خدارا ملک پر رحم کریں،تمام مکاتب فکر کے علماءکرام کی دردمندانہ اپیل

خدارا ملک پر رحم کریں،تمام مکاتب فکر کے علماءکرام کی دردمندانہ اپیل

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور(پ ر)پاکستان میں تمام مکاتب فکر کے 30 ممتاز ، جیداور اکابر علماءکرام شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان ، مفتی محمد رفیع عثمانی، مفتی محمد تقی عثمانی، مفتی منیب الرحمان، شیخ الحدیث علامہ سید حسین الدین شاہ، پروفیسر ساجد میر،مفتی محمد نعیم ،مولانا محمد یٰسین ظفر،علامہ سید حافظ ریاض حسین نجفی، علامہ سید قاضی نیاز حسین نقوی، شیخ الحدیث مولانا عبدالمالک، مفتی عبدالرحیم، مولانا محمد حنیف جالندھری ، مولانا فضل الرحیم، مولاناصاحبزادہ عبدالمصطفیٰ ہزاروی، علامہ جلیل احمد نعیمی ، مولانا غلام محمد سیالوی، مفتی محمد رفیق حسنی، مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر، شیخ الحدیث مولانا عبد المجید لدھیانوی،مولانا انوار الحق، پروفیسر عبدالرحمن لدھیانوی، مولانا یونس بٹ،مولانا افضل حیدری، مولانا عبیداللہ خالد، مفتی ابراہیم قادری ، مفتی محمد،قاری مہر اللہ ، مولانا محمد یوسف، مولانا قاضی عبد الرشید،نے اپنے ایک مشترکہ بیان کے ذریعہ ملک کے تمام سیاسی رہنماو¿ں سے یہ دردمندانہ اپیل کی ہے کہ خدارا اس ستم رسیدہ ملک پر رحم کریں، اور سیاسی اختلافات کو باہمی تصادم کی حد تک پہنچانے کے بجائے انہیں باہمی گفت و شنید اور مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔ جائز شکایات پر احتجاج بیشک ضرر رسیدہ افراد کا حق ہے ۔ لیکن احتجاج کو لڑائی اور دشمنی کی حد تک پہنچاکر ملک کی زندگی معطل کر دینا ، جو لوگ روز کے روز کمانے پر مجبور ہیںانہیں ان کے روزگار سے محروم کر دینا اور ملکی معیشت کا پہیہ جام کر دینامذہبی، اخلاقی یا قانونی معیار پر قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ احتجاجی مارچ اور دھرنوں کی بھی کوئی حد ہوتی ہے، ان حدود سے تجاوز کر کے ریاستی اداروں پر دھاوا بولنے کے ارادے اور شہرشہر دھرنوں کے عزائم اجتماعی خودکشی کے مرادف ہیں۔ ہمارا ملک پہلے ہی بیشمار مسائل کا شکار ہے، اور دشمنوں کی سازشیں اس کو اپنا نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔ ایسی حالت میں انتشار اور لاقانونیت پھلانے سے صرف دشمن کے ہاتھ مضبوط ہونگے، اور کسی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ لہذا ہم حکومت اور احتجاج کرنے والے عناصر دونوں سے یہ دردمندانہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلا تاخیر مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل پیش کریں۔ امید ہے کہ پاکستان کے عوام کسی بھی ایسی کوشش کا ساتھ نہیں دینگے جس سے ملک کی سلامتی متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید :

صفحہ اول -