علامہ احمد علی قصوریؒ

 علامہ احمد علی قصوریؒ
 علامہ احمد علی قصوریؒ

  

معروف عالم دین علامہ احمد علی قصوریؒ کو ہم سے رخصت ہوئے ایک سال بیت گیا ہے۔ ہماری اس فانی دنیا میں کیسے کیسے نامور لوگ جلوہ گر ہوئے اور ایک محدود مدت تک اس عالم فانی میں اپنی ناموری کا ڈنکا بجا کر آخرت کی نادیدہ منزلوں کی جانب روانہ ہوگئے۔ کسی دانا کا بڑا مشہور قول ہے کہ اگر کسی کی حقیقی عظمت جاننا چاہتے ہو تو اس کی موت کا انتظار کرو۔ علامہ احمد علی قصوریؒ جب تک اس جہانِ فانی میں اپنے دوستوں اور حلقہ احباب میں رہے، اپنی تمام تر علمی و ادبی عظمتوں اور ہمہ جہت خوبیوں کے باوصف ہم سب کو اپنے جیسے یا تھوڑے سے سینئر محسوس ہوتے تھے، لیکن ان کی نمازجنازہ میں ہزاروں سوگواروں کی نمناک آنکھوں سے شرکت اور ان کے ختم قل اور پھر چہلم کی تقریبات میں اس خلد آشیانی شخصیت کو جس انداز میں خراج عقیدت پیش کیا گیا اور ان کی زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی گئی تو جانے والے کی عظمت کا اندازہ ہوا۔ وہ ہم میں سے تھے، لیکن وہ اپنی خوبیوں کی وجہ سے ہم سے کئی درجے اونچے تھے۔

وہ حُسنِ سیرت اور حُسنِ صورت کا دل آویز مرقع تھے۔ وہ معتبر عالم دین اور جادوئی خطیبانہ صلاحیتوں کے مالک تھے۔ وہ ملکی اور عالمی سیاست اور سازشوں کا گہرا ادراک رکھتے تھے۔ متقی اور پرہیزگار شخصیت تھے۔ ان کی دینی غیرت و حمیت مثالی تھی۔ چند برس پہلے کی بات ہے کہ گورنر ہاؤس لاہور میں قومی امور کے بارے میں صوبائی سطح کے ایک مشاورتی اجلاس میں ایک مغربی تہذیب کے پرستار اکڑی ہوئی گردن والے افسر نے انگریزی زبان میں علامہ احمد علی قصوری کے مشرقی لباس اور جناح کیپ کی طرف رُوئے سخن کر کے ایک غیرشائستہ طنزیہ جملہ کس دیا۔ علامہ قصوری اس کے قریب ہی تھے، فوراََ اس افسر کے ’’رخ تاباں‘‘ پر ایک زناٹے دار تھپڑ جڑ دیا، جس کی گونج پورے ہال میں سُنی گئی اور غرور و تکبر کے اس پتلے کا غرور خاک میں مل گیا۔ اس طرح اچانک پیدا ہونے والی گھمبیر صورت حال کو بھانپتے ہوئے گورنر صاحب نے بہتر حکمت عملی سے قصوری صاحب کی قلندرانہ شان کو تسلیم کرتے ہوئے معاملہ وہیں ختم کرا دیا۔

تحریک تحفظ ناموس رسالت:

رسول پاکؐ سے محبت ان کا سرمایہ تھا۔ چند برس پہلے جب یورپ کے بعض اخبارات میں جانِ ایمان حضور نبی مکرمؐ سے منسوب متنازعہ خاکے شائع کئے گئے تو علامہ قصوریؒ نے جامعہ نعیمیہ کے ناظم اعلیٰ علامہ ڈاکٹر سرفراز نعیمیؒ کے ساتھ مل کر اہل اسلام کے جذبات کا اظہار کرنے کے لئے ایک احتجاجی ریلی کا اہتمام کیا، جس میں تحفظ ناموس رسالت محاذ کے کنوینر علامہ رضائے مصطفی، حزب اختلاف کے صاحبزادہ مختار اشرف اور انجینئر سلیم اللہ بھی شامل تھے۔

دربار حضرت گنج بخشؒ سے شروع ہونے والی یہ عدیم النظیر ریلی لاہور کی تاریخ کی بلا مبالغہ سب سے بڑی ریلی تھی، جس میں اپنے پیارے آقا و مولیٰؐ سے محبت کے اظہار کے لئے پورا لاہور سڑکوں پر اُمڈ آیا تھا۔ ملکی سیاسی قیادت جلاوطن تھی۔ جنرل پرویز مشرف کے حکم سے ریلی کے تمام قائدین پر مقدمات قائم کئے گئے اور دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کر لی گئیں۔ ان کی جانوں کو براہِ راست حکومتی فورس سے خطرہ تھا، اس لئے قائدین دو تین ہفتے روپوش ہوگئے۔ اس ریلی کے سلسلے میں خواجہ سعد رفیق اور سید زعیم حسین قادری کو بھی سہولت کار قرار دے کر گرفتار کر لیا گیا تھا۔ دین اور تحفظ ناموس رسالتؐ کا مسئلہ سامنے آتا تو قصوری صاحب فوراََ میدان عمل میں ہوتے۔ علامہ احمد علی قصوریؒ ، تحفظ ناموس مصطفی اور شعائر اسلام کے تحفظ کے لئے زندگی بھر ایک مجاہد کی طرح سر بکف رہے:

مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم

تونے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کئے

مزید : کالم