بینکاری کے کلیدی شعبہ میں نتیجہ خیز اصلاحات کے فقدان ہے

بینکاری کے کلیدی شعبہ میں نتیجہ خیز اصلاحات کے فقدان ہے

اسلام آباد(کامرس ڈیسک)ایف پی سی سی آئی کی ریجنل کمیٹی برائے صنعت کے چئیرمین عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے بینکاری کے کلیدی شعبہ میں نتیجہ خیز اصلاحات کے فقدان کی وجہ سے یہ شعبہ معاشی ترقی میں اپنا کردار ادا نہیں کر رہے ہیں جبکہ انھیں ریگولیٹ کرنے والا ادارہ سٹیٹ بینک آف پاکستان بھی اس سلسلہ میں لائق تحسین کردار ادا نہیں کر رہا ہے۔ بینکوں کی جانب سے زرعی اور کمرشل قرضوں میں اضافہ کی رپورٹیں جاری اور شائع ہوتی رہتی ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ پچیس سال سے جی ڈی پی کے مقابلہ میں بینکوں کی جانب سے دئیے جانے والے قرضوں کے شرح مسلسل کم ہو رہی ہے جو ملکی ترقی کیلئے ضرر رساں ہے۔ عاطف اکرام شیخ نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ مرکزی بینک نے اصلاحات کے نام پر جو اقدامات کئے ہیں ان کے خاطر خواہ نتائج برامد نہیں ہوئے ہیں اس لئے اس ادارے کو اپنا طریقہ کار بدلنا ہو گا کیونکہ اس وقت بینکوں کی ترجیح ملک کے بیس بڑے کاروباری خاندان ہیں جبکہ قرضوں کا ستر فیصد کارپوریٹ سیکٹر کو مل رہا ہے اور زرعی قرضوں میں سے نوے فیصد سے زیادہ صرف ایک صوبے کو دئیے جا رہے ہیں جو استحصال ہے۔ عام کھاتہ داروں کو مسلسل منفی منافع دیا جا رہا ہے جس سے اس صنعت پر سے عوام کا اعتماد ختم ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بینک اپنی مصنوعات کی تعداد اور خدمات کا دائرہ بڑھا رہے ہیں مگر ابھی تک انکا کردار قابل تعریف نہیں ہے جسکی وجہ سے بہت سے تاجر وسرمایہ کار سود خوروں کے رحم و کرم پر رہتے ہیں کیونکہ ان سے قرضہ لینا انتہائی آسان ہوتا ہے ۔انھوں نے کہا کہ بینک جن شعبوں کو مسلسل نظر انداز کر رہے ہیں انھیں کاروبار کیلئے پر کشش بنایا جائے۔

اور ساتھ ہی بینکوں پر اس ضمن میں دباؤ بھی بڑھایا جائے۔ برانچ لیس بینکنگ کو بھرپور توجہ دی جائے تاکہ جن علاقوں تک بینکوں کی رسائی نہیں ہے وہاں کی عوام کو بھی بینکاری کی سہولت دی جا سکے جس سے صنعت، تجارت، زراعت اور بینکاری کے شعبوں میں انقلاب لایا جا سکتا ہے۔

مزید : کامرس