مخالفین کی فائرنگ سے قتل ہوینوالے دونوں بھائی سپرد خاک 1 ملزم گرفتار راہگیر کے ورثا کی تلاش جاری

مخالفین کی فائرنگ سے قتل ہوینوالے دونوں بھائی سپرد خاک 1 ملزم گرفتار راہگیر ...
 مخالفین کی فائرنگ سے قتل ہوینوالے دونوں بھائی سپرد خاک 1 ملزم گرفتار راہگیر کے ورثا کی تلاش جاری
کیپشن: maqtulian

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور(بلال چودھری)بادامی باغ کے علاقہ میں پیر کی رات کو معمولی تنازع پرمخالفین کی فائرنگ سے قتل ہونے والے دونوں بھائیوں کی نعشیں پولیس نے پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کر دیں جنہیں بعد ازاں سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں مقامی قبرستان میں سپر د خاک کر دیا گیا جبکہ فائرنگ کی زد میں آکر قتل ہونے والے راہگیر کے ورثا کی تلاش جاری ہے۔پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر کے ایک ملزم کو حراست میں لے لیا ہے۔پولیس کے مطابق چاہ موتیاں داتا نگر بادامی باغ گلی نمبر 7 مکان نمبر 34 میں 6بھائی محمد بلال ،محمد یونس ،مصطفی خان ،نصیر خان ،مجتبٰی خان اور خالد خان رہتے تھے ۔ محمد بلال اور محمد یونس کی چند روز قبل اسی علاقہ کے رہائشی عامر بٹ اور نوید بٹ سے بلیڈ کی دکان پر لڑائی ہوئی لیکن دونوں اطراف کے بزرگوں نے صلح کروا دی ۔پیر کی رات کو پونے گیارہ بجے عامر بٹ اور نوید بٹ اسی لڑائی کی رنجش پر اپنے دوستوں فیصل عرف جھارا،قیصر چھیمہ ،حارث عرف راجو،وارث بٹ ،بابر ،ارسلان بھٹی اور 10نامعلوم ساتھیوں کے ہمراہ ان کی گلی میں موٹر سائیکلوں پر آئے اورآتے ہی فائر کھول دیا ۔فائرنگ کی زد میں آکر محمد بلال ،محمد یونس ،مصطفی خان ،نصیر خان ،مجتبٰی خان اور خالد خان شدید زخمی ہو گئے جبکہ ریاست نامی ایک راہگیر بھی شدید زخمی ہو گیا۔ملزمان فائرنگ کر کے موقعہ سے فرار ہو گئے۔ میو ہسپتال میں محمد بلال اور محمد یونس کے علاوہ راہگیر ریاست بھی جاں بحق ہو گیا۔ہسپتال ذرائع کے مطابق مصطفی خان اور نصیر خان کو دو دو گولیاں لگی ہیں اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے جبکہ مجتبٰی خان اور خالد خان کو ایک ایک گولی پیٹ میں لگی ہے اور ان کی حالت نہایت تشویشناک ہے ۔پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ،جبکہ مقتول محمد بلال اور محمد یونس کی نعشیں گزشتہ روز پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گئیں جنہیں سینکروں سوگواروں کی موجودگی میں بادامی باغ میں ان کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔اس موقع پر کئی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔محمد بلال اور یونس کے رشتہ دار ندیم خان ،ریاض خان،اشرف خان ،اسامہ بٹ،محمد علیم،نعمان اور ریحان نے نمائندہ \"پاکستان \"سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ محمد بلال کے دوبچے تھے اور اس کی چند سال قبل ہی شادی ہوئی تھی۔ پولیس کی جانب سے مقدمہ کے اندراج میں جان بوجھ کر تاخیر کی گئی تاکہ مرکزی ملزمان فرار ہو سکیں، پولیس نے صرف ملزمان کے ساتھی حارث عرف راجو کو حراست میں لے کر اعلٰی حکام کو کارکردگی دکھا دی ہے جبکہ مقدمہ واقعہ کے 14گھنٹے بعد گزشتہ روز دوپہر 12بجے دہشتگردی اور قتل کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔پولیس حکام سے اپیل ہے کہ ہمیں انصاف فراہم کیا جائے۔واقعہ میں جاں بحق ہونے والے 45سالہ محمد ریاست علی کے دوست ذیشان نے بتایا کہ ریاست علی فیصل آباد کا رہائشی تھا اور لاہور میں لوہے کا کام کرتا تھا۔اس کے دوبچے تھے اس کے لواحقین سے رابطہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

مزید :

علاقائی -