پہلوان صحافت ، غفور بٹ مرحوم

پہلوان صحافت ، غفور بٹ مرحوم
پہلوان صحافت ، غفور بٹ مرحوم

  

یوں تو ہر شخص ہی ماضی پرست ہوتا ہے لیکن جو لوگ تحریر و تقریر کے شعبہ سے وابستہ ہوتے ہیں ان میں ماضی پرستی کا عنصر زیادہ ہوتا ہے۔ فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے اکثر لوگ بھی اپنے ماضی کو اپنی زندگی کا بہترین حصہ قرار دیتے ہیں۔ دانشوروں کا قول ہے کہ ماضی سے جڑے ہوئے لوگ ہی زمانہ حال میں کامیاب ہوتے ہیں۔ مستقبل تو محض ایک خوش فہمی ہے ایک امید ہے جس کے سہارے زندگی آگے بڑھتی ہے واقعی اصل زندگی وہی ہوتی ہے جو گزر چکی ہے۔ ماضی کو بھی دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے یعنی ماضی قریب اور ماضی بعید ماضی قریب ایک خوشگوار احساس کی طرح ذہن کے کسی نہ کسی گوشہ سے لپٹا رہتا ہے۔ ماضی بعید ایک تاریخ قصہ پارینہ اور ایک دھندلا نا قابل، یقین منظر اس لئے ہر انسان ماضی قریب سے استفادہ کرتا ہے۔ اور اعمال و خیالات اسی سے وابستہ رہتے ہیں 1970ء کے بعد کا زمانہ جب میں نے افسانہ لکھنا شروع کیا تو میری سب سے پہلے ملاقات اس وقت کے معروف فلمی پرچے’’ ڈائریکٹر‘‘ کے ایڈیٹر جناب طفیل اختر سے ہوئی، ان سے تعلقات بڑھے تو ان کی وساطت سے فلم جرنلرم سے وابستہ شخصیات کے ساتھ تعارف اور راہ ورسم پیدا ہوئے۔ جو لوگ اس وقت فلم جرنلرم کی مقدس روایات کے امین تھے ان میں سب سے سنیئر اور فعال شخصیت جناب غفور بٹ کی تھی جن کو اگر بابائے فلم جرنلرم کہا جائے تو بے جانہ ہو گا۔ ان کے ساتھ ساتھ یٰسین گوریجہ( المعروف فلم ڈائریکٹری) ایم اے چوہان فلم ورلڈ‘‘ تجمل حسین، مقبول سرمد کلیم نشتر(فلم ڈائجسٹ والے) جناب پرویز راہی، عماد صدیقی فدا احمد کار دار بہت زیادہ متحرک تھے۔

یہ وہ زمانہ تھا جب فلمی صنعت ابتدائی ارتقائی منازل طے کر رہی تھی اور ہر شعبے میں نیا ٹیلنٹ اپنی اپنی جگہ بنانے کے لئے جدو جہد کر رہا تھا اس کے ساتھ ساتھ فلم جرنلرم کا شعبہ بھی اپنی اہمیت و افادیت اجاگر کرنے میں ہمہ تن مصروف تھا۔ ہمارا شمار تو ابھی طفل مکتب میں تھا لیکن ہم اس فیلڈ کے سنیئر لوگوں کو کام کرتے ہوئے دیکھ کر خود میں ایک احساس تفاخر کو ہم رکاب تصور کرتے تھے۔ ہم یہاں فلم جرنلزم کے شعبہ کے سپہ سالار جناب غفور بٹ کی حسین یادوں سے لپٹے ہوئے اس گلدستے کا تذکرہ کر رہے ہیں جس کی مہک آج بھی ہم اپنے ذہن و دل کے نہاں گوشوں میں محسوس کرتے ہیں سچ تو یہ ہے کہ وہ فلم جرنلرم کے شعبہ میں ایک ایسے شجر سایہ دار تھے جن کی چھاؤں میں ان گنت قلم کاروں اور فن کاروں نے سانس لیا۔ سستائے، سوچ بچار کی صلاحیت حاصل کی اور آگے بڑھ گئے۔

قیام پاکستان کے بعد فلمی صنعت کی صحیح معنوں میں نمائندگی کرنے والا ہفت روزہ ’’ سکرین لائٹ‘‘ جناب غفور بٹ مرحوم کی ان تھک محنت کا ایک ایسا خوبصورت اور دیرہ زیب پرچہ تھا جس کے لئے فلمی صنعت سے وابستہ افراد اور فلم ناظرین ہمہ تن انتظار میں رہتے تھے۔ رنگا رنگ تصاویر فلمی صنعت کی مصروفیات، شوٹنگر کا احوال تبصرے، مضامین ڈائریاں، نظم و نثر میں طرح طرح کے شگوفے مل جل کر’’ سکرین لائٹ‘‘ کو ایک ایسا مرقع بتا دیتے تھے جس کی مثال اس زمانے کی فلم جرنلرم میں کم ہی ملتی تھی، سکرین لائٹ‘‘ میں شائع ہونے والی سطر سطر میں غفور بٹ کا خون شامل ہوتا تھا اور لکشمی چوک لاہور کی تاریخی عمارت کے تیسرے فلور پر ان کا دفتر گو ناگوں فنی صلاحیتوں کے حامل افراد سے ہر وقت کھچا کھچ بھرا رہتا تھا۔ شاعر، موسیقار، رائٹر اداکار ، صحافی ان کے دفتر میں کھنچے چلے آتے تھے اور غفور بٹ کبھی ان کی تواضع سے نہ گھبراتے تھے ان کا ہفت روزہ ان کی تحریروں اور تصویروں کے لئے اور ذہن ان کی خاطر مدارت کے لئے ہر وقت اپنے در کھلے رکھنا تھا۔

غفور بٹ جب رائل پارک میں داخل ہوتے تو ان کی شان ہی ا ور ہوتی تھی قدم قدم پر ان کے پرستار ان سے مصافحہ کرتے فلمی دفاتر میں ان کی عزت افزائی کے مناظر اور بھی دلچسپ و یادگار تھے۔ وہ کونسا فلمساز تقسیم کار، ہدایت کار یا اداکار تھا جو غفور بٹ کی صحافتی صلاحیتوں کا معترف نہ تھا فلمی دنیا کی کوئی تقریب ان کے بغیر مکمل نہیں ہوتی تھی، اس زمانے میں سٹوڈیو میں نئی فلموں کی مہورت بڑی دھوم دھام سے ہوا کرتی تھی اور ہر فلمساز، ہدایت کار کی یہی خواہش ہوتی تھی کہ ان کی فلم کی خبر غفور بٹ ’’ہفت روزہ‘‘ سکرین لائٹ میں ضرور شائع ہو وہ جب اپنے دیگر صحافی ساتھیوں کے ہمراہ تقریب میں جاتے تو ان کے اعزاز میں سب لوگ ان کی طرف متوجہ ہو جاتے۔ انہوں نے نہ صرف اپنی فلم جرنلرم سے وابستہ پوری برادری کی عزت کے لئے جہدوجہد کی تھی یہ سب پذیرائی اس کا نتیجہ تھی۔ انہوں نے فلم جرنلزم سے وابستہ تنظیم کو فعال کیا، اس سلسلے میں ہمارے اجلاس ان کے میں دفتر میں ہوا کرتے تھے اور انتخابات پر الیکشن کمشنر کے فرائض فلمی صنعت کی کوئی معروف شخصیت ادا کرتی تھی۔ دراصل غفور بٹ ہنستے مسکراتے اور بے ضرر قسم کے ایسے انسان تھے کہ جن کو دیکھ کر ہی ان سے بے ساختہ لپٹ جانے کو جی چاہتا تھا۔

فلمی دنیا کے ابتدائی زمانے میں جب انہوں نے ’’سکرین لا ئٹ‘‘ شروع کیا تو ریاض شاہد، خواجہ پرویز قتیل شفائی اور کتنے ہی نامور فلمی مصنف شاعر ہدایت کار اور دیگر تکنیک کار اس کام میں ان کی ہم رکابی کا شرف حاصل کرتے رہے اور جب انہوں نے شہرت کی بلندیوں کو چھوا تو تب بھی وہ ہمیشہ غفور بٹ کی مہر بانیوں اور ان کی نوازشوں کے معترف رہے معروف شاعر قتیل شفائی صاحب ان کو محبت سے پہلوان صحافت کہا کرتے تھے کیونکہ وہ ان کے بھاری بھر کم وجود کے ساتھ ساتھ ان کے جسم میں موجود ایک مخلص اور نہایت ہمدرد دل سے بھی واقف تھے۔مجھ کو بھی یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس تاریخی اہمیت کے حامل پرچہ سکرین لائٹ‘‘ اور ایک انتہائی مہربان اور قدردان ایڈیٹر جناب غفور بٹ کے ساتھ کام کیا اور ایک طویل عرصہ تک ان کی محبتوں سے فیض یاب مجھے حیرت ہے کہ اس وقت میڈیا بعض ایسے اداکاروں کے بارے میں بھی ان کی تاریخ پیدائش اور وفات کے حوالے سے پروگرام پیش کر رہا ہے جو اپنی زندگی میں خاطر خواہ مقام بھی نہیں حاصل کر سکے تھے لیکن میڈیا اپنے ہی شعبے کے ان افراد کو فراموش کئے بیٹھا ہے جن کی وجہ سے آج میڈیا ہر خاص و عام میں مقبول ہو چکا ہے۔ سچ توبہ ہے قیام پاکستان کے بعد جن لوگوں نے انتہائی مشکل حالات میں میڈیا کی بنیاد رکھی اور اپنے خون سے اسکی آبیاری کی ان کی یاد میں نہ صرف تقاریب منعقد کی جائیں بلکہ ان کی کاوشوں کے نمونے بھی تاریخ کا حصہ بنانے کے لئے ان کو محفوظ کیا جائے۔ بلاشبہ ایسے افراد میں جنہوں نے میڈیا کو اپنا خون دیا ان میں غفور بٹ سر فہرست نظر آتے ہیں۔

مزید :

کالم -