کیا پرویز خٹک کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو سکتی ہے؟

کیا پرویز خٹک کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو سکتی ہے؟
کیا پرویز خٹک کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو سکتی ہے؟
کیپشن: 1

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری
                     صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک اسلام آباد کے دھرنے میں مصروف ہیں اور جب موج میں آتے ہیں تو رقص سے بھی دل بہلا لیتے ہیں لیکن صوبے سے ان کی غیر حاضری کے دوران قائد حزب اختلاف مولانا لطف الرحمن نے ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کردی ہے، اس کا فوری نتیجہ تو یہ ہوگا کہ اب وزیراعلیٰ اسمبلی توڑنے کی ایڈاوائس صوبے کے گورنر کو نہیں دے سکیںگے۔ آئین کے تحت کوئی بھی وزیر اعلیٰ جب چاہے ایسی ایڈوائس گورنرکو دے سکتا ہے لیکن جب اس کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کردی جائے تو اس کا یہ آئینی اختیار بھی اس وقت تک ختم ہوجاتا ہے جب تک تحریک کے بارے میں فیصلہ نہیں ہوجاتا، آئین کے تحت ضروری ہے کہ جب کسی صوبے کے وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہوجائے تو زیادہ سے زیادہ تین دن سے قبل اور سات دن کے بعد رائے شماری نہیں کرائی جاسکتی، اس کا مطلب یہ ہے کہ آج یعنی منگل کو جو تحریک عدم اعتماد پرویز خٹک کے خلاف پیش کی گئی ہے اس پر زیادہ سے زیادہ اگلے پیر تک رائے شماری کرانا لازمی ہے۔ اس سلسلے میں آئین کے آرٹیکل 136 میں کہا گیا ہے۔
-1 وزیراعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ کی قرار داد جسے صوبائی اسمبلی کی کل رکنیت کے کم از کم بیس فیصد نے پیش کیا ہو، صوبائی اسمبلی کی جانب سے وزیراعلیٰ کے خلاف منظور کی جاسکے گی۔
-2 شق (i) میںمحولہ کسی قرار داد پر تین دنوں کے اختتام سے قبل یا سات روز کے بعد رائے شماری نہیں کی جائےگی، اس دن سے جس پر صوبائی اسمبلی میں ایسی قرار داد پیش کی گئی ہو۔
-3 اگر شق (i) میںمحولہ قرار داد کو صوبائی اسمبلی کی کل رکنیت کی اکثریت کی جانب سے منظور کرلیا جاتا ہے تو وزیراعلیٰ عہدہ پر برقرار رہنے سے محروم ہوجائےگا۔
صوبہ خیبر پختونخوا کی اسمبلی میں کسی جماعت کو (بشمول تحریک انصاف) اکثریت حاصل نہیں ہے، البتہ تحریک انصاف اسمبلی کی سب سے بڑی پارٹی ہے، اسی بنیاد پر اسے حکومت سازی کا حق دیا گیا چنانچہ تشکیل حکومت کے وقت تحریک انصاف نے جماعت اسلامی اور آفتاب شیرپاﺅ کی جماعت قومی وطن پارٹی (کیو ڈبلیو پی) کے تعاون سے حکومت بنالی، تھوڑے ہی عرصے کے بعد قومی وطن پارٹی کے ساتھ تحریک انصاف کے اختلافات پیدا ہوگئے چنانچہ اول الذکر حکومت سے الگ ہوگئی یا کردی گئی، جب صوبائی حکومت بن رہی تھی تو ایوان کی دوسری بڑی جماعت جمیعت علمائے اسلام (ف) کی کوشش تھی کہ اُسے حکومت بنانے کا موقع دیا جائے لیکن وزیراعظم نواز شریف نے اُن کی حوصلہ افزائی نہ کی اور کہا کہ سب سے بڑی جماعت کو حکومت بنانے کا حق ہے، ہمارے ہاں جو سیاسی کلچر ستر کی دہائی اور اسی کے آخری دو سالوں سمیت نوے کی دہائی میں رائج رہا اگر اس کا ایکشن ری پلے ہوتا تو شاید تحریک انصاف کی حکومت نہ بن پاتی، لیکن اب کی بار وفاق نے سیاسی بلوغت کامظاہرہ کیا، اس لئے تحریک انصاف کی حکومت بن گئی، جب شیرپاﺅ کی جماعت حکومت سے الگ ہوئی اس وقت بھی حکومت تبدیل کرنے کی کوششیں ہوسکتی تھیں لیکن ایسا نہیں کیا گیا، اب اپوزیشن نے وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ تحریک کامیاب ہوپائے گی؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کےلئے اسمبلی میں پارٹی پوزیشن کا جائزہ لیتے ہیں، جو یہ ہے
پارٹی
ارکان کی تعداد بشمول خواتین ارکان
پاکستان تحریک انصاف
46
جمیعت علمائے اسلام (ف)
16
مسلم لیگ (ن)
14
قومی وطن پارٹی
8
جماعت اسلامی
8
اے این پی
5
پیپلزپارٹی
4
اے جی آئی پی
4
آل پاکستان مسلم لیگ
1
آزاد
10
کل ارکان
116
116 ارکان کے ایوان میں حکومت سازی کے لئے مطلوبہ ارکان کی حمایت کم از کم 59 ارکان ہے اگر ان ارکان کی حمایت حاصل نہ رہے یا ایک بھی رکن ادھر ادھر ہوجائے تو حکومت قائم نہیں رہ سکتی، تحریک عدم اعتماد کی جو قرار داد سپیکر صوبائی اسمبلی کو جمع کرائی گئی ہے اس پر 46 ارکان کے دستخط ہیں۔ حکومت کو جماعت اسلامی کے آٹھ ارکان کی حمایت حاصل ہے، اے جی آئی پی کے ارکان کی تعداد چار ہے، اس کے علاوہ آزاد ارکان کی حمایت پر یہ حکومت کھڑی ہے، ان دونوں جماعتوں میں سے کوئی ایک بھی اگر حکومت کی حمایت سے دستبردار ہوجائے تو حکومت قائم نہیں رہ سکتی، جو جماعتیں پرویز خٹک کی مخالفت میں ووٹ دے سکتی ہیں ان میں جمیعت علمائے اسلام (ف)، مسلم لیگ (ن)، اے این پی، پیپلزپارٹی اور قومی وطن پارٹی شامل ہیں، اگر یہ جماعتیں 10 آزاد ارکان کی حمایت بھی حاصل کرلیتی ہیں تو اے جے آئی پی کے بعض ارکان بھی اس کے ساتھ مل سکتے ہیں تاہم طاقت کا توازن جماعت اسلامی کے پاس ہے، اگر جماعت اسلامی تحریک انصاف کے ساتھ کھڑی رہتی ہے تو تحریک عدم اعتماد کی کامیابی مشکل ہے۔ فرض کریں جماعت اسلامی ساتھ چھوڑ دے تو حکومت کسی طور قائم نہیں رہ سکتی اس لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت جماعت کے رحم و کرم پر ہوگی یا پھر آزاد ارکان کا رول بہت اہم ہوگا، تحریک کی کامیابی کے لئے یہ ضروری ہے کہ مسلم لیگ (ن) کھل کر حکومت کے سامنے آجائے، اگر مسلم لیگ (ن) نے ماضی کی طرح مصالحتی پالیسی جاری رکھی تو بھی تحریک کامیاب نہیں ہوسکے گی۔

مزید :

تجزیہ -