وزیراعظم کون؟ ڈاکٹر طاہر القادری یا عمران خان؟

وزیراعظم کون؟ ڈاکٹر طاہر القادری یا عمران خان؟
وزیراعظم کون؟ ڈاکٹر طاہر القادری یا عمران خان؟
کیپشن: 1

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

تجزیہ، چودھری خادم حسین
ڈاکٹر طاہر القادری کے انقلاب اور عمران خان کے آزادی مارچوں اور مطالبات پر اصرار کے ساتھ ڈیڈ لاک سی صورت حال پیدا کرنے سے وہ خدشہ پورا ہوتا نظر آ رہا ہے، جس کا اظہار کیا جا رہا تھا۔ اس وقت سیاسی اور سماجی سطح پر نئی تقسیم اور تفریق شروع ہو گئی، جسے جمہوری اور غیر جمہوری رویوں کی حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس وقت تحریک انصاف کے عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے ڈاکٹر طاہر القادری ایک دوسرے پر سبقت کی کوشش کرتے نظر آئے اور مطالبات میں بھی شدت پیدا کرتے چلے جا رہے ہیں۔ اب حالات اس نہج پر ہیں کہ تصادم کا شدید تر خطرہ ہے۔ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری نے جس انداز سے اپنے اپنے حامیوں کو ملک بھر سے اسلام آباد آنے کے لئے کہا، اس سے ان کے ارادوں کا اظہار ہوتا ہے۔ اب تک عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے ریڈ زون اور عوامی پارلیمنٹ کے نتائج سامنے آ گئے ہوں گے۔ ہماری مجبوری ہے کہ یہ تحریر وقت سے ذرا پہلے لکھنا ہوتی ہے۔ بہرحال مختلف سیاسی جماعتیں سر توڑ کوشش کر رہی ہیں کہ مصالحت کی کوئی صورت حال نکل آئے اور تصادم ٹل جائے۔
اس حوالے سے دو اہم فیصلوں کا ذکر مقصود ہے۔ ایک پارلیمنٹ والی ان جماعتوں کا ہے جو دھرنوں اور مارچوں کو جمہوریت اور جمہوری نظام کے لئے ضرر رساں قرار دے رہی ہیں اور پس ِ پردہ ہاتھ کا احساس دلاتی ہیں ان کے عمل اور قول و قرار سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کو خدشات ہیں اور وہ ان کی پیشگی اطلاع دے کر اپنے عزم کا بھی اظہار کر رہے ہیں، جبکہ ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان یہ ضرور کہتے ہیں کہ وہ مارشل لاءنہیں چاہتے، لیکن ان کے عمل ایسے ہیں کہ فوجی مداخلت کا خدشہ پایا جاتا ہے اور پھر چودھری شجاعت حسین بھی تو جو کہتے ہیں کہ فوج مداخلت کر سکتی ہے، لیکن مارشل لاءنہیں لگے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ موجودہ جمہوری نظام کے حامی اور مخالف ہر دو کے ذہنوں میں یہی خطرہ پایا جاتا ہے۔ اگر یہ احساس ہے تو پھر خون خرابے والی حرکت کیوں کی جاتی ہے۔ اب تک مصالحتی کمیٹیوں کو موقع کیوں نہیں دیا جا رہا؟ توقع کرنا چاہئے کہ بات چیت سے کوئی حل نکل آئے گا۔
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ذہنی اور نفسیاتی طور پر منتشر محسوس ہوئے کہ وہ ایک فیصلہ کرتے اور پھر اسے تبدیل کر لیتے ہیں یا اِسی میں شدت پیدا کرتے ہیں اور یہ بنی گالہ میں ہوتا ہے جہاں کور کمیٹی حالت اجلاس میں رہتی ہے۔ شبہ ہے کہ وہاں کوئی غیر سیاسی اور غیر مرئی مشیر بھی ہوتے ہیں اور وہاں فیصلے تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔
عمران خان نے دوسرا بڑا فیصلہ اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا کیا جسے وہ کارنامہ قرار دے رہے ہیں، حالانکہ آزادی مارچ شروع ہونے سے پہلے یہ فیصلہ کیا اور استعفے لئے گئے تھے۔ یہاں عمران خان سمیت شاہ محمود قریشی تک بھی بھول گئے کہ نشست چھوڑنا بہت مشکل کام ہے اور استعفے کا طریقہ بھی یہ نہیں جو خان صاحب اور شاہ محمود قریشی نے اختیار کیا ہے۔ کسی بھی رکن کے مستعفی ہونے کے لئے اگر یہ لازم ہے کہ وہ تحریری استعفا لکھے تو یہ بھی ضروری ہے کہ وہ سپیکر کے سامنے خود پیش ہو کر تصدیق بھی کرے کہ دستخط اُسی کے ہیں۔ دوسری صورت میں سپیکر کو اختیار ہے کہ وہ استعفا منظور نہ کرے اور متعلقہ رکن کو لکھے کہ وہ خود آ کر تصدیق کرے۔ یہ وہ عمل ہے، جس کے دوران بعض وہ ارکان جن کو فیصلے سے اختلاف ہوتا ہے وہ خاموشی سے کھسک یا گم ہو جاتے ہیں۔ بہرحال عوام نے اس حوالے سے بھی دہرے معیار کو پسند نہیں کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت تو پاس رہے گی۔
جہاں تک ریڈ زون کی طرف جانے کے اعلان کا تعلق ہے تو یہ بہت ہی خطرناک ہے۔ عمران خان نے یہ اعلان ایسے اعتماد اور فوج کا نام استعمال کر کے کیا، جس سے یہ تاثر دینا مقصود ٹھہرا کہ ان کو فوج کی حمایت حاصل ہے، جبکہ وزیر داخلہ اور میاں شہباز شریف گزشتہ روز بھی جنرل راحیل شریف سے ملے اور ریڈ زون کے حساس ترین علاقے کے حفاظتی انتظامات کے حوالے سے بات ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا افواج پاکستان یہ الزام اپنے سر لے گی؟
دوسری طرف ڈاکٹر طاہر القادری ایک ہوشیار ترین منصوبہ ساز کی طرح بتدریج آگے بڑھے۔ دین کا نام استعمال کیا اور اپنا فیصلہ عوام کی تائید سے نافذ کرتے ہیں۔ اب انہوں نے چاروں صوبوں میں دھرنوں کا اعلان کیا اور پھر عوامی پارلیمنٹ سے ایک ایسا فیصلہ کرایا جو براہ راست تصادم کا مظہر ہے۔ یوں سیاسی جماعتوں، تاجروں، صنعت کاروں، وکلائ، سول سوسائٹی اور عام لوگوں کو پسند نہیں آیا اور انہوں نے منظور نہیں کیا کہ وہ امن چاہتے ہیں، اب تو وکلاءبھی میدان عمل میں ہیں، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے مشترکہ طور پر کل پاکستان وکلاءکنونشن بلانے کا فیصلہ کر لیا جو21 اگست کو لاہور میں ہو گا۔ یوں یہ نئی صف بندی ہے، جس میں ایک طرف وہ تمام سیاسی جماعتیں اور عوامی قوتیں ہیں، جو ملک کو آئین اور قانون کے مطابق چلانا چاہتی ہیں اور دوسری طرف تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک والے ہیں جو زبردستی اقتدار چھین لینا چاہتے ہیں، حالات حاضرہ پر نظر رکھنے والے عراق اور شام کے حالات کو بھی مثال کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور اب ان کو ڈاکٹر طاہر القادری کی شکل میں ایک نیا ”خلیفہ المسلمین“ نظر آ رہا ہے۔
اللہ کرے جلد امن ہو، اعصاب قابو میں آئیں اور عوام اپنا اپنا کام کریں۔ جہاں تک عام شہریوں کا تعلق ہے تو وہ بہت مایوس ہیں۔ فرض کرتے ہیں کہ کسی غلطی کی وجہ سے حکومت گر جاتی ہے تو پھر ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان آمنے سامنے ہوں گے۔ وزیراعظم کون؟ والا مسئلہ ہو گا۔ اندرونی خلفشار اور انتشار مغربی اور مشرقی سرحدوں کے حالات کی وجہ سے اچھا ہو ہی نہیں سکتا۔

مزید :

تجزیہ -