جنون نہیں ہوش کیجئے

جنون نہیں ہوش کیجئے
 جنون نہیں ہوش کیجئے

  

پیپلزپارٹی کا معاملہ یہ ہے کہ

’’تھکی ہاری زمین اپنا زمانہ ڈھونڈتی ہے‘‘

اس وقت کہ جب ہر ایک سیاسی جماعت اپنے ’’حال‘‘ سے زیادہ مستقبل کے بارے میں فکر مند ہے پیپلزپارٹی کی قیادت اپنے ماضی کی تلاش میں ہے اور کوشش میں ہے کہ کسی نہ کسی طرح پیپلزپارٹی کا ماضی لوٹ آئے اور قیادت سمجھتی ہے کہ اس کی سیاسی ’’بقا‘‘ اس کے ماضی کے لوٹ آنے میں ہی ہے،سو کوشش کر رہے ہیں کہ اگر بھٹو کا زمانہ نہیں تو کم از کم بے نظیر بھٹو کا زمانہ ہی واپس لایا جائے،یعنی بقول شاعر

’’میرے ’’بچپن‘‘ کے دن کتنے اچھے تھے دن‘‘

مگر اب ایسا ممکن نہیں ہے،بلکہ تقریباً ناممکن ہے پیپلز پارٹی آہستہ آہستہ اپنی وفاقی حیثیت کھو رہی ہے اور روز بروز سندھ کے دیہات تک محدود ہوتی جا رہی ہے اور اگر دیکھا جائے تو پیپلزپارٹی کو یہ دن کسی ’’جن بھوت‘‘ کی وجہ سے نہیں،خود اپنی ناقص اور وقتی مفادات کی وجہ سے دیکھنے پڑے ہیں۔

پنجاب کے عوام پر تعصب کے بہت الزام لگائے جاتے ہیں،مگر حقیقت یہ ہے کہ پنجاب کے لوگ سیاسی، سماجی،ثقافتی اور مذہبی طور پر ذہین لوگوں کو بہت عزت دیتے ہیں،سب سے بڑی مثال بھٹو مرحوم کی دی جا سکتی ہے وہ سندھی ہونے کے باوجود پنجاب کے لیڈر کے طور پر نمایاں ہوئے۔انہوں نے اپنی سیاسی اڑان پنجاب کے عوام کی طاقت سے بھری،سندھ کے لوگوں نے بہت بعد میں بھٹو کو بڑے لیڈر کے طور پر تسلیم کیا اور اور بدقسمتی سے بھٹو مرحوم کی پھانسی کے بعد پارٹی قیادت نے بھٹو کو ایک سندھی لیڈر کے طور پر پیش کرتے ہوئے اس کی قومی سیاست کو محدود کر دیا۔پنجاب پیپلزپارٹی کے ہاتھوں سے بے نظیر بھٹو کے دور میں ہی نکل گیا تھا۔۔۔انہوں نے بہت کوشش کی کہ پنجاب دوبارہ واپس مل جائے، مگر اپنی تمام تر سیاسی کوششوں کے باوجود وہ پنجاب واپس نہ لے سکیں،ان کے قتل کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری نے اعلان کیا کہ وہ پنجاب میں اپنی پارٹی کو دوبارہ زندہ کریں گے،انہوں نے لاہور میں ایک گھر بھی ’’خریدا‘‘ اور کہا کہ وہ ہر ماہ لاہور آیا کریں گے اور اپنے کارکنوں کے ساتھ گپ شپ بھی لگایا کریں گے،مگر وہ اپنے دور میں صرف لاڑکانہ اور دبئی کے دورے کرتے رہے، لاہور کو نظر انداز کرتے رہے،سو ان کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد تحریک انصاف اور مسلم لیگ(ن) کی صفوں میں شامل ہو گئی اور اس وقت جیالوں کا تعلق مختلف جماعتوں کے ساتھ بن چکا ہے۔

آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری دونوں اِس وقت لاہور میں ہیں اور سابق صدر نے کہا ہے کہ وہ نواز شریف کے ساتھ ہاتھ ملانا بھی گوارا نہیں کرتے،یعنی انہوں نے اعلان کر دیا ہے کہ میرے دروازے نواز شریف کے لئے بند ہیں۔ادھر مسلم لیگ (ن) والے کہتے ہیں کہ ہم نے کب آپ کے دروازے پر دستک دی ہے کہ دروازہ کھولو؟

کہا جاتا ہے کہ سابق صدر کی سیاست کو سمجھنا کسی عام ذہن کا کام نہیں ہے،وہ سیاست کے بہت بڑے ’’باوا‘‘ ہیں،مگر حقیقت یہ ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے اپنی ذاتی سیاسی ذہانت سے پارٹی کو کوئی فائدہ نہیں دیا،وقت ،حالات اور حادثات نے انہیں ’’فائدہ اٹھانے‘‘ والوں میں شامل کر دیا اور وہ کامیاب سیاست دان کہلائے۔ مثال کے طور پر گزشتہ سے پیوستہ انتخابات میں بے نظیر بھٹو کے قتل نے مُلک بھر کے لوگوں کے دِلوں کو غمگین کر دیا اور تو اور جنرل پرویز مشرف جیسے آدمی کی حالت بھی یہ تھی کہ

’’ربا میرے حال دا محرم توں‘‘

سو انتخابات کے بعد پیپلزپارٹی نے بہت فائدہ اُٹھایا۔ادھر بے نظیر بھٹو کے قتل نے خود نواز شریف کو بھی اس قدر رنجیدہ کر دیا کہ انہوں نے ایک بار یہاں تک کہہ دیا کہ،پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کا سیاسی نظریاتی پیغام ایک ہے اور دونوں کا نظریہ بھی ایک ہے،نواز شریف کے اِس بیان پر خود ان کی پارٹی کے لوگوں نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں مختلف سیاسی جماعتوں کا ’’نظریہ‘‘ ایک جیسا کیسے ہو سکتا ہے؟

یہ نواز شریف تھے، جنہوں نے الیکشن کے بعد پیپلز پارٹی کو اقتدار میں لانے کی حمائت کی اور جماعت کے لوگوں کو پیپلزپارٹی کی بھرپور حمایت پرآمادہ کیا، حالانکہ اگر وہ سیاسی ’’ڈنڈی‘‘ مارنا چاہتے تو اس موقع پر ’’چھانگا مانگا‘‘ نہ بھی لگاتے تو صرف ’’مانگا‘‘ سے ہی کام چلا سکتے تھے، مگر انہوں نے بے نظیر بھٹو کے ساتھ اپنے وعدے کو نبھایا۔۔۔ اور پھر پورے پانچ سال تک پیپلز پارٹی کی حکومت کی ممکن حد تک مدد کی۔۔۔ مگر جہاں اپنے سیاسی مقاصد کی بات تھی انہوں نے انہیں بھی مدنظر رکھا اور یہ حقیقت ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری کے اسلام آباد پر حملوں کو پیپلزپارٹی سے زیادہ نو از شریف نے روکا اور انہوں نے حکومت کی مدد کی۔۔۔اِس وقت نواز شریف سیاسی طور پر مشکل میں ہیں اور مشکل کے اِس وقت میں وہ پیپلز پارٹی کا ساتھ چاہتے ہیں،مگر پیپلزپارٹی کی قیادت نے کہا ہے کہ

’’آج سے تم اپنے گھر ہم اپنے گھر‘‘

پیپلزپارٹی کو اس’’رویے‘‘ سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے،اپنے اِس سیاسی طرزِ عمل سے وہ مُلک گیر سطح پر اپنی کھوئی ہوئی طاقت دوبارہ حاصل نہیں کر سکتی،بلکہ ایک غیر سیاسی سوچ کی حامل جماعت کے طور پر مزید شکست و ریخت کا شکار ہو سکتی ہے۔پاکستان کے سیاسی حالات اس وقت متقاضی ہیں کہ مُلک کے حالات کے مطابق سیاسی مشاورت جاری رکھی جائے اور ایک دوسرے کے ساتھ گفت و شنید کے دروازے بند نہ کئے جائیں، اگر پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ(ن) کے ساتھ ’’رشتۂ سیاست‘‘ آگے نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے تو پھر اسے یاد رکھنا چاہئے کہ وہ نہ تو اپنا ’’ماضی‘‘ واپس لا سکتی ہے اور نہ ہی اپنے ’’حال‘‘ کو روشن بناتے ہوئے مستقبل کے لئے کچھ کر سکتی ہے۔

سو اسے چاہئے کہ وہ نواز شریف کے ساتھ ’’قومی ڈائیلاگ‘‘ کے حوالے سے گفتگو کا آغاز کرے اور نواز شریف کو اپنے پاس آنے کی دعوت دے۔۔۔نواز شریف اگر کسی ’’قومی ڈائیلاگ‘‘ کے حوالے سے کوئی بات کرنا چاہتے ہیں تو سننے میں کیا حرج ہے؟

کوئی ضروری تو نہیں ہے کہ نواز شریف کی بات کو من و عن تسلیم کر لیا جائے اس میں اپنی رائے بھی شامل کی جا سکتی ہے اور اس حوالے سے دیگر پارٹیوں کے ساتھ بھی مکالمہ کیا جا سکتا ہے جو قومی مفاد میں ہو سکتا ہے۔ سیاست میں دروازے بند نہیں دِل کھلے رکھنے پڑتے ہیں، بند دروازے ’’بند گلی‘‘ کی طرف لے جاتے ہیں اور پھر دونوں جماعتوں کی قیادت کو یاد رکھنا چاہئے کہ اگر سیاست میں مار کھائی ہے تو ان دو سیاسی جماعتوں نے کھائی ہے۔ نواز شریف ہی نہیں بے نظیر بھٹو کو بھی دو بار برطرف کیا گیا۔۔۔ یوسف رضا گیلانی کو ہی نہیں نواز شریف کو بھی نااہل کرتے ہوئے تین بار اقتدار سے علیحدہ کیا گیا ہے۔بھٹو مرحوم کو اگر پھانسی پر چڑھایا گیا تھا تو نواز شریف کو بھی وطن سے ’’بیدخل‘‘ کر دیا گیا تھا۔۔۔ اور اب بھی اگر اللہ نہ کرے حالات کسی ’’بند گلی‘‘ کی طرف نکلے تو ان دونوں کو سفر کرنا پڑے گا۔۔۔ باقی سب مسافر تو ’’وسیلۂ ظفر‘‘ کے منتظر ہیں۔۔۔ سو پیپلزپارٹی کو ماضی واپس لانے کی خواہش میں اپنا مستقبل تاریک کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔بلاول بھٹو زرداری کے ’’جنون‘‘ کی اُس وقت تک کوئی ’’اہمیت‘‘ نہیں ہے جب تک اِس جنون میں ہوش کو شامل نہیں کیا جاتا۔

مزید : کالم