بحران سے نکالنے کی کنجی کس کے پاس ہے؟

بحران سے نکالنے کی کنجی کس کے پاس ہے؟
 بحران سے نکالنے کی کنجی کس کے پاس ہے؟

  

سیاست کا منظر نامہ اطمینان بخش نہیں ہے، تیزی سے بدلتے ہوئے مناظر نے خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔ ہوش کے ساتھ کام نہ لیا گیا تو جمہوریت کسی گرداب میں پھنس جائے گی، سیاسی قوتیں اس وقت بالکل تقسیم نظر آتی ہیں۔ پارلیمینٹ بالکل بے اثر ہو کر رہ گئی ہے۔ واضح طور پر نظر آ رہا ہے کہ نوازشریف کی نا اہلی کے بعد مسلم لیگ (ن) کھل کر میدان میں آ گئی ہے اور اس فیصلے کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔ پرویز رشید کی باتیں در حقیقت اس امر کا بھی اظہار ہیں کہ مسلم لیگ (ن) اب مفاہمت کی کوئی بات سننے کو تیار نہیں۔ چودھری نثار علی خان پر چھرا گھونپنے کا الزام کوئی معمولی بات نہیں، اس کا کھلا مطلب یہ ہے کہ اس وقت مسلم لیگ (ن) کی جو لڑائی جاری ہے، اُس میں اگر کوئی مفاہمت کی بات کرتا ہے تو اسے غدار سمجھا جائے گا۔ جو باتیں نوازشریف جی ٹی روڈ پر اپنی تقاریر میں نہیں کر سکے تھے، وہ پرویز رشید کی زبان سے کہلوا دی گئی ہیں۔ چودھری نثار علی خان نے اُن کی باتوں پر جواباً یہ کہا کہ وہ صاف صاف بتائیں سازش کس نے کی، تاہم چودھری نثار علی خان بھی تو بہت سی باتیں چھپائے ہوئے ہیں، انہوں نے پریس کانفرنسوں کا بار بار التوا کر کے خواہ مخواہ ایک سنسنی خیزی پیدا کی، لیکن کوئی انکشاف نہ کر سکے....... خیر یہ تو مسلم لیگ (ن) کے اندر کا معاملہ ہے، البتہ جو لڑائی وہ باہر لڑ رہی ہے، وہ بہت خطرناک ہے اور اس کی وجہ سے پورے نظام کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ہمارے خلاف بھی فیصلہ آیا تھا، ہم نے قبول کیا اور پانچ سال حکومت کی، مسلم لیگ (ن) فیصلہ کیوں تسلیم نہیں کر رہی؟ اس کا جواب بڑا سادہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے خلاف فیصلہ آیا تھا تو یوسف رضا گیلانی وزارتِ عظمیٰ سے فارغ ہوئے تھے، آصف علی زرداری نہیں، مسلم لیگ (ن) کے خلاف فیصلہ آیا ہے تو نوازشریف کو گھر بھیجا گیا ہے، جو پارٹی کے قائد ہیں اور انہی کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) مجتمع ہے، اس لئے یہ فیصلہ انہیں ہضم نہیں ہو رہا۔ خود آصف علی زرداری اسی فیصلے کی بنیاد پر تو کہتے ہیں کہ مستقبل کی سیاست میں مسلم لیگ (ن) کا کوئی کردار نظر نہیں آتا۔

ہم اپنے نظام کی اصلاح کرتے کرتے آگے تو بڑھ گئے ہیں، مگر یہ نہیں سوچا کہ ہمارے رویئے اگر تبدیل نہ ہوئے تو ڈیڈ لاک کی صورت میں کیا ہوگا۔ جب صدر کے پاس 58/B-2 کا اختیار ہوتا تھا تو پریشر ککر سے بھاپ نکلنے کا ایک راستہ موجود تھا۔ سیاسی جماعتیں بھی خوفزدہ رہتی تھیں کہ معاملات اگر پوائنٹ آف نو ریٹرن تک چلے گئے تو صدر یہ اختیار استعمال کر کے اسمبلیوں کو برخاست کر دے گا۔ اب ایسا کوئی راستہ موجود نہیں، سب کچھ سیاسی قوتوں ہی نے کرنا ہے، حتیٰ کہ سپریم کورٹ بھی دوبار وزرائے اعظم تو گھر بھیج چکی ہے، تاہم اسمبلی کو کچھ نہیں کہا گیا۔ پیپلزپارٹی نے تو وزیر اعظم کی نا اہلی کا فیصلہ قبول کر کے باقی ماندہ مدت پوری کر لی تھی، لیکن نوازشریف اور ان کی جماعت تو یہ فیصلہ قبول کرنے کو تیار نہیں۔ نوازشریف تو اپنے جلسوں اور ریلیوں میں عوام سے یہی فیصلہ لے رہے ہیں کہ انہیں گھر بھیجنے کا فیصلہ نا قابل قبول ہے، پھر ساتھ ہی انہوں نے اپنے خلاف احتساب کی کارروائی کو بھی مسترد کر دیا ہے گویا نوازشریف کی حکمتِ عملی یہ ہے کہ جس انقلاب کی انہوں نے بات کی ہے، اسے سول نافرمانی جیسی صورتِ حال پیدا کر کے کامیاب بنایا جائے۔ ماضی میں فوج ایسے مواقع پر مداخلت کر کے حالات کو سنبھالتی تھی یا پھر جمہوریت کی بساط لپیٹ کر خود صاحبِ اقتدار بن جاتی تھی۔ نوازشریف کی نااہلی کے بعد فوج کے لئے یہ تو ممکن نہیں رہا کہ وہ دباؤ ڈال کر نوازشریف کو یہ فیصلہ قبول کرنے پر آمادہ کرلے، البتہ دوسرا آپشن کھلا ہے کہ وہ ماضی کی طرح غیر آئینی طریقے سے اقتدار پر قبضہ کر کے کسی نئے سیاسی تجربے کا آغاز کرے، لیکن فوج ایسا کیوں کرے گی؟ گزشتہ دس برسوں کی ریاضت کے بعد فوج نے اپنا آئین اور جمہوریت دوست جو امیج بنایا ہے، وہ اسے کیوں بگاڑنا چاہے گی؟

سو اس وقت ڈور کچھ ایسی اُلجھ چکی ہے کہ اس کا سرامل نہیں رہا۔ دیکھا جائے تو ڈور کا سرا اب نواز شریف کے ہاتھوں میں ہے، وہ اگر مدبرانہ کردار ادا کرتے ہیں اور حالات کوخطرناک موڑ کی طرف جانے سے روک لیتے ہیں، تو یہ ان کی بہت بڑی سیاسی کامیابی ہوگی۔ ان کے پاس دو راستے ہیں، یا تو شدید مزاحمت کا راستہ اختیار کرکے اسٹیبلشمنٹ کو مجبور کردیں کہ ان کے خلاف نیب کیسوں پر کارروائی روک دی جائے اور نااہلی کے فیصلے پر بھی نظرثانی کی جائے۔ اس راستے کو اختیار کرنے میں سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ کہیں جمہوریت کی بساط ہی نہ لپیٹ دی جائے! دوسرا راستہ قانونی دفاع کا ہے، جسے سیاسی رنگ دیا جائے، جس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ نواز شریف کھل کر جمہوریت کے استحکام کے لئے دوسری جماعتوں سے رابطے کرسکیں گے۔ اب تو انہیں سیاسی تنہائی کا سامنا ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ سپریم کورٹ فیصلے کے خلاف موقف اپنائے ہوئے ہیں، جو دیگر سیاسی قوتوں، حتیٰ کہ پیپلز پارٹی کے لئے بھی قابل قبول نہیں، حالانکہ وہ ہر مشکل وقت میں نواز شریف کا ساتھ دیتی رہی ہے۔

میاں نواز شریف کو یہ بات کوئی سمجھانے والا نہیں کہ جس ماحول میں آپ انقلاب کے خواب دیکھ رہے ہیں، وہ کسی انقلاب کے لئے سازگار نہیں۔ کسی بڑے انقلاب کے لئے آپ کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ہیں، آپ کی مرکز اور صوبوں میں حکومتیں ہیں، انقلاب کی باتیں کرکے تو آپ انہیں مشکل میں ڈال رہے ہیں۔ اسلام آباد سے لاہور تک کے سفر میں پوری حکومتی مشینری باقی سب معاملات چھوڑ کر اسی کے لئے وقف ہو کر رہ گئی۔ رفتہ رفتہ یہ واضح ہوتا جارہا ہے کہ نواز شریف کی ساری جدوجہد صرف اپنے خاندان کو احتساب سے بچانے کے لئے ہے۔ ایک بڑے لیڈر کے لئے پیدا ہونے والا یہ تاثر اس کے لئے سب سے بڑا نقصان ہوتا ہے۔ فرض کریں اس راستے سے نوازشریف اپنے خلاف فیصلے بدلوانے میں کامیاب بھی رہتے ہیں تو کیا وہ مسٹر کلین کا درجہ حاصل کرسکیں گے؟ اس کے لئے تو انہیں قانون کے سامنے پیش ہوکر اپنی شفافیت ثابت کرنا ہوگی۔ بالفرض وہ شفافیت ثابت نہیں بھی ہوتی، تب بھی ان کا یہ مثبت تاثر اُبھرے گا کہ انہوں نے قومی اداروں کو تسلیم کیا اور ان کے سامنے خود کو پیش کیا۔ یہ بات اس سے کئی درجے بہتر ہوگی کہ قانون کو بے توقیر کرکے اپنے لئے ریلیف کی راہ نکالی جائے۔

مزید : کالم