پاکستان کرکٹ ٹیم کو شخصی تنازعوں سے بچنا چاہئے

پاکستان کرکٹ ٹیم کو شخصی تنازعوں سے بچنا چاہئے

ناقص کارکردگی اور مسلسل ناکامیوں کے ایک طویل عرصے کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم نے چیمپئنز ٹرافی 2017ء جیت کر نیک نامی بالآخر کما ہی لی تھی لیکن اب ایسے تنازعوں نے پھر سر اُبھارنا شروع کر دیا ہے جو کسی بھی ٹیم کی ساکھ کو ضرر پہنچاتے ہیں۔کھیلوں میں لے دے کے کرکٹ ہی اب ایسا میدان ہے جس میں پاکستان نے اپنی عظمت کا جھنڈا ایک بار پھر بلند کیا ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کو عمر اکمل کے تنازع کو مثبت انداز میں حل کرنا ہو گا۔ بصورتِ دیگر ہماری کرکٹ ٹیم دوبارہ انہی جھنجھٹ میں اُلجھ جائے گی جو اس کا عالمگیر بدنامی کا باعث بنے گی۔جبکہ پی سی بی نے مڈل آرڈر بیٹسمین عمر اکمل کی جانب سے قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر پر بدکلامی اور ٹیم سے دانستہ باہر رکھنے کے الزامات کی سخت مذمت کی ہے۔ بورڈ نے عمر اکمل کے بیان کا سخت نوٹس لیا اور انہیں بھرپور جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمر اکمل کو کبھی بھی دانستہ ٹیم سے نہیں نکالا گیا۔پی سی بی کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ مکی آرتھر کے مختصر دورانیہ کے کرکٹ پلان میں عمر اکمل شامل تھے، لیکن ان کا فٹنس لیول ہی بہتر نہیں تھا۔ ان کو فٹنس بہتر کرنے کے لئے 7 مواقع دیے گئے لیکن وہ ناکام رہے۔ چیمپئنز ٹرافی اسکواڈ میں عمر اکمل کی شمولیت فٹنس ٹیسٹ کلیئر کرنے پر ہوئی لیکن انگلینڈ جا کر ان کا فٹنس معیار دوبارہ گر گیا۔ دورہ ویسٹ انڈیز سے قبل فٹنس بہتر بنانے کے لئے کہا گیا، لیکن لاہور میں ٹیسٹ کے دوران وہ ٹیسٹ کلیئر کرنے میں ناکام رہے۔پی سی بی نے عمر اکمل کو شوکاز نوٹس بھی جاری کیا ہے۔ پی سی بی کے مطابق ٹیم کے ٹرینر کسی بھی ایونٹ سے پہلے کھلاڑیوں کا فٹنس ٹیسٹ لیتے ہیں اور یہ پالیسی کا حصہ ہے، فٹنس ٹیسٹ میں مکمل ناکامی کے بعد عمر اکمل کو ٹیم سے باہر کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ پی سی بی نے کہا ہے کہ ہمیں ان کے بیان کا انتظار ہے امید ہے کہ وہ مزید بیانات ے گریز کریں گے۔ دوسری جانب عمر اکمل نے کہا ہے کہ ان کے خلاف سازش ہورہی ہے۔ انضمام الحق اور مشتاق احمد قران پر ہاتھ رکھ کر کہیں کہ مکی آرتھر نے گالیاں نہیں دیں۔میں معافی مانگ لوں گا۔ عمر اکمل نیاپنی توپوں کا رخ سلیکشن کمیٹی اور کوچ مکی آرتھر کی جانب موڑتے ہوئے کہا کہ ایک منصوبہ بندی کے تحت انہیں ٹیم سے باہر رکھا جارہا ہے۔ عمراکمل تنازع شدت اختیار کر تا جا رہا ہے۔ پی سی بی کی طرف شوکاز نوٹس کے بعد عمر اکمل کی نئی ٹویٹس نے جہاں نئی صورت حال پیدا کردی ہے وہیں سابق کرکٹر بھی میدان میں آگئے ہیں۔ فاسٹ بولر شعیب اختر کا کہنا ہے کہ عمر اکمل کا معاملہ ڈائیلاگ سے حل کرنے کی ضرورت ہے جبکہ عمر اکمل کو میدان میں اپنی کارکردگی سے ناقدین کو جواب دینا چاہئے۔عمر اکمل نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تمام تر توجہ کرکٹ پر ہے مگر انہیں ٹیم کے ساتھ وارم اپ کرنے یا نیٹ پریکٹس کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ایک سوال کہ اگر انہیں کرکٹ بورڈ بلائے اور مکی آرتھر سے ہاتھ ملانے کا کہے تواس کے جواب میں عمر اکمل کا کہنا تھا کہ انہیں اللہ اور پی سی بی پر مکمل بھروسہ ہے اور وہ کرکٹ بورڈ کے ہر فیصلے کو تسلیم کریں گے۔عمر اکمل نے پریس کانفرنس کے دوران الزام لگایا تھا کہ ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے انضمام الحق اور سینئر کھلاڑیوں کے سامنے انہیں ڈانٹا اور گالیاں دیں جبکہ سینئر پلیئرز نے انہیں ایسا کرنے سے نہیں روکا، وہ دیگر کھلاڑیوں کو بھی گالیاں دیتے رہتے ہیں، اور مجھے اکیڈمی آنے کی بجائے کلب کرکٹ کھیلنے کا کہا ہے۔ دوسری جانب مکی آرتھر نے عمر اکمل کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرکٹر غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں، کوچنگ سٹاف قانونی طور پر سنٹرل کنٹریکٹ والے پلیئرز کے ساتھ ہی کام کرنے کا مجاز ہے۔عمراکمل قومی ٹیم کے کوچ مکی آرتھر کے خلاف کھل کر میدان میں آ گئے ہیں اور ان پر گالیاں دینے کا الزام عائد کیا ہے جسے مکی آرتھر نے مسترد کر دیاہے۔مکی آرتھر نے عمر اکمل کو ڈانٹنے کا اعتراف کیا ہے تاہم گالیاں دینے کے الزام کو مسترد کر دیاہے ،مکی آرتھر نے جب عمر اکمل کو ڈانٹا تو اس وقت مشتاق احمد اور انضمام الحق بھی وہاں موجود تھے ،کوچ نے عمر اکمل کو مسلسل خراب کارکردگی پر ڈانٹ پلائی جس پر انضمام الحق نے ہیڈ کو چ کے اس اقدام کو سراہا۔دوسری جانب وسیم اکرم کا اس معاملے پر کہناتھا کہ کوچ کھلاڑیوں کو ڈانٹے گا نہیں تو کیا انہیں گو د میں بٹھائے گا۔نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے ہیڈ کوچ مشتاق احمد نے عمراکمل کی جانب سے مکی آرتھر پرگالیاں دینے کیالزامات کی تردید کردی۔ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہیڈ کوچ کی عمراکمل کے ساتھ گفتگوکے وقت میں بھی وہاں موجود تھا،مکی آرتھرنے کرکٹرکوبتایا کہ وہ 7 مرتبہ فٹنس ٹیسٹ میں ناکام ہو چکے ہیں، اس لیے فٹنس میں بہتری لانے کا کہا۔ اس موقع پر میں نے بھی عمر اکمل کو اپنی فٹنس اور پرفارمنس میں بہتری لانے کا مشورہ دیا تھا۔ عمر اکمل کی جانب سے ان الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ مکی آرتھر نے انہیں گالیاں دی ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1