پشاور میں ڈینگی بخار کی و با

پشاور میں ڈینگی بخار کی و با

پشاور میں ڈینگی نے وبا کی شکل اختیار کر لی ہے،ڈینگی بخار سے سات افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد900 کے قریب پہنچ گئی ہے جس کی وجہ سے ہسپتالوں میں گنجائش ختم ہو گئی ہے،جس کی وجہ سے مریضوں کو واپس بھیجا جانے لگا ہے، تہکال میں وبا کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں ’’گو عمران گو‘‘ اور ’’گو خٹک گو‘‘ کے نعرے لگائے گئے۔ ضلعی انتظامیہ کی آگاہی مہم بھی بدنظمی کا شکار ہو گئی ہے، شدید نعرے بازی کے باعث ناظم اور دیگر حکام تقریب ادھوری چھوڑ کر چلے گئے،لوگوں نے وزیراعلیٰ شہباز شریف سے مدد مانگ لی،خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں اب تک4900 سے زائد مریضوں کی سکریننگ کے بعد831 افراد میں مرض کی تشخیص ہو چکی ہے،ہسپتال میں ڈینگی بخار سے اب تک سات افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں تین مریضوں اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں34مریضوں کو داخل کیا گیا، تہکال پایاں کے ناظم گوہر زمان نے کہا ہے کہ ڈینگی وبائی شکل اختیار کر چکا ہے جبکہ دوسری طرف ضلعی انتظامیہ کے اقدامات فوٹو سیشن تک محدود ہیں۔

ڈینگی بخار کی جس وبا کا اِس وقت خیبرپختونخوا کو سامنا ہے پنجاب اِس صورتِ حال سے بہت پہلے دوچار ہو چکا ہے، بہت سے لوگ بخار سے ہلاک ہو گئے تھے اور ہزاروں متاثر ہوئے تھے، اس وقت حکومتِ پنجاب نے جنگی بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے بروقت اقدامات کئے، وبا کا زیادہ زور لاہور میں تھا اِس لئے لاہور پر توجہ مرکوز رکھی گئی نہ صرف ہسپتالوں میں علاج پر توجہ دی گئی، بلکہ ڈینگی لاروا اور مچھر تباہ کرنے کے لئے وسیع پیمانے پر سپرے بھی کئے گئے اور گھر گھر مہم کے دوران لوگوں کو باخبر کیا گیا کہ وہ اپنے گھروں میں پانی کھڑا نہ ہونے دیں اور ماحول کو خشک اور صاف رکھیں،سری لنکا سے بھی ماہرین بلائے گئے تھے جو پنجاب حکومت کے اقدامات سے حیران رہ گئے،کیونکہ اُن کا کہنا تھا کہ سری لنکا میں جب یہ وبا پھیلی تو قابو پانے میں کئی برس لگ گئے تھے،لیکن پنجاب نے جلد ہی اس پر قابو پا لیا اپنے اس تجربے کی روشنی میں وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کو فون کیا اور اُنہیں ہر طرح کے تعاون کی پیشکش کی،ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کی خدمات ان کے حوالے کرنے کے لئے کہا ہے اگر صوبائی حکومت کو اُن کی خدمات کی ضرورت محسوس ہوئی تو اس سے فائدہ اُٹھا لے گی اور اگر وہ سمجھتی ہے کہ وہ خود ہر قسم کے اطمینان بخش اقدامات کر سکتی ہے اور کسی دوسرے کی مدد کی ضرورت نہیں ہے تو اس کی مرضی ہے،لیکن یہاں پر ہزاروں مریضوں کو سنبھالنا آسان کام نہیں اِس لئے بہتر ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت پنجاب کی پیشکش کا فائدہ اُٹھا لے۔

مزید : اداریہ