حکومت پنجاب کا عزمِ مصمم

حکومت پنجاب کا عزمِ مصمم
 حکومت پنجاب کا عزمِ مصمم

  

پنجاب میں دہشت گردی کے واقعات کا تسلسل توڑنے والے دبنگ وزیرداخلہ کی شہادت پر پورا مُلک سوگ میں ڈوبا ہوا ہے۔ خادمِ اعلیٰ پنجاب کی قیادت میں پنجاب کابینہ کی پوری ٹیم جس تندہی سے اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے کوشاں ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ ہمیں دہشت گردی کی آگ میں جھلستے ہوئے ایک عشرے سے زائد عرصہ بیت چکا ہے۔ فوجی آمریت کے سیاہ سائے چھٹ جانے کے بعد بھی اس پر خاطرخواہ توجہ نہیں دی گئی۔ سیاسی حکومتوں کے فیصلوں پر تنقید کرنے والوں نے شور مچائے رکھا، لیکن سابقہ حکومت پاکستان کے کسی بھی کلیدی مسئلے کا صائب حل پیش نہ کر سکی۔ 2013ء کے انتخابات کے بعد سارا بوجھ مسلم لیگ ن پر آپڑا اور پاکستان مسلم لیگ(ن) نے اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھائی بھی ہے۔ توانائی بحران سمیت دیگر ترقیاتی منصوبے رفتار اور معیار کے حوالے سے اپنی مثال آپ ہیں۔ ان سب کے ساتھ ساتھ دہشتگردی اور بدامنی کے ناسور کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کا عزم بھی قابل رشک ہے۔ وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی قیادت میں فوجی اور سول ادارے اپنی مکمل پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے ساتھ مُلک دشمن عناصر کے ساتھ برسر پیکار ہیں۔ ضربِ عضب آپریشن شروع کرنا دراصل محمد نوازشریف کا دلیرانہ فیصلہ تھا۔ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ ہماری فوجی قیادت نے کمال جرأت مندی سے دشمن کی اندرونی و بیرونی سازشوں کا منہ توڑ جواب دیا، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ فوجی قیادت کو سول حکومت کا مکمل اعتماد اور حمایت حاصل ہے۔ کراچی میں آپریشن کی اپنی نوعیت ہے۔ یہاں جرام پیشہ افراد سیاسی چھتری تلے اپنے کام میں مصروف تھے۔ رینجرز اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے ان کا قلع قمع کرکے اہلِ کراچی کو کئی عشروں بعد سُکھ کا سانس فراہم کیا۔

اسی طرح میاں نواز شریف کی زیرک قیادت اور مدبرانہ پالیسیوں کی بدولت بلوچستان میں امن و امان کی فضاء بحال ہورہی ہے۔ وزیراعظم کے حالیہ دورۂ بلوچستان کے بعد وہاں فراریوں اور باغیوں نے ہتھیار ڈالنے شروع کردیئے ہیں۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ غاروں اور پہاڑوں سے نکل کر قومی دھارے میں آنے والے یہ محب وطن نوجوان نہ صرف ریاست کی وفاداری کا حلف لے رہے ہیں، بلکہ یہ لوگ بہت سے ایسے چشم کشا انکشافات بھی کر رہے ہیں، جس سے ہمارے ازلی دشمن کی سازشیں بے نقاب ہورہی ہیں، جہاں تک پنجاب کا تعلق ہے تو یہاں شہباز شریف نے باقاعدہ فورس تشکیل دے کر نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کا آغاز کیا ہوا ہے۔ انتہائی مستعد ٹیم یہ کام سرانجام دے رہی ہے۔ وزیر داخلہ کرنل(ر) شجاع خانزادہ کی شہادت کی صورت میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے بہت بھاری قیمت بھی چکا دی ہے۔ ہم اور ہماری قیادت خون شہیداں کو گواہ بناکر اپنے اِسی عزم کا اعادہ کر رہے ہیں کہ آخری دہشت گرد کے خاتمہ تک یہ جنگ جاری رہے گی۔ خادم اعلیٰ پنجاب نے حیرت انگیز طور پر اعلان کر دیا ہے کہ اب وہ اس جنگ کی براہِ راست خود قیادت کریں گے۔ ہمارے ارادے بالکل بھی متزلزل نہیں ہوئے۔ پوری قوم اور سیاسی قیادت اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ ہیں۔ کرنل شجاع خانزادہ کی شہادت ہمارے لئے ایک راہ کا تعین کر رہی ہے۔ حکومت پنجاب ہر ممکن طریقے سے امن عامہ کو یقینی بنائے گی۔ دہشت گردی اور تخریب کاری کے ذریعے کچھ عناصر حکومت کو کمزور کرنے کی خام خیالی میں مبتلا ہیں، حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کو جب بھی اندرونی و بیرونی خطرات لاحق ہوئے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے فوج اور عوام کی مدد سے ایسے تمام چیلنجوں کا مقابلہ کیا ہے۔ پنجاب میں اس حوالے سے باقاعدہ مانیٹرنگ کا نظام وضع کیاگیا ہے۔ ہمارے سیکیورٹی اداروں، فوج، پولیس اور رینجرز کے جری جوان جو اس معرکے میں زخمی یا شہید ہوتے ہیں،پنجاب حکومت ان کے لواحقین کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ گزشتہ روز ہونے والے پنجاب کابینہ کے خصوصی اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کی پوری ٹیم نے بھرپور عزم سے علی الاعلان کہا ہے کہ پنجاب میں تخریب کاروں، فتنہ پروروں اور ان کے سہولت کاروں کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کو تمام تر تنقید کے ساتھ ساتھ اس حوالے سے حکومت کے قدم سے قدم ملانا چاہئے، کیونکہ پاکستان کی بقاء‘ استحکام اور سلامتی سے ہی سیاست و ریاست کا وجود جُڑا ہوا ہے۔ اگر ہم اپنے ذاتی مفادات اور سطحی اختلافات میں پڑے رہے تو دشمن ہمارے لئے مزید مشکلات پیدا کرے گا۔ آج جہاں ہم افسوس کا اظہار کر رہے ہیں وہاں اس امر کی بھی ضرورت ہے کہ دہشت گردی اور تخریب کاری کے خلاف پوری قوم یکجا ہوکر ٹھوس مؤقف اپنائے اور یکجہتی کے ذریعے اس عذاب سے چھٹکارا حاصل کیاجائے۔ پاکستان پائندہ باد!

مزید :

کالم -