ریڈزون اور سیکیورٹی خدشات۔۔۔امن بہرحال قائم رہنا چاہئے

ریڈزون اور سیکیورٹی خدشات۔۔۔امن بہرحال قائم رہنا چاہئے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے پیر کو آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ منگل کی شام 6 بجے پارلیمنٹ اور وزیراعظم ہاؤس کی طرف جائیں گے اور ریڈ زون میں داخل ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت انہیں نظر بند کر سکتی ہے، پُرامن انقلاب کا دروازہ بند ہوا، تو خونیں انقلاب کا دروازہ کھل سکتا ہے۔ وہ خود مظاہرین کی قیادت کریں گے، سب سے پہلے گولی کھائیں گے، آزادی چھیننا پڑتی ہے، عوامی طاقت کے بل بوتے پر کرپٹ نظام ختم کریں گے۔انہوں نے کہا نواز شریف ان سے بچ گئے، لیکن سول نافرمانی سے نہیں بچ سکیں گے،اسلام آباد پولیس ان پر گولی نہ چلائے۔ عمران نے مزید کہا کہ کوئی گلو بٹ مل گیا تو طالبان کے حوالے کریں گے، آج پاکستان بھر سے عوام اسلام آباد پہنچیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے سول نافرمانی کی تحریک ہتھیار کے طور پر استعمال کی ہے۔ یہ پُرامن تبدیلی اور آزادی لینے کا بہترین طریقہ ہے، امریکہ نے بھی برطانیہ سے آزادی کے لئے اس کے مال کا بائیکاٹ کرکے سول نافرمانی چلائی تھی۔ اگر وہ اقتدار میں آئے تو موجودہ حکومت کو آئی ایم ایف سے ملنے والے قرضے واپس نہیں کریں گے، لیکن آپ مجھ سے وعدہ کرو کہ پُرامن رہو گے اور راستے میں گملا بھی نہ ٹوٹے۔ پُرامن احتجاج کرنا ہمارا جمہوری حق ہے، اپنی کرسی بچانے کے لئے پولیس کو بیچ میں مت لاؤ۔
عالمی میڈیا کا کہنا ہے کہ عمران خان یہ سب اس لئے کر رہے ہیں، کیونکہ وہ خاطر خواہ لوگ اسلام آباد میں جمع نہیں کر سکے۔ تحریک انصاف نے قومی اسمبلی، پنجاب، سندھ اور بلوچستان اسمبلی سے (بلوچستان اسمبلی میں اس کا ایک بھی رکن نہیں) استعفے دینے کا اعلان بھی کیا ہے اورخیبر پختونخوا اسمبلی کا معاملہ اتحادیوں کی مشاورت تک موخر کر دیا گیا ہے۔یہ فیصلہ تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس میں ہوا جس کی صدارت عمران خان کر رہے تھے۔دوسری جانب عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی حکومت کو مطالبات کے لئے دی گئی 48گھنٹے کی ڈیڈ لائن ختم ہو نے پر دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منگل کو شام 5 بجے عوامی پارلیمنٹ کا انعقاد ہو گا، فیصلے عوامی پارلیمنٹ کرے گی، سب لوگ گھروں سے نکلیں اور دھرنے میں پہنچ جائیں، گھروں میں بیٹھنا حرام ہو چکا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انقلاب خون مانگتا ہے، انقلاب تن، من، دھن کی قربانی مانگتا ہے، انقلاب آسانی سے نہیں آتے۔ یہ انقلاب اب موخر یا ملتوی نہیں ہو گا یہ انقلاب کروڑوں پاکستانیوں کے مقدر کو بدل کر رہے گا۔ انہوں نے چاروں صوبوں میں دھرنے دینے کا بھی اعلان کیا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر مارچ کے شرکاء مشتعل ہو گئے تو اس کی ذمہ داری حکومت پر ہو گی۔
میڈیا کی اطلاعات کے مطابق عمران خان نے اسلام آباد جانے سے پہلے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ ریڈ زون میں داخل نہیں ہوں گے اور پُرامن احتجاج کریں گے، اِسی وعدے کی بنیاد پر ان کو لانگ مارچ کی اجازت دی گئی تھی، لیکن اب انہوں نے ریڈ زون کی طرف مارچ کرنے کا اعلان بھی کر دیا۔ ایک روز پہلے وہ خود ہی کہہ رہے تھے کہ وہ ریڈ زون کی طرف نہیں جائیں گے، اگلے ہی دن انہوں نے رائے بدل لی۔ وزیر داخلہ چودھری نثار علی نے ان کے ایک ایس ایم ایس کا حوالہ بھی دیا ہے، جس کا مطلب چودھری نثار کے بقول یہ نکلتا ہے کہ خان صاحب وعدہ پورا کریں گے، لیکن اب ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ عمران خان2013ء کے الیکشن میں دھاندلی کا الزام مسلسل لگائے جا رہے ہیں ، ثبوت پیش کرنے کی بات توکرتے ہیں،لیکن ثبوت منظر عام پر نہیں لا رہے۔ ہمارا تو یہ خیال ہے کہ اگر دھاندلی ثابت ہو گئی تو عوام خود ہی حکومت کو مستعفی ہونے پر مجبور کر دیں گے اور پھر حکومت کے پاس کوئی اور چارہ نہیں ہو گا، لیکن ثبوت کے بغیر محض تقریروں کے زور پر تو بات نہیں بنے گی، اب بھی عمران خان ثبوت سامنے لا سکتے ہیں۔ لطف کی بات یہ بھی ہے کہ عوام کے فیصلے کے بغیر ہی اپنے آپ کو خود سے ہی اگلا وزیراعظم مان چکے ہیں بالفرض اگر وہ یہ حکومت گرا بھی دیں تو اپنی حکومت بنانے کے لئے وہ اگلے الیکشن میں جو پتہ نہیں کب ہوں، عوام کے ووٹ کے محتاج ہوں گے۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ وہ استعفا نہیں دے رہے،کیونکہ وہاں ان کی حکومت بغیر دھاندلی کے قائم ہوئی ہے اور ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی کامیاب نہیں ہو سکے گی۔(جو اب پیش کردی گئی ہے )
طاہر القادری صاحب بھی جو پُرامن احتجاج کے حامی تھے خونی انقلاب کی دہائیاں دے رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ انقلاب تو قربانی مانگتا ہے۔ عقل یہ سمجھنے سے بالکل قاصر ہے کہ عوامی پارلیمنٹ کیسے قائم ہو گی؟ اس کا فیصلہ کیسے ہو گا؟ کیا اس میں آزادانہ فیصلہ کرنے کی استطاعت ہو گی؟ اور چند ہزار لوگ 18کروڑ عوام کی قسمت کا فیصلہ کریں گے ؟کوئی یہ بھی بتا دے کہ اگر انقلاب مارچ اور آزادی مارچ کو کامیابی حاصل بھی ہو گئی، تو ملک میں کون سا نظام رائج ہو گا، عمران خان کا یا طاہر القادری کا؟ یا پھر اس وقت ساتھ ساتھ چلنے والے انقلاب اور تبدیلی کے علمبردار ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہوں گے اور یہی ڈرامہ دوبارہ رچایا جائے گا۔
ہماری معیشت کو ان چند دنوں میں بھاری نقصان پہنچ چکا ہے، لوگوں کے کاروبار بند پڑے ہیں۔ چھوٹا ،بڑا ہر طرح کا کاروبار کرنے والا دہائیاں دے رہا ہے، لیکن دھرنوں اور مارچوں کے بعد صورت حال خراب ہو چکی ہے۔ عمران خان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد آئی ایم ایف کے قرضے واپس نہیں کریں گے۔ لگتا ہے کہ یہ اعلان انہوں نے سامنے بیٹھے اپنے کارکنوں کا حوصلہ بڑھانے کے لئے کر دیا ورنہ انہیں معلوم ہے کہ عالمی اداروں سے معاہدے اتنے کچے نہیں ہوتے کہ ایک تقریر سے ختم ہو جائیں۔
وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے اعلان کیا ہے کہ ریڈ زون کی سیکیورٹی فوج کے حوالے کر دی گئی ہے اور طویل غورو فکر کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ سیکیورٹی کے سلسلے میں کوئی رسک نہیں لیا جائے گا، کیونکہ ریڈ زون میں غیر ملکی سفارتی دفاتر اور رہائشیں بھی ہیں۔ اسلام آباد آنے والے لوگوں کو یہ تو معلوم نہیں کہ کون سی عمارت سفارت خانے کی ہے اور کون سی نہیں۔ ہجوم کی نفسیات کے پیشِ نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ریڈ زون کی سیکیورٹی کے سلسلے میں کوئی کوتاہی نہ کی جائے، خدانخواستہ سفارتی مشِنوں کو کوئی نقصان ہوا تو دنیا میں اس کا بہت غلط پیغام جائے گا اور دوسرے ملکوں میں ہمارے سفارت خانوں پر بھی اس کے منفی اثرات ہو سکتے ہیں۔
وزیر داخلہ نے ریڈ زون کی سیکیورٹی کے حوالے سے منطقی گفتگو کی ہے، اس لئے اس جانب جانے والوں کو اپنی روش پر دوبارہ غور کر لینا چاہئے۔ اُن کا احتجاجی پروگرام اگر آب پارہ اور کشمیر ایونیو پر پُرامن چل رہا ہے تو آگے جانے میں کیا حکمتِ عملی ہے۔ اس کی وضاحت بھی ضروری ہے، چودھری نثار علی خان نے درست کہا کہ تشدد سے تشدد جنم لیتا ہے اس لئے تمام فریقین سے ہماری گزارش ہے کہ پُرامن رہیں اور مطالبات بھی پُرامن طور پر حل کریں۔ مذاکرات کا سلسلہ بھی شروع نہیں ہو رہا، بہتر ہے اس کا بھی آغاز کر دیا جائے۔

مزید :

اداریہ -