غیر متوازن خوراک، فاسٹ فوڈز کا استعمال شوگر کی بڑی وجہ ہیں، حکیم عبدالوحید

غیر متوازن خوراک، فاسٹ فوڈز کا استعمال شوگر کی بڑی وجہ ہیں، حکیم عبدالوحید

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور(پ ر)طرز زندگی میں بے اعتدالی، غیر متوازن خوراک، فاسٹ فوڈ، سوڈا کولڈ ڈرنک، جوسز اور معاشرتی طرز زندگی سمیت معمولات زندگی میں ورزش و واک کا نہ ہونا اور کھا نا کھا کر سو جانا شوگر (ذیابیطس) کی سب سے بڑی وجوہات ہیں۔ ملک میں شوگر کی بڑھتی ہوئی شرح کو عوام نے خود کنٹرول نہ کیا اور حکومت نے بھی کوئی مناسب اقدامات نہ کئے تو آئندہ 20سے 25سال کے دوران شوگر کے مریضوں کی شرح کئی گنا بڑھ جائے گی جسے کنٹرول کرنا مشکل ہو گا۔ پاکستان سمیت دُنیا بھر میں 90فیصد شوگر کے مریض ٹائپ ٹو (شوگرقاذب) جبکہ 10فیصد ٹائپ ون (شوگر صادق) میں مبتلا ہیں جس میں انسانی لبلبلہ مکمل طور پر ختم ہو جا تا ہے۔ اِن خیالات کا اظہار انجمن فروغ طب یونانی پاکستان کے مرکزی چیئرمین حکیم عبدالوحید سلیمانی، صدر حکیم عروہ وحید سلیمانی، جنرل سیکرٹری حکیم عمار وحید، سیکرٹری انفارمیشن حکیم محمد افضل میو، حکیم غلام فرید میر، حکیم فیصل نواز ہنجرا، حکیم سید عارف رحیم، حکیم فیصل طاہر صدیقی، حکیم طاہر احمد خاں اور حکیم شوکت علی سندھونے انجمن فروغ طب یونانی پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار شوگر (ذیا بیطس کا مرض) سے بچاﺅ ممکن ہے کے موضوع پر مجلس مذاکرہ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اُنھوں نے بتایا کہ دُنیا بھر سمیت پاکستان میں شوگر کا مرض بڑی تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات میں فاسٹ فوڈز کا بے جا استعمال اور سہل پسندی کی زندگی سے شوگر کی وجہ سے گردوں و دل کے امراض، نابینا پن اور بہت سی بیماریاں بھی لاحق ہو جاتی ہیں۔ حکیم عبدالوحید سلیمانی نے کہا کہ زندگی میں مناسب تبدیلی لا کر شوگر سے بچاﺅ ممکن ہے۔ اب شوگر موروثی مرض نہیںہے۔ حکیم عروہ وحید سلیمانی نے کہا کہ انسانی جسم میں لبلبلہ وہ واحد اعضا ہے جو سارے جسم کی شوگرکو حاصل کر کے اس سے جسم کی ضرورت کے مطابق انسولین خارج کر تا ہے اور ہر اعضاءاپنی ضرورت کے مطابق انسولین حاصل کر تا ہے۔ مگر ہماری بے احتیاطی اور غیر متوازن خوراک و طرز زندگی کی وجہ سے جسم میں شوگر کی مقدار ضرورت سے زیادہ ہونے کی وجہ سے لبلبہ کا م چھوڑ دیتا ہے۔ٹائپ ون شوگر میں لبلبہ انسولین بنانا بند کر دیتا ہے جس کی وجہ مریض کو انجیکشن کے ذریعے انسولین دی جاتی ہے۔جبکہ ٹائپ ٹو (شوگر معدی) کا طب یونانی میں مکمل علاج موجود ہے۔ مریضوں کہ چاہیے کہ وہ اپنے گردوں کے نارمل انداز میں کام کرنے سمیت ناشتے سے پہلے اور بعد کے شوگر ٹیسٹ کروائیں۔ شوگر بڑھنے کی بڑی وجہ ہماری خوراک میں 75فیصد کاربوہائیڈریٹ کی شمولیت ، چربی و سوڈا کلچر، ڈالڈا گھی، مختلف قسم کے جوسز اور بیکری والی خوراک شامل ہے جن کو بند کر دینا چاہیے۔ورزش و خوراک، سادہ فائبر والی خوراک کھائیں، سونے سے تقریباََ تین سے چار گھنٹے قبل کھانا کھانا چاہیے جبکہ ہلکی واک یا ورزش کی جائے۔ چائے کافی بغیر چینی کے استعمال کی جائے۔حکیم محمد افضل میونے کہا کہ شوگر سے فالج، ہارٹ اٹیک، گردوں کا فیل ہونا، آنکھوں کی بنیائی کا چلا جانا، پاﺅں سن ہو جانا اور دیگر بیماریاں شامل ہیں۔ شوگر جسم کے دیگر اعضاءکو بھی متاثر کرتی ہے۔ اُنھو ں نے کہا کہ ہر انسان اپنے جسم کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہیے۔ اُنھوں نے کہا کہ سلیمانی ریسرچ لیبارٹری لاہور کا تیار کردہ معجزہ کیپسول کیا استعمال شوگر کو کنٹرول کرنے میں مفید ثابت ہو ا ہے۔ حکیم عمار وحیدسلیمانی، حکیم فیصل طاہر صدیقی اور حکیم فیصل نواز ہنجرانے کہا کہ اگر انسان اسلامی تعلیمات پر عمل کرے تو کبھی بھی موذی امراض میں مبتلا نہیں ہو سکتا۔