تجزیہ نگاروں کی خواہشیں کیا تاریخ بدلنے جا رہی ہیں؟

تجزیہ نگاروں کی خواہشیں کیا تاریخ بدلنے جا رہی ہیں؟
 تجزیہ نگاروں کی خواہشیں کیا تاریخ بدلنے جا رہی ہیں؟

  

وہ تجزیہ نگار جن کی ذاتی حیثیت میں کوئی ایک کالمی خبر بھی نہ لگائے، فیصلے صادر کر چکے، ان کے چینل ہی نہیں وہ خود بھی اپنی کمزوریوں کے ساتھ پارٹی پوزیشن لے چکے۔۔۔تین دہائیوں سے تو میں بھی یہ کھیل دیکھ رہا ہوں،یہ کبھی بھی قابل قبول طرز عمل نہ تھا۔کبھی کوئی سب ایڈیٹر غلطی سے کسی غیر اہم بندے کی پریس ریلیز شائع کردیتا تو پورا دن نیوز روم میں نکو بنا رہتا ،جو کوئی رپورٹر اس کی وجہ بنتا تو اس پر نگاہ رکھی جاتی ،ایسے کسی بندے کی تصویر پریس ریلیز کے ساتھ چھپ جاتی تو باقاعدہ مذاق اڑایا جاتا، کسی سماجی تقریب یا پروگرام میں یا کسی سیاسی جلسے جلوس میں دوسرے تیسرے درجے کے لیڈر کی تصویر نمایاں ہوجاتی تو نیوز ایڈیٹر بھی باخبر ہوتا کہ اب کے سب ایڈیٹر نے نہیں کیمرہ مین نے پیسے پکڑے ہیں۔ ایک کالمی خبر بھی نیوز ایڈیٹر کی اجازت سے ہی جگہ پاسکتی تھی، ہاں کبھی کبھی شعبہ اشتہارات والے اصرا ر کرتے کہ ہمارا کلائینٹ ہے،ابلائج کرنا ہے تو ایسی خود ساختہ پریس ریلیزکسی اندر کے صفحے پر جگہ پاتی۔ جائزہ میٹنگ میں ایسا تواتر سے ہونے پرایڈیٹر، نیوز ایڈیٹر کو چیف ایڈیٹر بھی کچھ کہے بغیر بہت کچھ کہہ دیتے ، اس کے بعدکئی روز چین رہتا ،یہاں تک کہ کوئی بے چین سیاسی عزائم رکھنے والی روح تعلقات کے استعمال کا ڈول دوبارہ ڈال دیتی اور پریس ریلیز بھجوا کر اپنی خبر لگوا لیتی ،یہ ممکن ہی نہ تھا کہ کبھی کوئی شخصی پریس ریلیز کسی مرکزی توجہ کا مرکز بن سکتی،زیادہ جگہ لے پاتی یا مرکزی کہانی بن پاتی، یہ شوقیہ فنکار ہی سمجھے جاتے، ان کی آرا کبھی سنجیدگی سے نہ لی جاتیں، یہ 2002ء تک کی بات ہے پھر کہانی بدل گئی ،کردار بدل گئے ۔

ٹی وی چینلز نے 2014ء تک آتے آتے پوری اخباری روایت ،تہذیب اور ترتیب ہی بدل ڈالی ۔اب ہر جگہ دیکھا دیکھی پرائم ٹا ئم میں ایک ایک پروگرام شروع ہوا جو سیاسی حالات حاضرہ پر ہوتا تھا ۔ابھی لائیو کا رواج عام نہیں تھا۔ یونیورسٹی سے پڑھے ہوئے لڑکے جو نہ نیوز میں رہے تھے نہ میگزین نے ان کی تربیت کی تھی ،خوش شکل تھے اور کہیں کہیں خوش فکر بھی۔وہ پروڈیوسر بنے ۔انہی کی عمر کا اینکر سامنے سکرین پر نظر آنے لگا ۔ انہیں خبر نہیں چیختی چنگاڑتی ہیڈ لائین کی ضرورت نے شوقیہ فنکاروں سے جا ملایا،وہ وہی کہنے اور کرنے لگے جو سکرین پر دیکھنے والے کو روک سکتا ،کچھ پروگراموں کی پروڈکشن کا میں خود گواہ ہوں۔ اینکر صاحبہ میک اپ کروا کر آئیں،اخبارات کی فائل، بات کرنے کے لئے خبریں ڈھونڈیں،نہ کسی پر تحقیق کی نہ جستجو،نہ فالو اپ نہ یہ خبر کہ تردید ہو چکی ہے نہ یہ علم ہوتا کہ تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔ اسسٹنٹ پروڈیو سر اپنے پاس موجود نمبروں اور اپنی عمر کے لحاظ سے شناسائی والے ان سیاسی لیڈروں کو ٹیلی فون لائن پر لیتے، جنہیں کبھی سنگل کالم میں جگہ نہ ملتی تھی، اب ان کے ساتھ گفتگو سے پروگرام مکمل ہو جاتا اور اسی میں سے اخبار کی خبر بھی بننے لگی ،یہ ایک نئی قسم کی خبریت کا دور شروع ہو رہا تھا،اس خبر کا منہ ہاتھ اپنی ضرورت اور مرضی کا دھلوایا جاتا اور اس کی سرخی اور بنت بھی ساری کی ساری ضرورت اور مرضی کی ہوتی اور کہنے والے کو کوئی اعتراض بھی نہ ہو تا ۔یہ سارے پروگرام ریکارڈڈ ہوتے،پھر وہ زمانہ آگیا جس کو ہم اور آپ مسلسل د یکھ اور بھگت رہے ہیں ۔ چینلز نے اپنی سیاسی وابستگی ظاہر کر دی اور باقاعدہ پوزیشنز لے لیں ،تبصرہ نگار ،تبصرہ نگار نہ رہے بلکہ کسی نہ کسی پارٹی کے میمنہ ،میسرہ [دائیں اور بائیں اطراف کھڑے لڑنے والے تربیت یافتہ لوگ] یہاں تک کہ ہراول دستے بن گئے۔

پروگرام میں ایک ساتھ کئی کئی ایسے ماہرین آنے لگے جن کی پریس ریلیز بھی شائع نہ ہوا کرتی تھی ، کہیں چینل کی ،کہیں پروڈیوسر کی اور کہیں اینکر کی لائن لی جانے لگی کہ اس سے ریٹنگ آئے گی، وہ جس جس کو بلائے گا بیپر پر لے گا، ٹیلی فون پر بات کرے گا یا ریکارڈنگ کا حصہ بنائے گا وہ عام طور پر درجہ دوم سوم کی وہ قیادت ہوتی جس کی پریس ریلیز کوئی نو آموز سب ایڈ یٹر بھی پوری بے دردی سے اٹھا کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا کرتا تھا ،الیکٹرونک میڈیا نے بد لحاظ ،زبان درازمہمانوں کی چاندی کرا دی ،یہاں تک کہ ازکار رفتہ صحافتی کارکنوں نے بھی یہی وطیرہ اختیار کر لیا اور انہیں لگنے لگا کہ جو وہ بولتے ہیں وہ قول فیصل ہے وہی عوام کے نبض شناس بن بیٹھے جن سے انہیں کم ہی علاقہ رہا تھا ، ،ان کی یہ غلط فہمی دھیرے دھیرے عادت میں بدل گئی،یہاں تک کہ 2017ء آگیا۔ایک مقبول سیاسی پارٹی نے ہر اس شخص کو اپنا ترجمان بنانا شروع کردیا جو دوسرے سے زیادہ بد تمیزی اور بد تہذیبی کر سکتا تھا۔ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا ۔اب عالم یہ ہے کہ نیا نیا شامل ہونے والا چوتھا بغیر ترجمان بنے اپنی الیکٹرونک پریس ریلیز لئے کالی عینک لگا کر خود سے ہی اسمبلیاں توڑنے اور اپنی مخالف سیاسی جماعت کو کالعدم کرانے اور اپنی پارٹی سے180 ڈگری برعکس بیان دینے لگ گیا ہے چونکہ چینل پر چل جاتا ہے، پارٹی بھی خاموش ہے یہ جانے بنا کہ ان جملوں لفظوں سے اسے کولیٹرل ڈیمج کس قدر ہو رہا ہے ،اس نقصان سے بے خبر دوسری پارٹی نے بھی چن کر ایسے ہیرے موتی نکالے جن کی زبان عام زبانوں سے دو ڈھائی گنازیادہ دراز تھی ،ان میں کوئی تو اپنی زبان دانی اور لاؤڈ ایکسپریشن کے ساتھ جملہ کہہ کریوں زیر لب مسکراتا جیسے سلطان راہی کسی مرے ہوئے دشمن کی لاش پر پاؤں رکھ کر دھاڑتا تھا ۔

ماہرین کے نام پر پروان چڑھی اس مخلوق میں سابق صحافی،سابق بیوروکریٹ،سابق سیاست دان ،سابق دفاعی کا رکن ،رائے کے نام پر تلوار بازی کرنے والے سیاسی کارندے سبھی شامل ہوتے گئے۔انہیں ایک ہی گر آتا تھا، پاپولر سینٹی منٹ کے ساتھ چلنا اور اس کے پردے میں کھیلنا ۔انہوں نے عوام سے زیادہ اداروں کو متاثر کیا ۔ان کے تاثرات عدالتوں تک گئے اور وہاں ان کی زبان، لہجے اور جملے دلائل کے طور پر جمع ہونے لگے ۔وہ عدالتیں جو بے تحقیق آرٹیکلز اور کتابوں کو پکوڑے بیچنے والی ردی سمجھتی تھیں وہیں پر اس لب و لہجہ نے جگہ پالی اور ان کے دلائل نے بھی،آج عالم یہ ہے کوئی چینل لگا لیں ،بولنے والا نیوز کاسٹر نہ ہو تو اگلے ہی لمحے آپ اس کے بے نیام الفاظ اور دلائل کی کاٹ سے اس کی پارٹی اور لائن کو سمجھ لیں گے،ان کی زبان کو کوئی اینکر ،کوئی پروڈیوسر نہیں روک سکتا،کیونکہ اب تو گاہے یہ میزبان پر بھی بھاری پڑنے لگے ہیں ،اس سے زیادہ دکھ اس بات کا ہے کہ محبت ،تمیز ،تہذیب اورسماجی طور پر سلجھے لوگ بھی اپنے تبصروں میں اتنے ہی لاؤڈ ہو گئے ہیں کہ کسی جگہ چار منٹ سیاست پر سلیقے سے بات کرنے کی گنجائش ہی ختم ہو گئی ہے۔ اب تجزیہ نہیں ہوتا فیصلہ سنایا جاتا ہے ، ثبوت اور حوالہ نہیں صرف دل میں آیا خیال بھی ایک الزام اور ثبوت کی شکل میں ڈھل جاتا ہے، آپ کی طرح میں بھی جانتا ہوں کہ زبانوں پر اب یہ بند نہیں باندھا جا سکے گا ۔بات ،اصول اور دلیل سے نکل کر کاٹ ،آزار اور زخم دینے تک پہنچ گئی ہے ۔نااہلی کے عدالتی فیصلے کے بعدا یسے سبھی تبصرہ نگارتوقع کررہے تھے کہ نواز شریف اور مسلم لیگ دونوں ڈھے جا ئیں گے۔حد یہ ہے کہ ایک چینل کے نیوز ایڈیٹر نے کہا اس فیصلے کے بعد انہیں منہ چھپا کر کہیں بیٹھ جانا چاہیے ۔یہ ریلی نکال رہے ہیں ۔وہ گھنٹوں خالی سڑکیں دکھاتے رہے یہاں تک کہ شام کو جب کوئی سڑک خالی نہ رہی تو وہ ایسے الزامات پر آگئے کہ لکھنا بھی مناسب نہیں ۔کچھ چینلز پر غصہ ور اینکر اور تجزیہ نگار پوچھتے رہے مجھے کیوں نکالا۔

ہماری سیاسی تاریخ کا مشاہدہ یہ بتاتا ہے کہ آنے وا لے کئی الیکشن اسی نواز شریف کے گرد گھومیں گے ،اس پر دس کیا بیس ریفرنس بھی آئے تب بھی وہ بادشاہ گر رہے گا ۔سیاسی موسموں کو بھانپنے والے سبھی پرندے ابھی تک اڑان بھرنے سے ڈر رہے ہیں،حد یہ ہے کہ کوئی ایک موسمی پرندہ بھی اڑ کر نہیں گیا حتیٰ کہ جو دوسرے گھونسلوں سے آئے تھے۔[ کیاچوہدری نثار پہلے بننے والے ہیں] پاکستان میں سیاسی حرکیات کے طالب علم یہ خوب جانتے ہیں مگر ناراض اینکرز اور اپنی ہی عینک سے دیکھنے والے تجزیہ نگاروں کو ٹھنڈے سٹوڈیوز میں بیٹھے یہ حقیقت نظر نہیں آرہی وہ صرف اتنی ہے کہ پاپولرسینٹی منٹس کا اثر آپ چاہیں نہ چاہیں عدلیہ پر ہی نہیں دوسروں اداروں پر بھی پڑتا ہے اور عوامی حمائت کا معاملہ یہ ہے کہ ایک حالیہ سروے بتا رہا ہے کہ حمائت کم ہونے کی بجائے بڑھ گئی ہے ، سوال یہ ہے کہ کیاآنے والے دنوں میں پاور بروکرز کے ساتھ معاملہ کرنے کا توازن بدل جائے گا ، یہ جلوس اور ریلی تو ڈیزائن ہی پاپولر سینٹی منٹس کی مدد سے پلڑااپنی طرف جھکانے کے لئے تھی ۔ہماری تاریخ میں کچھ باتیں بار بار ہوتی ہیں ،بھٹو صاحب کو اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر چھوڑنے والوں میں غلام مصطفےٰ جتوئی اور غلام مصطفےٰ کھر نے پارٹی تک الگ بنائی ، تہمینہ درانی اپنے بچوں سمیت لندن سے کھر صاحب کی نمائندگی کے لئے آئی تھیں ،ہم نے ٹھوکر نیاز بیگ پر وہ پارٹی بنتی اور دنوں میں بکھرتی خود دیکھی تھی مولانا کوثر نیازی ،حنیف رامے،معراج محمدخان،ڈاکٹر مبشر حسن اور پی پی کے کتنے ہی معروف لیڈرز تھے جن کا بھٹو سینٹی منٹس سے الگ ہو کر کوئی وجود رہا نہ نام۔کیا میاں صاحب کے معاملے میں بھی تاریخ اپنے آپ کو دہرائے گی یا ہمارے تجزیہ نگار جو چینل کی سکرین اور پارٹی لائن کے بغیر ایک کالمی خبر کا استحقاق بھی نہیں رکھتے، انہیں تاریخ کے گھاٹ اتار کر چین کی بانسری بجائیں گے ۔

مزید : کالم