ہمشیرہ کا انتقال، بیگم نسیم اور اسفندیار ولی میں صلح کی تقریب ملتوی

ہمشیرہ کا انتقال، بیگم نسیم اور اسفندیار ولی میں صلح کی تقریب ملتوی
ہمشیرہ کا انتقال، بیگم نسیم اور اسفندیار ولی میں صلح کی تقریب ملتوی

  

پشاور(ویب ڈیسک) عوامی نیشنل پارٹی (ولی) گروپ کی سربراہ بیگم نسیم ولی خان کی ہمشیرہ کے انتقال کے باعث اسفندیارولی خان کیساتھ مصالحت کا عمل ملتوی کردیا گیا جبکہ اے این پی کے صوبائی صدر حیدر ہوتی خالہ کی میت اپنے گھر لے گئے جہاں سے ان کا جنازہ اٹھایا گیا ، اے این پی کے قائد اسفندیارولی خان اور ان کی والدہ بیگم نسیم ولی خان کے مابین خاندانی تنازعہ اور سیاسی اختلافات کے خاتمہ کے بعد جمعہ کے روز باضابطہ طور پر صلح ہونے والی تھی ۔

مقامی اخبار کے مطابق گزشتہ روز بعد از نماز جمعہ اسفندیارولی خان نے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ بیگم نسیم ولی خان کے گھر جانا تھا جہاں خاندان کے تمام افراد کو بھی مدعو کیا گیا تھا تاہم جمعہ کی صبح بیگم نسیم ولی خان کی ہمشیرہ جو گزشتہ چار سال سے ان کے ہمراہ رہ رہی تھیں انتقال کرگئی جن کی میت اے این پی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اپنے گھر لے گئے جہاں سے جمعہ کی شام چھ بجے ان کا جنازہ اٹھایا گیا، بیگم نسیم ولی خان کی ہمشیرہ کی وفات سے مصالحتی تقریب بھی ملتوی کردی گئی۔

ایاز صادق سسٹم کو لپیٹنے جا رہے ہیں ،مسلم لیگ ن کا سپریم کورٹ کے خلا ف قدم حملے کے مترادف ہے :شیخ رشید

اخبار کے مطابق اسفندیارولی خان اور بیگم نسیم کے مابین خاندانی تنازعہ اور سیاسی اختلافات کے خاتمہ کا باضابطہ اعلان اب اتوار یا پیر کے روز متوقع ہے ، واضح رہے کہ ولی خاندان کے چھوٹوں امیر حیدر خان ہوتی، ان کے بھائی غزن خان، اسفندیارولی خان کے صاحبزادے ایمل ولی خان اور سنگین ولی خان کے صاحبزادے لونگین ولی خان نے اپنے بڑوں کے مابین صلح کی راہ ہموار کی ہے۔

مزید : پشاور