طلاق کے بعد جوڑوں کی اکثریت اس فیصلے پر پچھتاتی ہیں،سائنسی تحقیق

طلاق کے بعد جوڑوں کی اکثریت اس فیصلے پر پچھتاتی ہیں،سائنسی تحقیق

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاس اینجلس (نیوز ڈیسک) طلاق کو جائز افعال میں سے سب سے ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے اور عام طور پر طلاق دینے یا لینے والوں کا ابتدائی طور پر یہی خیال ہوتا ہے کہ یہی بہتر فیصلہ ہے۔ ایک تازہ سائنسی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ طلاق کے بعد اکثریت کی رائے تبدیل ہو جاتی ہے اور وہ اس فیصلے پر پچھتاتے ہیں۔ تحقیق میں شامل 54 فیصد افراد نے اس بات کا اقرار کیا کہ طلاق کے بعد انہیں محسوس ہوا کہ یہ بہتر فیصلہ نہ تھا اور متعدد نے یہ اعتراف بھی کیا کہ وہ اب بھی سابقہ شریک حیات کو یاد کرتے ہیں اور اس سے محبت کرتے ہیں۔ جدا ہونے والے جوڑوں میں پچھتاوا اس قدر شدید پایا گیا ہے کہ 42 فیصد نے بتایا کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ دوبارہ یکجا ہوں جبکہ 21 فیصد نے تو اس کیلئے باقاعدہ کوشش بھی کی۔ تحقیق مین شامل دو ہزار افراد میں سے 20 فیصد نے بتایا کہ انہیں طلاق کے فوری بعد ہی غلطی اور پچھتاوے کا احساس ہونے لگا جبکہ 19 فیصد کا کہنا تھا کہ یہ احساسات ایک ہفتے کے دوران شروع ہوگئے تھے۔ لوگوں نے پچھتاوے کی اہم ترین وجوہات میں سابقہ شریک حیات کی یاد، ناکامی کا احساس، محبت، تنہائی، مشکلات، سابقہ شریک حیات کا کسی اور کے ساتھ ہونا اور بچوں پر منفی اثرات کا ذکر کیا۔ یہ تحقیق سروے مشہور فلم "The Love punch" کی DVD ریلیز کے سلسلہ میں کیا گیا تھا۔

مزید :

صفحہ آخر -