بڑی گیمز کے ساتھ علاقائی کھیلوں کو بھی فروغ دے رہے ہیں

بڑی گیمز کے ساتھ علاقائی کھیلوں کو بھی فروغ دے رہے ہیں

نیئر اقبال حکومت پنجاب کے ایک سینئر بیورو کریٹ ہیں۔ مختلف اہم اسامیوں پر اپنی مہارت کے جوہر دکھانے کے بعد اب محکمہ سپورٹس میں بطور سیکرٹری تعینات ہیں۔ اس محکمہ میں آثار قدیمہ، سیاحت اور امور نوجوانان کے محکمے بھی شامل ہیں۔ حکومت پنجاب کے دیگر اہم کاموں کے ساتھ ساتھ لوگوں کی صحت اور تفریح کی جانب توجہ کئے ہوئے ہیں۔ ایک صحت مند قوم کی تشکیل میں کھیل بے حد اہمیت رکھتے ہیں۔ توانا جسم صحت مند سوچ کو جنم دیتا ہے اور صحت مند سوچ ایک قوی معاشرے کی ضامن ہوتی ہے۔ پنجاب کھیلوں کا گھر ہے۔ آثار قدیمہ سے بَھرا پُرا ایک سیاحی مرکز بھی ہے۔ اس صوبہ کے نوجوان پاکستان کے معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور قومی مفادات کی سربلندی کے لئے پیش پیش ہیں۔ پنجاب میں کھیلوں کی صورتِ حال کے حوالے سے صوبہ کے سیکرٹری سپورٹس سے ایک نشست کا اہتمام کیا گیا، جس میں سیکرٹری سپورٹس پنجاب نیئر اقبال نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی ہدایت پر صوبہ پنجاب میں کھیلوں کے میدانوں کا جال بچھا رہے ہیں، کھیلوں کی ترقی کے لئے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن ، کھیلوں کی فیڈریشنیں اور سپورٹس ڈیپارٹمنٹ ایک پیج پر ہیں،زیر تعمیر منصوبوں کی تکمیل ہماری اولین ترجیح ہے جن کا افتتاح وزیراعلیٰ جلد کریں گے، رواں برس پنجاب گیمز کے بعدملکی تاریخ کے سب سے بڑے پروگرام ’پنجاب ٹیلنٹ ہنٹ‘کا آغاز وزیراعلیٰ پنجاب کر رہے ہیں جس میں تحصیل سے ڈویژن کی سطح تک باصلاحیت کھلاڑیوں کو منتخب کر کے بین الاقوامی معیار کی ٹریننگ فراہم کی جائے گی۔ روزنامہ ’’پاکستان‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے نیئر اقبال نے کہا کہ سابقہ دور میں سامنے آنے والے کرپشن کے کیس انٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کو بھیج دئیے ہیں جو ان پر محکمانہ کارروائی کرے گا ہمارے دور میں کرپشن کا تاحال کوئی کیس سامنے نہیں آیا اس حوالہ سے زیرو ٹالیرنس پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھیلوں کی فیڈریشنوں میں گروہ بندی سے کام کرنے میں خاصی مشکلات کا سامنا ہے۔

س: آپ کے پاس کس کس ڈیپارٹمنٹ کا چارج ہے۔

ج: عام طور پر لوگ ہمارے ڈیپارٹمنٹ کو سپورٹس ڈیپارٹمنٹ کے نام سے یاد کرتے ہیں، لیکن اس میں سپورٹس کیساتھ آرکیالوجی ،سیاحت اور یوتھ افیئرزبھی شامل ہیں اس کے علاوہ ہمارا ڈیپارٹمنٹ ہاسپیٹلٹی کو بھی ڈیل کرتا ہے اس طرح یہ بہت بڑا حجم بن جاتا ہے۔

س: آپ نے کب اس ڈیپارٹمنٹ کا چارج سنبھالا۔

ج: مجھے یہاں آئے ایک سال سے زائد عرصہ ہوا ہے ۔

س: کھیلوں کی ترقی کے لئے کیا اقدامات اٹھائے ہیں۔

ج: وزیراعلیٰ پنجاب کھیلوں میں بے حد دلچسپی لیتے ہیں، جس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ ماضی میں کھیلوں کا بجٹ ایک ارب روپے تھا جو رواں برس بڑھ کر ساڑھے آٹھ ارب تک پہنچ چکا ہے۔اس کے علاوہ یوتھ افیئرز کے لئے بھی کئی سکیمیں اور پراجیکٹ بنائے گئے ہیں، کیونکہ پاکستانی کی بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے ای روزگار سکیم کے ذریعے نوجوانوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے فری لانسنگ کی سکل ڈویلپ کرکے سیلف ایمپلائمنٹ کے قابل بنایا جارہا ہے اس منصوبے کے تحت مجموعی طور پر دس ہزار نوجوانوں کو ہنر مند بنایا جائے گا۔اس کے علاوہ انٹرشپ اور سکل ڈویلپمنٹ کے بھی کئی منصوبے جاری ہیں۔

س:آثار قدیمہ کے حوالہ سے کون سے منصوبے بنائے جارہے ہیں۔

ج:ہمارے پاس صوبہ پنجاب میں454 آرکیالوجی سائٹس ہیں اٹھارہویں ترمیم کے بعد یہ شعبہ بھی صوبائی حکومتوں کے پاس ہے ان کا انتظام و اصرام بھی ہماری حکومت دیکھ رہی ہے۔ ان سائٹس میں ہڑپہ، ٹیکسلاسمیت اہم نوعیت کی سائٹس بھی شامل ہیں۔

س: سپورٹس بجٹ کے حجم سے مطمئن ہیں۔

ج: پنجاب کی آبادی دس کروڑ تک پہنچ گئی ہے،جس کے مطابق بجٹ کو کافی قرار نہیں دیا جا سکتا، لیکن ہماری کپیسٹی کے مطابق حکومت نے اس میں خاصا اضافہ کیا ہے اگر اسی طرح اضافہ ہوتا رہا تو ہمارا انفراسٹرکچر خاصا بہتر ہوجائے گااس وقت ہمارے پاس ایک ہزار گراؤنڈز موجود ہیں،لیکن میرے نزدیک صرف تعدادکا بڑھنا کافی نہیں اس کا معیار بھی بہتر ہونا چاہئے۔ہمارا فوکس فسیلٹی بنانا نہیں اُنہیں ان کے معیار کو برقرار رکھنا بھی ہے پہلے سے موجود گراؤنڈز کو بہتر بنانا اور ان میں ماڈرن دور کے مطابق سہولیات کو شامل کرنا بھی ضروری ہے جس طرح نئی آسٹرٹرف اور فلڈ لائٹس وغیر کی تنصیب بھی ضروری ہے۔

س: منصوبوں کی تیزی سے تکمیل کے لئے کیا اقدامات کر رہے ہیں۔

ج: رواں برس سے قبل ہم منصوبوں کی تکمیل کے لئے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے مرہون منت تھے، لیکن وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر سپورٹس ڈیپارٹمنٹ کا اپنا انجینئرنگ ونگ قائم کیا گیا ہے، جس کے لئے خاصا سٹاف اور دیگر تکنیکی امور درکار تھے جو مختصر وقت میں ممکن نہ تھا لہذانئے پراجیکٹس کے لئے فوری طور پر پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ قائم کیا گیا جس میں سی اینڈ ڈبلیو کے انجینئرز اور سٹاف کی خدمات ڈیپوٹیشن پر حاصل کی گئیں ہیں جس سے ہمارے ڈیپارٹمنٹ پر اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔انجینئرنگ کے حوالہ سے سپورٹس پہلا ڈیپارٹمنٹ ہے جس کے لئے پی ایم یو قائم کیا گیا۔

س۔ پی ایم یو کے قیام سے کیا فوائد حاصل ہوں گے۔

ج۔اس کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ بہت سے پراجیکٹ تاخیر کا شکار تھے زیادہ تر منصوبے تقریباً مکمل تھے، لیکن چھوٹی چھوٹی چیزیں نہ ہونے کی وجہ سے منصوبے لٹک جاتے تھے جو میرے لئے کافی پریشانی کا باعث تھا لہٰذا ہم نے فیصلہ کیا کہ پہلے سے زیر تعمیر منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔

س: نشتر پارک میں زیر تعمیر سوئمنگ پول کے افتتاح کی کئی مرتبہ تاریخ دی گئی لیکن ابھی تک اس کا آغاز نہیں ہوسکا اس کی کیا وجہ ہے۔

ج: میں نے عہدہ سنباالا تو سوئمنگ پول کا افتتاح میرے لئے پہلا چیلنج تھا جس پر کروڑوں ر وپے خرچ ہوچکے تھے لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہورہا تھا تاہم اب ہم نے اس کی پری لانچنگ کردی ہے جہاں انگلینڈ سے آئے ٹاپ لیول کوچ بچوں کو تربیت دے رہے ہیں۔ سوئمنگ پول کے باقاعدہ افتتاح کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب سے وقت لیا ہے اس طرح ٹینس کمپلیکس اور پنجاب سٹیڈیم میں ٹارٹن ٹریک کی تنصیب بھی پنجاب گیمز سے قبل مکمل کرلی جائے گی۔

س: صوبے میں کھیل کے نئے میدانوں اور سوئمنگ پولز پراجیکٹ کی کچھ تفصیل بتائیے۔

ج: نشترپارک سپورٹس کمپلیکس لاہور میں 404.529ملین روپے کی لاگت سے بین الاقوامی معیار کا سوئمنگ پول تعمیر کر لیا گیا ہے جہاں تک صوبے میں کھیلوں کے میدانوں کی تعمیر کا سوال ہے اس کے لئے حکومت نے 864.049ملین کا بجٹ مختص کیا مختلف علاقوں میں 7 کھیل کے میدان مکمل کئے جاچکے ہیں، جبکہ مختلف اضلاع میں کل 22کھیلوں کے میدان تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے، جن میں 7میدانوں میں فلڈ لائٹس کا بھی اہتمام ہوگا تاکہ نوجوان رات کے وقت بھی ان سے فائدہ اُٹھا سکیں۔

س: سپورٹس جمنیزیم کی تعمیر کا منصوبہ کہاں تک پہنچا۔

ج: صحت مندانہ سرگرمیوں کے فروغ کے لئے پنجاب کے مختلف علاقوں میں 50 سپورٹس جمنیزیم تعمیر کئے جارہے ہیں جن میں سے 32 جمنیزیم مکمل بھی ہوچکے ہیں۔

س: صوبے میں ای۔ لائبریریز کے حوالے سے پراجیکٹ کی کیا پیش رفت ہے۔

ج: ۔ ای ۔لائبریریز کا قیام وقت کا تقاضا اور صوبے میں فروغ تعلیم کے لئے انتہائی ضروری تھا جس کے لئے فیصلہ کیا گیا صوبے کے مختلف علاقوں میں 21ا ی ۔لائبریریز کا پراجیکٹ 1243.476 ملین روپے کی لاگت سے تکمیل کے قریب ہے۔ ان ای۔ لائبریریز کے ذریعے نوجوان کھلاڑیوں کو بین الاقوامی نوعیت کی تعلیم اور معلومات تک رسائی حاصل ہوگی یہ ای۔ لائبریریز اسی سال دسمبر تک مکمل ہو جائیں گی۔

س: سیکرٹری صاحب چیف منسٹر ای ۔ روزگار پروگرام کے بارے میں ہمارے قارئین کو بتائیے۔

ج: چیف منسٹر ای۔ روزگار پروجیکٹ کا مقصد صوبے کے نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں ہنر مند بنانا ہے تاکہ وہ فری لانسنگ میں اپنا مستقبل بنا سکیں۔اس پروگرام میں 10ہزار کے قریب نوجوانوں کو فری لانسنگ کی تربیت دی جائیگی۔ جس کا دورانیہ ساڑھے تین ماہ ہے اور اس پروگرام کی خاص بات یہ ہے کہ صوبے کے 36 اضلاع سے طالب علم میرٹ کی بنیاد پر منتخب ہوں گے اور انہیں اپنے اپنے اضلاع میں یہ فری لانسنگ تربیت ملے گی۔

س: یوتھ ایکسچینج پروگرام کیا ہے اور کن ممالک کے ساتھ یہ پروگرام شئیر کیا جائے گا۔

ج: بین الاصوبائی ہم آہنگی، تعلیم اور امن کے فروغ کے لئے شروع کئے جانیوالے اس منصوے کا تخمیہ 50ملین روپے ہے پروگرام میں پنجاب کے مختلف اضلاع سے نوجوانوں کو شفاف میرٹ سے منتخب کر کے مختلف صوبوں میں لے جایا جائے گا اور دوست ممالک ترکی اور چین کے ساتھ بھی پنجاب کے یہ منتخب نوجوان تفریحی ٹور کر سکیں گے۔

س: پاکستان خصوصاً پنجاب کی نوجوان آبادی کو مثبت ذہنی سوچ دینے کے لئے بھی کوئی منصوبہ ہے آپ کے ڈیپارٹمنٹ میں۔

ج: جی بالکل۔ پنجاب یوتھ موبلائزیشن پراجیکٹ ہمارے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے اس منصوبے کے ذریعے صوبے کے نوجوانوں کی نفسیاتی تعلیم معاشی اور صحت کے حوالے سے مثبت آگاہی اور تربیت کے امور ترتیب دئیے گئے ہیں اس میں نوجوانوں کی رہنمائی کے لئے مختلف فورمز پر مختلف پروگرام ہوں گے جیسے نوجوانوں کا فورم، نوجوانوں کا بین الاقوامی دن12اگست اور نوجوان رضاکاروں کا عالمی دن وغیرہ۔ اس طرح ہم مثبت سوچ کے ساتھ اپنے نوجوانوں کو متحرک اور سماج دوست بنانے کی نئی راہیں تلاش کرتے رہیں گے۔

س: پنجاب سپورٹس فیسٹیول اور پنجاب سپورٹس فیسٹیول صوبے اور ملک کی سطح پر بڑے ایونٹ تھے بعض حلقوں کی طرف سے ان پر تنقید بھی سامنے آئی ان فیسٹیول میں کیاخاص بات تھی۔

ج: پنجاب سپورٹس فیسٹیول بہت بڑا یونٹ تھا اس میں 12لاکھ سے زائد کھلاڑیوں کی رجسٹریشن ہوئی اور ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ یونین کونسل کی سطح پر کھلاڑیوں کے مقابلے کرائے گئے۔ صوبے کی 3464یونین کونسلز میں کرکٹ، بیڈمنٹن، فٹ بال، ہاکی، کبڈی، سائیکل ریس اور میراتھن مقابلے منعقد کرائے گئے اور جیتنے والوں میں 246000روپے کے انعامات بھی تقسیم کئے گئے، پھر ان مقابلوں کو ضلعی سطح پر ملاتے ہوئے صوبے 36اضلاع میں یہی مقابلے کرائے گئے اور پھر 936000روپے کے انعامات تقسیم کئے گئے پھر 9ڈویژن میں یہ مقابلے ہوئے اور خطیر 2473000روپے کے انعامات جیتنے والوں کو دیئے گئے۔اس فیسٹیول میں خواتین، فیملیز اور مردوں کے لئے الگ الگ میراتھنی ریس اور سائیکل ریس کے مقابلے بھی شامل تھے۔ جبکہ 2014ء کے یوتھ فیسٹیول میں 29ہزار سے زائد افراد کی جانب سے سب سے بڑا پرچم بنانے کا عالمی ریکارڈ بنا ،جبکہ پہلے دن 9 اور دوسرے دن 8 نئے گیمز ریکارڈ بنائے گئے۔ فیسٹیول کی خاص بات ان مشکل دِنوں میں افتتاحی تقریب میں14 ممالک کے سفیروں کی شرکت تھی۔

س: نیئر صاحب پنجاب انٹرنیشل سپورٹس فیسٹیول اور یوتھ انٹرن شپ پروگرام کے بارے میں بتایئے۔

ج: پنجاب انٹرنیشل سپورٹس فیسٹیول ایک بہت بڑا یونٹ تھا۔ اس میں 24ممالک یک 381 کھلاڑیوں نے شرکت کی جو کہ بہت بڑی اچیومنٹ تھی ہم صوبے میں یوتھ افیئرز کو اپنی ترجیحات بنا رہے ہیں اس لئے 2017-18ء کے بجٹ میں یوتھ افیئرز کے لئے ریکارڈ بجٹ 450 ملین روپے رکھا گیا ہے جہاں تک یوتھ انٹرن شپ کا سوال ہے اس منصوبے کی لاگت 1500ملین روپے تھی اور اس سے 50ہزار طالب علموں کو فائدہ پہنچا،جنہیں انٹرن شپ کی تین ماہ کی مدت میں ماہانہ دس ہزار وظیفہ اور متعلقہ شعبے میں تربیت ملی۔

س: سیکرٹری صاحب صوبے میں آرکیالوجی کا بجٹ اور ورثے کی بحالی سے کیا اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔

ج: دیکھیں جی ورثہ ہی ہماری پہچان ہے۔ اس سال ہم نے آرکیالوجی کے لئے 150ملین روپے کا بجٹ مختص کیا ہے، جبکہ بہت سی آرکیالوجی سائٹس کی بحالی پر کام جاری ہے جس میں قلعہ روہتاس کی بحالی اور تحفظ کا پراجیکٹ پر 203.558ملین روپے خرچ کئے جارہے ہیں ستمبر 2009ء سے جاری یہ منصوبہ 30جون 2019ء میں مکمل ہوگا۔ جبکہ شاہدرہ کمپلیکس لاہور کا بحالی اور تحفظ کا منصوبہ 232.455ملین روپے کی لاگت سے 30جون2019ء کو مکمل ہو گا۔ ہم ٹیکسلا سے سوات تک آرکیالوجی سائٹس کے تحفظ اور بحالی پر بھی کام کر رہے ہیں اس کے لئے 150.299ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ اور یہ منصوبہ 30جون 2018ء کو مکمل ہوجائے گا۔

س: صوبے میں سیاحت کے فروغ اور رکھے گئے بجٹ پر روشنی ڈالئے۔

ج: حکومت صوبے میں سیاحت کے فروغ کو بھی مشن بنا کر چل رہی ہے۔ اس سال ہم نے اس حوالے سے 380ملین روپے رکھے ہیں۔ ہم نے پنجاب خصوصاََ تاریخی شہر لاہور کی ثقافت کو اجاگر کرنے کے لئے سیاحی بس سروس کا شاندار منصوبہ شروع کیا جو کامیابی سے جاری ہے۔ 2015ء سے جاری یہ بس سروس سیاحوں کو لاہور کے مختلف اہم مقامات جن میں مغل اور انگریز دور کی تاریخی یادگاریں شامل ہیں۔ سیاحوں کی بڑھتی تعداد کے پیش نظر بسوں کی تعداد 2 سے بڑھا کر 5 کر دی گئی ہے۔ہم ان بسوں کے روٹس میں بھی اضافہ کر رہے ہیں۔ تاکہ سیاحوں کو لاہور کے ہر پہلو اور علاقے سے شناسائی ہوسکے۔ سیاحی بس کے علاوہ ہم مختلف علاقوں میں مختلف سیاحی پروگرام تشکیل دیتے ہیں۔

مری میں سفاری ٹرین کا آغاز اور پتریاٹہ چئیر لفٹ اور کیبل کار بھی سیاحت کے فروغ کے لئے ہمارے اہم منصوبے ہیں۔

س: وادی سوان کے ترقیاتی پروگرام کے بارے میں قارئین کو آگاہ کیجئے۔

ج: وادی سوان ہمارا خوبصورت علاقہ ہے اور یہاں سیاحت کے لئے پوٹینشل موجود ہے۔ ہم وادی سوان کبھیکھی اور اُجھالی ضلع خوشاب میں ایکوٹورارزم کی ترقی کے لئے بھی اہم اقدامات کر رہے ہیں۔ اس منصوبے کا تخمینہ 198.462ملین روپے ہے اس منصوبے کے تحت مسجد کی تعمیر کیفے ٹیریا، ریسٹورینٹ، تفریحی مقامات، برڈ واچنگ ٹاور اور ریسٹ ہاؤس کی تزئین و آرائش بھی شامل ہے۔

س: سیکرٹری صاحب صوبے میں کھیل کے فروغ کے لئے کئے جانے والے منصوبوں کے حوالے سے کچھ بتائیے۔

ج: صوبے میں اس حوالے سے کئی ایک اقدامات کئے جا رہے ہیں جن میں سب سے بڑا منصوبہ کھیلوں کے میدانوں میں اضافہ، خصوصاً کرکٹ گراؤنڈز کی تعمیر جن کے لئے 1493.384ملین روپے مختص کئے گئے جبکہ 90.750ملین روپے سے سپورٹس کمپلیکس بنانے کا منصوبہ بھی ہے لوکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت 319.440ملین روپے اور وزیراعظم سپورٹس ڈویلپمنٹ پروگرام کے 8.470ملین روپے سمیت نئی سپورٹس سکیموں کے لئے کل 5962.033ملین روپے خرچ کرنے کا منصوبہ ہے، جبکہ سپورٹس کے لئے جاری سکیموں کے لئے 9688.470ملین روپے خرچ کئے جا رہے ہیں۔

س: سیکرٹری صاحب سیاحت کے حوالے سے بھی صوبے میں کوئی نئی سکیمیں لاؤنچ کر رہے ہیں۔

ج: جی بالکل! صوبے میں سیاحت کے فروغ کے لئے کئی نئی سکیمیں تیار ہیں جو منظوری کے لئے بھیجی جارہی ہیں ان سکیموں میں پتریاٹہ چیئرلفٹ کی اپ گریڈیشن، بہتری، اُچھالی میں ٹورارزم ریسٹور انٹرٹینمنٹ پارک کی تعمیر، کالا باغ میاں والی میں ٹوارسٹ ریزورٹ اور تفریحی پارک کی تعمیر، ٹوارسٹ سروسز کی کیپیسٹی بلڈنگ، چولستان میں ڈیزرٹ ٹوارزم کے فروغ کے لئے فزیبلٹی سٹڈی قلعہ ڈرآوڑ میں ریزورٹ کی تعمیر کے علاوہ پنجاب میں انٹرنیشنل سیاحی میلوں کے قیام کے لئے ان منصوبوں کی منظوری سے صوبے میں سیاحت کے فروغ کے لئے نئی منزل کا نشان ملے گا۔

س: آرکیالوجی کے حوالے سے بھی کوئی نئی سکیمیں زیر غور ہیں۔

ج: جی بالکل! لوکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت بھیرہ سرگودھا میں سوری مسجد کی بحالی، بوریوالہ میں تاریخی لائبریری کی مسنگ فسیلیٹیز کی فراہمی کے لئے تجاویز منظوری کے لئے بھیجی جاچکی ہیں۔

س: پنجاب گیمز کی تیاریاں کن مراحل میں ہیں۔

ج: حکومت پنجاب اس میگا ایونٹ کے لئے اولمپک ایسوسی ایشن کو ہر ممکن تعاون فراہم کر رہی ہے تاکہ صوبے کے نوجوان اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھاسکیں۔

س: صوبے میں کون سے بڑے منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔

ج: راولپنڈی اور گوجرہ میں آسٹروٹرف کی تنصیب کا کام رکا ہوا تھا اس کے علاوہ کئی گراؤنڈز میں فلڈ لائٹس کی تنصیب کا کام بھی شروع ہورہا ہے یہ تمام منصوبے آئندہ برس کے اے ڈی پی میں شامل ہیں۔

س:کھیلوں کے گرتے ہوئے معیار کو بہتر بنانے کے لئے کیا اقدامات کئے جارہے ہیں۔

ج: سپورٹس ڈیپارٹمنٹ کا دوسرا کام پرموشن آف سپورٹس ہے جومختصر وقت میں ممکن نہیں ہے۔ ہم نے پرموشن کے حوالے سے کئی اقدامات اٹھائے ہیں،جس سے کھلاڑیوں کا سپورٹس ڈیپارٹمنٹ پر اعتماد بڑھا ہے۔ ہمیں ماضی کو دفن کر کے آگے بڑھنا ہے اور بڑی گیمز کے ساتھ ساتھ علاقائی کھیلوں کو بھی پرموٹ کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہیں۔کبڈی کے انٹرنیشنل ایونٹ کے لئے کوششیں جاری ہیں جس کے لئے امریکہ اور کینیڈا سمیت دیگر ممالک سے رابطے کر رہے ہیں۔

س: منصوبوں کی دیکھ بھال کے لئے کیا منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

ج: منصوبوں کی نگرانی کے لئے مینجمنٹ ماڈل کی تشکیل میری ترجیحات میں سرفہرست ہے، کیونکہ ہمارے کئی منصوبے تعمیر ہونے کے بعد خالی پڑے رہتے ہیں، کیونکہ وہاں مطلوبہ سٹاف دستیاب نہیں ہوتا۔ امید ہے آئندہ ایک ڈیڑھ ماہ میں مینجمنٹ ماڈل تیار ہوجائے گا اگر میں اپنی اس کوشش میں کامیاب رہا تو ذاتی طور پر خوشی ہوگی۔

س: فیڈریشنز کے ساتھ بہتر تعلقا ت کو کتنا ضروری سمجھتے ہیں۔

ج:سپورٹس ڈیپارٹمنٹ اور فیڈریشنز کے مابین خاصی مس انڈرسٹینڈنگ تھی جسے ختم کرکے اچھے تعلقات استوار کئے گئے ہیں مسئلہ فیڈریشنز کی باہمی چپقلش ہے، جس سے ہمیں خاصی مشکل پیش آرہی ہے تاہم ہماری کوشش ہے کہ ان مسائل کو حل کیا جائے اِس ضمن میں مختلف گروپس کو بٹھا کر معاملات درست کرائے گئے ہیں۔

س: سپورٹس ڈیپارٹمنٹ میں آنے کے بعد کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ج: جب مَیں نے اپنے عہدے کا چارج سنبھالا تو مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ کتنا بڑا ڈیپارٹمنٹ ہے پھر کھیلوں کی سیاست دیکھی تو حیران رہ گیا تاہم اب کافی معاملات سمجھ آگئے ہیں جن کے حل کے لئے بڑے فیصلے کرسکتا ہوں۔

س: سپورٹس ڈیپارٹمنٹ چھوٹے صوبوں کے ساتھ کیا تعاون کررہا ہے۔

ج: پنجاب تمام صوبوں کو کھیلوں کے فروغ میں تعاون فراہم کررہا ہے خصوصاً بلوچستان کے ساتھ ہمارے قریبی روابط ہیں، جنہیں نیشنل گیمز کے انعقاد کے لئے ہر ممکن مدد فراہم کی جارہی ہے۔

س: نشتر پارک میں سیوریج کا مسئلہ کافی عرصہ سے حل طلب ہے اس کے لئے کیا اقدامات کئے جارہے ہیں۔

ج: نشترپارک کے ڈیزائن میں خرابی کے باعث بارش کے پانی کا نکاس نہیں ہوپاتا اس حوالے سے متعلقہ ڈیپارٹمنٹ سے بات کرکے مسئلہ کا حل نکالنے کی کوشش کریں گے۔

س: نشتر پارک میں بارش کی وجہ سے کئی مسائل پیدا ہوتے ہیں آپ ان کے حل کے لئے کیا کرتے ہیں۔

ج: اس کے ڈیزائن میں ان ہیرر فالٹ ہے، جس کی وجہ سے جب بھی تھوڑی سی بھی بارش ہوتی ہے تو اس کے بعد مشکل ہوجاتا ہے کیوں ساری سڑکوں پر پانی کھڑا ہوجاتا ہے او ر پھر اس کے نکاس کا کوئی ذریعہ نہیں رکھا ہوا یہ نیچا ہے اور باقی علاقہ اس سے اوپرہے اس لئے پانی نیچے کی طرف آتا ہے انہوں نے کہا کہ ہم اس کی ایسسپنٹ کرواتے ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1