2014ء کے خطرناک ترین مظاہرے

2014ء کے خطرناک ترین مظاہرے
2014ء کے خطرناک ترین مظاہرے
کیپشن: 2014

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

جیفرسن سٹی (نیوزڈیسک) 2014ء کے اوائل سے اب تک دنیا ترکی سے لے کر یوکرائن تک احتجاج ہی احتجاج دیکھ رہی ہے۔ مظاہرین کبھی کرپشن، معاشی ابتری اور کبھی قوت کے عدم استحکام کے خلاف سڑکوں پر دکھائی دے رہے ہیں، اسی وجہ سے اب 2014ء کو مظاہروں کا سال بھی کہا جانے لگا ہے۔ یہاں ہم آپ کے لئے رواں سال دنیا بھر میں وقوع پذیر ہونے والے چند خوفناک تصادم اور اہم ترین واقعاتکی جھلکیاں بیان کر رہے ہیں۔
یوکرائن: یوکرائن یورپ اور روس کے درمیان سرحد پر واقع ملک ہے، جہاں دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ درہم برہم ہو گیا۔ یوکرائن کا شمالی علاقہ روس جبکہ مغربی یورپ کا حمایتی ہے۔ روس نے حال ہی میں کریمیا کو خود میں شامل کر لیا ہے، جس پر جہاں اس خطے میں تصادم ہوا وہاں دنیا بھر میں خصوصاً مغرب اور امریکا میں کھلبلی بھی مچ گئی۔ یوکرائنی حکومت اور ان کے بقول باغیوں میں ہونے والے تصادم میں بے شمار لاشیں گریں۔
فرانس: فلسطین اسرائیل کے حالیہ تنازع پر فرانس میں اینٹی یہودی جذبات ایک پھر سے بھڑک اٹھے۔ مظاہرین نے پابندی کے باوجود اسرائیلی افواج کی طرف سے فلسطینیوں کے قتل عام پر اسرائیل کے جھنڈے نذر آتش کئے اور دکانوں پر دھاوے بول دیئے، یہاں تک کہ یہ فسادات بعدازاں پیرس میں رہنے والی یہودی کمیونٹی تک جا پہنچے اور مظاہرین نے یہودیوں کی دکانوں کو آگ لگا دی۔
ویتنام: علاقے پر قبضہ کے معاملہ پر ویتنام میں وسیع پیمانے پر احتجاج کیا گیا۔ چین نے اپنے مغربی سمندر پر تیل کی ترسیل کے لئے بادبان بنایا تو ویتنام کے شہریوں نے یہ کہتے ہوئے ہنگامے شروع کر دیئے کہ یہ علاقہ ان کا ہے، جس پر مظاہرین نے سٹیل ملز، انڈسڑیل پارک، فیکٹریوں اور پولیس پر حملے شروع کر دیئے۔ ان فسادات میں درجنوں لوگ مارے گئے اور سینکڑوں زخمی ہو گئے۔ چین اور ویتنام میں مخصوص علاقہ پر قبضہ کے تنازعہ کوئی نہیں بات نہیں بلکہ یہ معاملہ کئی عشروں سے جاری ہے۔
وینزویلا: وینزویلا میں اپریل 2013ء میں ہیوگوشاویز کی حکومت ختم ہونے کے بعد صدر نیکولس میدرو نے اقتدار سنبھالا، لیکن نیکولس کے دور میں بھی وینزویلا معاشی عدم استحکام کی دلدل سے باہر نہ نکل سکا، جس پر لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرے جب نیکولس کے کنٹرول سے باہر ہو گئے تو اس نے پولیس کو حکومت مخالف مظاہرین پر گولی چلانے کا حکم دے دیا، جس پر عملدرآمد کرتے ہوئے پولیس نے کارکس میں کئی مظاہرین کی جان لے لی۔
ترکی: ترکی ایک سکیولر جمہوری ملک ہے، جہاں طیب اردوان کے دور حکومت میں کرپشن کے خلاف شہریوں نے مظاہرے کئے تو پولیس نے حکومت مخالف مظاہروں پر فائرنگ کی، جس میں کئی افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، تاہم طیب اردوان ایک بار پھر اب صدر منتخب ہو گئے ہیں۔