور سب سے بڑے صوبے پنجاب میں پانچواں دور ہے (اگر ضیاءالحق صاحب کی حکومت میں میاں نواز شریف صاحب کی خدمات کو شمار کیا جائے) اتنی مرتبہ اقتدار میں رہنے کے باوجود سیاسی معاملات کو سیاسی انداز میں سمجھنے اور ان سے نبردآزما ہونے کی صلاحیت نہ پیدا ہونا ایک المیہ ہے۔ ترکی میں میاں برادران کے دوست اور ہمارے محبوب ترک رہنما رجب طیب اردگان جب برسراقتدار آئے تو مغربی دنیا کے تجزیہ نگاروں نے جل بھن کر پراپیگنڈہ کیا کہ ایک مسلمان بنیاد پرست سیکولر ترکی میں برسراقتدار آگیا ہے۔ وہ سیاسی پنڈت اس خوش فہمی میں مبتلا رہے کہ بہت جلد کوئی حادثہ رونما ہوگا اور اردگان سابقہ روایات کے مطابق حکومت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے گا اور کوئی جلالی جرنیل میدان میں آگیا، تو جان کے لالے بھی پڑ جائیں گے۔ اب ہمیں تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ان مغربی تجزیہ نگاروں کے سب خواب دیوانے کی بڑ ثابت ہوئے۔ اردگان ہر مرتبہ اپنی قوت اور مقبولیت میں اضافہ کرنے میں کامیاب رہے۔ اب وہ صدارتی انتخاب میں براہِ راست عوامی ووٹوں سے کامیاب ہوگئے ہیں تو کہا جا رہا ہے کہ وہ اب آمریت کا راستہ اختیار کرلیں گے۔ اللہ کرے یہ خواب بھی تشنہ ¿ تعبیر رہے۔ البتہ عجیب امر یہ ہے کہ اردگان صاحب نے یا تو میاں برادران کو کوئی سیاسی گر نہیں بتایا یا ہمارے ایک دوست کے بقول ان میں اتنی صلاحیت ہی نہیں کہ وہ کسی بات کو سمجھ پائیں۔
جب عام انتخابات کے بعد دھاندلی کا شور اٹھاتھا تو نومنتخب حکومت کی طرف سے اسی وقت شکایت کرنے والے سیاسی عناصر کو پیش کش کردی جانی چاہئے تھی کہ غیر جانبدار جوڈیشل کمیشن کے ذریعے تمام معاملات کو دیکھ لیا جائے اور شفاف طریقے سے کوئی حل نکالا جائے۔ جب یہ نہ ہوسکا تو حکمرانوں کو اپنے اعصاب مضبوط کرکے حالات کو دستور اور قانون کی حدود میں رہتے ہوئے خراب ہونے سے بچانے کا راستہ اپنانا چاہئے تھا۔ اب بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ سنجیدہ کوشش کرکے حالات کو مزید بگڑنے سے بچایا جائے۔ پارلیمنٹ کے سیشن میں تمام پارٹیوں کے نمائندوں نے جن آراءکا اظہار کیا ہے وہ خوش آیند ہیں۔ ان پر عمل درآمد کے لئے فوراً لائحہ¿ عمل طے کرنا چاہئے اور اگر احتجاج کرنے والی قوتیں کسی بات پر نہ آئیں، تو قوم خود فیصلہ کرلے گی کہ فریقین میں سے کون زیادتی کررہا ہے۔ اب وہ دور بیت گیا، جب لوگ اندھیرے میں ہوتے تھے۔ سوشل میڈیا اور آئی ٹی نے ہر شخص خصوصاً نوجوانوں کو ایسے وسائل فراہم کردیئے ہیں کہ وہ بھی ایک سوشل پارلیمان کا روپ دھار گئے ہیں۔ سیاسی جنگ اور عسکری جنگ میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ فریقین کو سمجھنا چاہئے کہ ان میں سے کسی کا بھی بیرونی فوج سے مقابلہ درپیش نہیں، اپنے ہی بھائیوں کے درمیان اختلاف ہے اور اس کا حل ممکن ہے، مگر ضد اور ہٹ دھرمی سے نہیں، افہام وتفہیم سے!

مزید :

کالم -